وزیراعظم کا دفتر
مورخہ 30.08.2026 کومن کی بات کی 137ویں قسط میں وزیر اعظم کے خطاب کا متن
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 AUG 2026 11:36AM by PIB Delhi
میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار!
میں من کی بات کے اس نئی قسط میں ایک بار پھر آپ سب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہم نئے اقدامات کو ظاہر کرتے ہیں اور اپنے ہم وطنوں کے اختراعی خیالات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے خیالات ایسے ہیں جن کے پیچھے لوگوں نے اپنی زندگی کی انتھک توانائیاں لگا رکھی ہیں۔
ساتھیوں،
کچھ عرصہ قبل، کسی نے سوشل میڈیا پر لکھا’اساڑھی ایکادشی کے پرمسرت موقع پر، میں تاریخ کو دلچسپ بنانے کی اپنی کوشش کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔‘ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آئیڈیا بہت سادہ ہے۔ اس ویب سائٹ پر جائیں اور کوئی بھی سال منتخب کریں۔ یہاں آپ کو آسانی سے پتہ چل جائے گا کہ اس وقت ہندوستان کے کس حصے پر کس کی حکومت تھی۔ مجھے یہ کافی دلچسپ لگا۔ میں نے سوچا کہ مجھے اس کے بارے میں مزید جاننا چاہیے۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہ کام ممبئی میں رہنے والے جناب کرشنا شیشادری نے کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرشنا جی نے ویب سائٹ کا نام بہت سادگی سے
www.bharatrajya.com
رکھا ہے۔انہوں نے جو کوششیں کی ہیں وہ آپ تک ضرور پہنچنی چاہئیں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ کیوں نہ شری کرشنا جی سے براہ راست بات کی جائے۔
ساتھیوں،
کرشنا جی فون پر ہمارے ساتھ جڑ رہے ہیں۔
وزیر اعظم: ہیلو کرشنا جی۔
کرشنا شیشادری: ہیلو سر، ہیلو۔
وزیراعظم: بھائی، مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نہ تو ٹیک ورلڈ سے ہیں اور نہ ہی تاریخ کے استاد، پھر بھی آپ نے ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہسٹری سائٹ بنائی۔ تو میں بہت متجسس ہوں کہ یہ سب کیسے ہوا؟
کرشنا شیشادری: شکریہ جناب، آپ کے ساتھ بات کرنا میرے لیے بڑا اعزاز ہے۔ تو جناب، اگر میں آپ کو اپنے بارے میں تھوڑا سا بتاؤں کہ میں انجینئر تھا، پھر میں نے ایم بی اے کیا، پھر میں مارکیٹنگ کے شعبے میں چلا گیا، لیکن یہ سب کرتے ہوئے بھی مجھے بچپن سے ہی تاریخ میں بہت دلچسپی تھی۔ لہذا، میں ہمیشہ سے تاریخ پر کچھ کرنا چاہتا تھا، اسے کیسے دلچسپ بنایا جائے اور میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ ہم جس طریقے سے تاریخ پڑھاتے ہیں اس میں بہت زیادہ بہتری لا سکتے ہیں، ہم اس میں بہت سی تبدیلیاں لا سکتے ہیں، ہم تاریخ کو کہانی بنا سکتے ہیں اور لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
وزیر اعظم: کرشنا جی،بھارتیہ تاریخ کا وہ کون سا پہلو ہے جس کے بارے میں آپ نے محسوس کیا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگاہ ہونا چاہیے؟
