پنچایتی راج کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

دان ویر اقدام کا آغاز؛ ہندوستان کی گرام پنچایتوں میں ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو فروغ دینے کی جانب اہم قدم


شہری ’میری پنچایت‘ ایپ کے ذریعے گرام پنچایتوں کو رضاکارانہ طور پر کمپیوٹر عطیہ کر سکیں گے

’’دان ویر شہریوں کو ڈیجیٹل انڈیا کی تعمیر میں فعال شراکت دار بناتا ہے‘‘: جناب وویک بھاردواج

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JUL 2026 7:55PM by PIB Delhi

ملک بھر کی گرام پنچایتوں کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے شہریوں کی شراکت پر مبنی اقدام ’’دان ویر‘‘ کا آج نئی دہلی میں وزارتِ پنچایتی راج کے سکریٹری جناب وویک بھاردواج نے آغاز کیا۔ دان ویر ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد نہ صرف گرام پنچایتوں میں کمپیوٹرز کی موجودہ کمی کو دور کرنا ہے بلکہ طویل مدت میں اسے ایک ایسے شہری شراکت داری پر مبنی نظام کے طور پر فروغ دینا ہے، جو مقامی اداروں کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہو۔ یہ ایک شفاف، مکمل طور پر ڈیجیٹل اور قابلِ تصدیق پلیٹ فارم ہے، جس کے ذریعے شہری اور مختلف ادارے ہندوستان کی گرام پنچایتوں کی شناخت شدہ تکنیکی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا تعاون پیش کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام معاشرے میں رضاکارانہ تعاون کے جذبے کو ادارہ جاتی شکل دیتا ہے اور زمینی سطح کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی معاونت کے لیے ایک منظم، جواب دہ اور آسان طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ وزارتِ پنچایتی راج کی جانب سے شروع کیے گئے اس اقدام کو نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی) اور ڈیجی ہاٹ کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔

اس اقدام کا آغاز کرتے ہوئے جناب وویک بھاردواج نے دان ویر کو ’’وکست بھارت‘‘ کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر گرام پنچایت ڈیجیٹل سہولیات سے لیس، باہم مربوط اور مستقبل کے تقاضوں کے لیے تیار ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام دنیا بھر میں موجود شہریوں کو اپنے آبائی علاقوں سے دوبارہ جڑنے اور اپنے آبائی گاؤں کی ترقی میں بامعنی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ زمینی سطح پر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کے تبدیلی لانے والے کردار پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرام پنچایت میں موجود کمپیوٹر اب محض ریکارڈ محفوظ کرنے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ تیز تر خدمات کی فراہمی، زیادہ شفافیت اور بہتر حکمرانی کو ممکن بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دان ویر کو محض عطیات جمع کرنے کی مہم کے طور پر نہیں بلکہ شراکت داری کے ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جو شہریوں اور اداروں کو مقامی خود حکمرانی کو مضبوط بنانے اور ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کے وژن کو آگے بڑھانے میں فعال شراکت دار بننے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

تقریب میں آندھرا پردیش اور مہاراشٹر سے شریک ریاستی عہدیداروں نے اس اقدام کو سراہا اور بتایا کہ ان کی متعلقہ ریاستوں میں متعدد شہریوں اور مخیر حضرات نے گرام پنچایتوں کو کمپیوٹر عطیہ کرکے تعاون کرنے میں پہلے ہی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتی سطح پر ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سے ملک میں عوامی خدمات کی فراہمی کی کارکردگی، شفافیت اور رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

اس موقع پر وزارتِ پنچایتی راج کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ مکتا شیکھر، جوائنٹ سکریٹری محترمہ پالکا ساہنی، ڈائریکٹر جناب وپل اجول کے علاوہ آندھرا پردیش اور مہاراشٹر کے محکمۂ پنچایتی راج کے سینئر عہدیداران بھی موجود تھے۔