کرشنا شیشادری: جناب، اگر ہم اپنے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جانے والی بھارتیہ تاریخ کو دیکھیں، جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں، اسے کسی ایک سلطنت یا واحد مملکت کے نقطہ نظر سے پڑھایا جاتا ہے، اور ان سلطنتوں کو غیر متناسب توجہ دی جاتی ہے۔ اس تناظر میں، ہم اپنی بہت سی دوسری عظیم سلطنتوں کے بارے میں نہیں جانتے، جیسے چولاز،پلوز، کارکوٹا خاندان، کشمیر میں آہوم، جنہوں نے کم از کم 600 سال تک آسام میں اپنی ثقافت اور اقدار کے نظام کو برقرار رکھا۔ لہذا میں نے ایک ایسی سائٹ بنانے کا سوچا جو عوام کے سامنے ایسی عظیم سلطنتوں کو متعارف کرائے گی۔
وزیر اعظم: کرشنا جی، آپ بہت محنت کرتے ہیں۔ میں آپ سے صرف ایکمفروضہ پر مبنی سوال پوچھ رہا ہوں۔ اگر آپ کوبھارتیہ تاریخ کے کسی بھی تین لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملے تو آپ کس سے بات کرنا چاہیں گے اور کیوں؟
کرشنا شیشادری: جی جناب، تو پہلے میں راجہ ولا یا راجندر چولا سر کے بارے میں بات کروں گا جو چولا سلطنت کے سب سے طاقتور یا اہم ترین راجاؤں میں سے تھے، تو میں ان سے یہ جاننا چاہوں گا کہ انہیں یہ وژن کیسے ملا جیسے برہدیشور مندر یا گنگائی کونڈہ چولاپورم جو کہ بہت بڑے مندر ہیں، بھگوان شیو کے مندر، انہوں نے یہ منصوبہ کیسے بنایا کہ وہ کہاں سے آئے، یہ منصوبہ کیسے بنایا؟ یہ خیال کہ ہمیں کوئی ایسی چیز تخلیق کرنی چاہیے جو اگلے ہزار یا دو ہزار سالوں تک دوسرے لوگوں کو متاثر کر سکے۔ تو میں ان سے یہ جاننا چاہتا ہوں۔ اور دوسری شخصیت، میرے مطابق، درحقیقت بھارتیہ تاریخ میں ایک ایسی شخصیت ہیں جنہیں کم سمجھا گیا۔ جناب، ان کا نام ہیمو ہے، اس لیے ہم ہندوستانی تاریخ میں ان کے بارے میں زیادہ سے زیادہ دو تین سطریں پڑھتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہیمو ایک عام آدمی تھی، ایک تاجرتھے، وہیں سے انہوں نے ایک سلطنت بنائی اور وہ نہ صرف ایک سلطنت بنانے والے تھے، وہ ایک فوجی مفکر بھی تھے، ایک فوجی دانشور بھی تھےجنہوں نے اپنے کیرئیر میں 23 لڑائیاں لڑیں، جن میں سے انہوں نے 22 لڑائیاں جیتیں، تو ان کا سوچنے کا عمل کیا تھا، اور وہ کیسے ایک عام آدمی سےاتنے بڑے راجہ بنے ،میں ان کے سفر میں بہت دلچسپی رکھتا ہوں۔سر تیسری، یہ ایک بہت ہی دلچسپ شخصیت ہے، وہ ایک خاتون ہیں، تریبھون مہادیوی۔ اڈیشہ میں ایک سلطنت تھی، جس کا نام بھوماکارا خاندان تھا، ان کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ جب 850 عیسوی کے لگ بھگ ان کی ہمسایہ سلطنت نے ان کی سلطنت پر حملہ کیا تو جناب اور یہاں کا راجہ جو ان کا شوہر تھا، اس جنگ میں شہید ہو گئے۔ اور اس کی وجہ سے سلطنت بہت چھوٹی ہو گئی اور ان کے سردار، اس کے لیڈران سلطنت چھوڑنے لگے تو اس خاتون تربھون مہادیوی نے حکومت سنبھالی اور وہبھارت کی تاریخ کیپہلی آزاد حکمرانوں میں سے ایک بن گئیں اور انہوں نے نہ صرف حکومت کو مستحکم کیا بلکہ اسے اتنا طاقتور بنایا کہ اگلے سو سال تک کلنگا اور اس علاقے پر حکومت کرتی رہی۔ تو یہ تین دلچسپ شخصیات ہیں جن سے میں تاریخ میں ملنا چاہوں گا جناب۔
وزیر اعظم: کرشنا جی، اب آپ کولگتا ہے کہ آپ تاریخ کو جی رہے ہیں ، آپ تاریخ کو زندہ کر رہے ہیں۔ آپ پوری طرح اس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ دیکھو، میں بھی آپ کی سائٹ کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا ہوں، اور جو چیز مجھے سب سے زیادہ دلچسپ لگی وہ یہ ہے کہ آپ کی سائٹ پر ایک ٹیب ہے جہاں لوگ اصلاح اور تجاویز دے سکتے ہیں۔ اس طرح کے تعمیری تاثرات کے لیے کھلا رہنا اپنے آپ میں ایک اہم کامیابی ہے۔ کیا آپ کو لوگوں سے مشورے ملنا شروع ہو گئے ہیں؟ اور آپ ان پر کیسے عمل کرتے ہیں؟
کرشنا شیشادری: جی جناب، ہمیں ان لوگوں کی طرف سے بہت سارے مشورے ملتے ہیں۔ دو قسم کی تجاویز ہیں۔ ایک قسم کی تجویز وہ ہے جو اصلاح کی تجویز کرتی ہے۔ اس ریاست میں، اس وقت
یہ راجہ تھے، یا یہ جنگ اس زمانے میں ہوئی تھی۔ ایسی تجاویز آتی ہیں۔دوسری تجاویز یہ ہیں کہ آپ اس ویب سائٹ میں یہ فیچر یا اس فیچر کو شامل کر سکتے ہیں۔ ہمیں دونوں قسم کی تجاویز موصول ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ہمیں یہ مشورہ ملتا ہے کہ اس وقت اس راجہ نے اس ریاست پر حکومت کی تو ہم اس تجویز کو مدنظر رکھتے ہیں۔ ہم اپنے ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ کسی نے مشورہ دیا کہ آپ پہلے ہی بھارت کو دکھادیا لیکن یہ اور بھی بہتر ہو گا کہ آپ اسے ریاستی سطح پر دکھا سکیں۔ ہم نے اس خصوصیت کو نافذ کیا۔ پھر ہم ایک اور خصوصیت لے کر آئے، جہاں ہم نے ایک طرح کا ٹرمپ کارڈ بنایا، جو پوری سلطنت کے اعداد و شمار فراہم کرتا ہے، تاکہ یہ بچوں تک پہنچ سکے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ ہم اسے ایک جگہ اکٹھا کریں تاکہ ہم سب اسے ڈاؤن لوڈ اور شیئر کر سکیں۔ ہم اس خصوصیت کو نافذ کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم غلطیاں کریں گے، کیونکہ ہم بہترین نہیں ہیں۔ یہ جانتے ہوئے، ہم نے اصلاحی ٹیب کو شامل کیا تاکہ یہ ہم سب کے لیے ایک سائٹ ہو، اور آگے بڑھتے ہوئے، تمام شراکتوں کی بنیاد پر، ہم ایک ایسی سائٹ بنا سکتے ہیں جو آئندہ چند سالوں کے لیے تاریخ کو ایک تفریحی موضوع بنائے گی۔
وزیر اعظم: کرشنا جی، آپ نے واقعی بہت اچھا کام کیا ہے۔ تو کیا آپ کو تاریخ کے علاوہ اور بھی بہت سے مشاغل ضرور ہیں اور بہت سے کام بھی؟
کرشنا شیشادری: ہاں، نہیں، سر، میں تھوڑا بورنگ آدمی ہوں، جناب۔
وزیر اعظم: ہنستے ہوئے۔
کرشنا شیشادری: ہمیں ٹیکنالوجی اور تاریخ میں بہت دلچسپی ہے، اور اب جب کہ ٹیکنالوجی اور تاریخ ایک ساتھ آ گئی ہے، ہم دن بھر ان میں ڈوبے رہتے ہیں۔
وزیر اعظم: ٹھیک ہے، کرشنا جی، میں آپ کو نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ آپ نے ایک اچھی شروعات کی ہے، اور آپ کا انداز ایسا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ لوگ اس میں شامل ہوں گے۔ میں آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔
ساتھیوں،
کرشنا جی کی یہ کوشش نہ صرف تاریخ کے طلباء بلکہ ہم سب کو اپنے ماضی کے بارے میں دلچسپ طریقے سے جاننے میں مدد دے گی۔ اگر آپ کے پاس ایسی کوششوں کے بارے میں معلومات ہیں تو براہ کرم اسے شیئر کریں۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