دان ویر کے بار ے میں

دان ویرہندوستان میں رضاکارانہ عوامی تعاون کی طویل روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹیکنالوجی پر مبنی ایک ادارہ جاتی نظام متعارف کراتا ہے، جس کا مقصد اعتماد، شفافیت اور عوامی شرکت کو مزید آسان بنانا ہے۔ ماضی میں رضاکارانہ تعاون کے مختلف ماڈلز سے حاصل شدہ تجربات کی بنیاد پر اس اقدام میں اداروں کی تصدیق شدہ ضروریات، معیاری تعاون کے اختیارات، مکمل ڈیجیٹل نگرانی اور براہِ راست ترسیل کو شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہریوں کو سرکاری اداروں کو مضبوط بنانے میں حصہ لینے کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور معیاری نظام فراہم کیا گیا ہے۔گیو بیک ٹو یور ولیج (اپنے گاؤں کو واپس دیں) کے نعرے کے ساتھ شروع کیا گیا دان ویر مکمل طور پر رضاکارانہ اقدام ہے۔ یہ سہولت ’میری پنچایت‘ موبائل ایپ کے ذریعے دستیاب ہے، جس کے تحت افراد اور ادارے اہل گرام پنچایتوں کو معیاری اور معیار سے تصدیق شدہ کمپیوٹر بنڈلز براہِ راست فراہم کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کے تحت میری پنچایت ایپ کو ’ڈیجی ہاٹ‘ مارکیٹ پلیس کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جہاں عطیہ دہندگان ریاست کے مخصوص تکنیکی معیارات کے مطابق پہلے سے منظور شدہ کمپیوٹر بنڈلز میں سے اپنی پسند کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ترسیل سے متعلق تفصیلات خودکار طور پر درج ہو جاتی ہیں، جس سے اضافی کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں رہتی۔ عطیہ دہندگان اپنے تعاون کی روانگی سے تنصیب تک مکمل نگرانی بھی کر سکتے ہیں اور ان کے تعاون کے اعتراف میں انہیں ڈیجیٹل تعریفی سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس اقدام سے متعلق مکمل معلومات، بشمول اہل گرام پنچایتوں کی فہرست اور تعاون کے طریقۂ کار، میری پنچایت ایپ کے ذریعے دستیاب ہیں۔

ہندوستان میں تقریباً 2.5 لاکھ گرام پنچایتیں ہیں، جو نچلی سطح پر جمہوریت اور مقامی عوامی خدمات کی فراہمی کی بنیاد ہیں۔ وزارت کے ڈیجیٹل گورننس کے نظام، جس میں ای-گرام سوراج، میری پنچایت، سبھا سار، آڈٹ آن لائن، گرام مان چتر اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم شامل ہیں، کو مزید مستحکم کرتے ہوئے دان ویر کا مقصد ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں موجود خلا کو پُر کرنا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر گرام پنچایت شہریوں پر مرکوز خدمات کو مؤثر اور شفاف انداز میں فراہم کرنے کے لیے ضروری ڈیجیٹل سہولیات سے لیس ہو۔ یہ اقدام اپنے آبائی گاؤں سے دور رہنے والے شہریوں، بشمول ہندوستانی تارکینِ وطن، کو بھی اپنی متعلقہ گرام پنچایتوں کی ترقی میں تعاون کرنے کے لیے ایک قابلِ اعتماد اور شفاف طریقۂ کار فراہم کرتا ہے، جن سے وہ اب بھی جڑے ہوئے ہیں۔ دان ویر کے ذریعے شہری دیہی ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں بامعنی کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل طور پر بااختیار اور خود کفیل دیہی ہندوستان کے وسیع تر وژن کی تکمیل میں بھی اپنا تعاون دے سکتے ہیں۔

 

 

********

 (ش ح ۔ش ت  ۔ت ا )

U. No.2798


(ریلیز آئی ڈی: 2304907) وزیٹر کاؤنٹر : 19