مہم’ نشہ مکت یووا فار وکست بھارت‘فی الحال پورے ملک میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کا مقصد واضح ہے: منشیات سے پاک نوجوان، منشیات سے پاک بھارت۔ بہت سے لوگ بالخصوص ہمارے نوجوان بڑی تعداد میں اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ آخر کار، یہبھارت کے نوجوانوں کی صحت، خوشی اور روشن مستقبل کے لیے ہماری اجتماعی وابستگی ہے۔
ساتھیوں،
منشیات کی لت صرف ایک شخص کو نہیں گھیرتی۔ اس کے برے اثرات پورے خاندان اور معاشرے کو محسوس ہوتے ہیں۔ میں ان لوگوں کی تعریف کرتا ہوں جو منشیات کے بارے میں بیداری پیدا کرتے ہیں اور نشے سے لڑنے والوں کی مدد کے لیے آگے آتے ہیں۔ کیا آپ منشیات سے پاک بھارت کے لیے کوئی طاقتور نعرہ بنا سکتے ہیں؟ کیا ہمارے نوجوان موسیقار ایسے گانے ترتیب دے سکتے ہیں جو منشیات سے پاک زندگی کا پیغام دیتے ہوں؟ کیا طلباء اور تھیٹر گروپس دل کو چھو لینے والے مختصر ڈرامے لکھ سکتے ہیں جو منشیات کے خطرات کے ساتھ ساتھ ان پر قابو پانے کے طریقوں پر روشنی ڈالتے ہیں؟ ہمارے ملک میں بہترین مواد تخلیق کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مختلف زبانوں میں ایسا مواد تیار کریں جو اس سمت میں معاشرے کی مدد کرے۔ براہ کرم اپنی کوششوں کو سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ساتھ شیئر کریں۔ بعض اوقات، تخلیقی کوششیں رسمی مہمات سے زیادہ موثر ہوتی ہیں۔ آئیے ہم سب بھارت کے نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے اور نشے سے پاک رکھنے کے اس مقدس کام میں اپنا کردار ادا کریں۔ براہ کرم سوشل میڈیا پر
#DrugFreeYouth
ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی کوششوں کا اشتراک کریں۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
اگست کے مہینے میں، ہم ہر جگہ حب الوطنی کے اظہار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس دوران ہر شخص کے دل میں حب الوطنی کا جذبہ شدت اختیار کرتا ہے۔ قومی ہینڈلوم ڈے اوربھارت چھوڑو تحریک کی سالگرہ سے لے کر تقسیم کے یادگار دن تک، یہ مواقع اسے خاص بناتے ہیں۔ یوم آزادی اور قومی خلائی دن ہر شہری کو فخر سے بھر دیتے ہیں۔ ہر گھر ترنگا ابھیان اس احساس کو مزید تقویت دیتا ہے۔وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے سے اس سال کو اور بھی خاص ہو گیا ہے۔ اس سال،آٹھ کروڑ سے زیادہ ترنگے کی سیلفیاں اپ لوڈ کی گئیں، اور ترنگے کا یہ جشن صرفبھارت تک محدود نہیں تھا۔ اس سال،سوریہ پتھ ترنگا کے ذریعے، ہمارے ترنگے نے دنیا بھر میں ایک منفرد سفر کا آغاز کیا۔ فجی کے سووامیں سورج کی پہلی کرنوں کے ساتھ ترنگا لہرایا گیا۔ اس کے بعد، ایشیا، افریقہ، یورپ، یہاں تک کہ سان فرانسسکو، امریکہ میں بھارتیہ مشنوں اور پوسٹوں پر ترنگا لہرایا گیا۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ مناظر کتنے حیرت انگیز رہے ہوں گے۔ جیسے ہی دنیا بھر میں سورج طلوع ہوا،بھارتیہ ترنگا بھی لہرا گیا۔ اس طرح کی کوششیں معاشرے کو باہم جوڑتی ہیں۔ وہ قوم کے ساتھ ہمارا تعلق بھی گہرا کرتے ہیں۔ ان کوششوں میں شامل تمام لوگوں کو میری دلی مبارکباد۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
روزانہ صبح سے شام تک لاکھوں خواتین ہمارے شہروں اور قصبوں کی سڑکوں پر مصروف رہتی ہیں۔ کچھ سبزیاں بیچتی ہیں، کچھ پھل، کچھ چائے کے اسٹال لگاتی ہیں، اور کچھ پھول، دیا، اور پوجا کی چیزیں بیچتی ہیں۔ اکثر، سرمائے کی محض کمی ان کے کاروبار کو پھلنے پھولنے سے روکتی ہے۔ لیکن اب ایسی لاکھوں مائیں اور بہنیں پی ایم سوندھی یوجنا کے ذریعے نئی طاقت حاصل کر رہی ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے اس پہلو پر اس قدر بحث نہیں کی گئی جس کا یہ حقدار ہے۔ پی ایم سوندھی یوجنا کے استفادہ کنندگان میں سے تقریباً 46 فیصد خواتین ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک بھر میں تقریباً 35لاکھ خواتین اس سکیم میں حصہ لے رہی ہیں اور اپنے کاروبار کو بڑھا رہی ہیں۔
ساتھیوں،
غازی آباد کی ببیتا شرما اس کی بہترین مثال ہیں۔ وہ پوجا کی اشیاء بیچنے کا ایک چھوٹا سا سٹال چلاتی تھیں۔ پھول، دیا، اگربتی اور ناریل جیسی اشیاء بیچ کر، انہوں نے اپنے خاندان کی روزی روٹی میں حصہ ڈالا۔ انہوں نے سخت محنت کی، لیکن انہیں اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے سرمائے کی ضرورت تھی۔ انہیں پی ایم سوانیدھی سے مالی مدد ملی۔ انہوں نے اپنے اسٹال کی انوینٹری اور کاروبار کو بڑھایا۔ گاہکوں میں اضافہ ہوا، اور آمدنی میں اضافہ ہوا، اور آہستہ آہستہ سڑک کے کنارے ان کا چھوٹا سا اسٹال ایک دکان میں تبدیل ہوگیا۔
ساتھیوں،
بنگلورو کی ٹی ایس ننگما جی کی مثال بھی بہت متاثر کن ہیں۔ ننگما جی اور ان کے شوہر نے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا جس میں اڈلی، ڈوسہ اور سانبر فروخت ہوئے۔ کاروبار کام کرنے لگا، لیکن انہیں وسعت دینے کے لیے سرمائے کی ضرورت تھی۔ ننگما جی کو پی ایم سواندھی سے بھی تعاون حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنی کارٹ کو بہتر بنایا، بڑی تعداد میں سامان خریدنا شروع کیا، اور مینو میں بہت سی نئی چیزیں شامل کیں۔ گاہکوں میں اضافہ ہوا، آمدنی میں اضافہ ہوا، اور خاندان کی مالی حالت بہتر ہوئی. آج وہ اپنے تین بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کے قابل ہے۔
ساتھیوں،
جب عورت کا کاروبار بڑھتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے پورے خاندان کا مستقبل ترقی کرتا ہے۔ بچوں کی تعلیم بہتر ہوتی ہے، گھریلو ضروریات پوری ہوتی ہیں، اور عورت کی خود اعتمادی بڑھتی ہے۔ یہ خواتین کو بااختیار بنانے کی زندہ مثال ہے۔ میںریہڑی پٹری کے کام سے جڑے سبھی بہنوں کوان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہوں۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
صفائی میں گہری طاقت ہے۔ جب کسی جگہ کے لوگ اسے صاف ستھرا رکھنے کے عزم کو اپناتے ہیں تو تبدیلی صرف صفائی تک ہی محدود نہیں رہتی۔ یہ اس جگہ کی پوری شناخت کو بدل دیتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں صفائی کے حوالے سے اس طرح کی کوششیں ہمیں متاثر کرتی رہتی ہیں۔ پٹوائی رام پور، اتر پردیش کا ایک گاؤں ہے۔ دو دوستوں آکاش اور روہن نے دیکھا کہ ان کے آس پاس کا علاقہ گندگی سے بھرا ہوا ہے۔ پھر، آکاش اور روہن نے کچرے کے تھیلے اٹھائے اور صاف کرنے نکلے۔ آہستہ آہستہ دوسرے نوجوان بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔’کلین اپ پٹوائی‘ کے نام سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی۔ یہ نوجوان اب تک چار گنگا گھاٹوں کی صفائی کر چکے ہیں، ایک ٹن سے زیادہ پلاسٹک کا کچرا ہٹا چکے ہیں۔ انہوں نے متعدد تالابوں اور عوامی مقامات کی صفائی بھی کی ہے۔
ساتھیوں،
اس سال شری امرناتھ یاترا کے دوران صفائی اور عوام کی شرکت کی اسی طرح کی متاثر کن مثال دیکھنے کو ملی۔ صفائی ستھرائی کے ہزاروں کارکنوں نے دشوار گزار راستوں پر دن رات خدمات انجام دیں۔ اس سال یاتراکے دوران 400 میٹرک ٹن سے زائد فضلہ اکٹھا کیا گیا اور اس پر کارروائی کی گئی۔ میں نے خاص طور پر اس کوشش کے ایک پہلو کی تعریف کی: عقیدت مندوں نے بھی اس صفائی مہم میں حصہ لیا۔ 16000 سے زائد یاتریوںنے صفائی برقرار رکھنے کا عہد لیا۔ 10,000 سے زیادہ یاتریوں کو’ذمہ دار یاتری‘ سرٹیفکیٹ سے بھی نوازا گیا۔ یہاں ایک انوکھا تجربہ بھی کیا گیا۔ یاترا کے دوران، گھوڑے اور خچر کے گوبر کو بائیو گیس میں تبدیل کیا گیا، اور اس صاف توانائی سے’صاف جیوت‘ روشن کی گئی۔ اس طرح بابا برفانی کی اس مقدس زیارت میں صفائی خدمت اور عقیدہ کی ایک شکل بن گئی۔
ساتھیوں،
ہمارے دیہات ہوں یا شہر، ہمارے دریا ہوں یاتیرتھ استھل، ان کی شناخت بھی ہمارے طرز عمل سے بنتی ہے۔ اور جب صفائی کو اس طرز عمل میں شامل کر لیا جائے تو اس جگہ کی خوبصورتی مزید بڑھ جاتی ہے۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
کبھی کبھی ایک چھوٹا سا شوق زندگی میں بڑے امکانات کے دروازے کھول دیتا ہے۔ ناگالینڈ کے فیک ضلع سے تعلق رکھنے والے ویسالو پوری کا بھی ایسا ہی سفر ہے۔ ایک کاشتکار خاندان میں پلے بڑھے، ویسالو نے اپنے والدین کو بچپن سے ہی کاشتکاری کرتے دیکھا تھا اور انہیں پھولوں سے گہری محبت تھی۔ 2021 میں، انہوں نے اس شوق کو اپناتے ہوئے چھوٹے پیمانے پر پھول اگانا شروع کیا۔ دھیرے دھیرے انہیں امکانات نظر آنےلگے۔ انہوں نے دیکھا کہ شادی بیاہ ہو یا دیگر تہواروں میں پھولوں کی مانگ ہمیشہ رہتی ہے۔ ویسالو نے اس شوق کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اس سفر کے دوران، انہوں نے مقامی زرعی سائنس سینٹر سے سائنسی پھولوں کی کاشت کی تربیت حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ایکڑ کے صرف چوتھائی حصے پر ہزاروں گلیڈیولس پودے لگائے۔ ان کی پہلی کوشش میں 5000 سے زیادہ پھول کھل گئے۔ اس کامیابی نے ویسالو کے لیے ایک نئی شروعات کی،جنہوں نے اپنی پھولوں کی کاشت کو مزید وسعت دی۔ پھول جو کبھی مقامی بازار میں ختم ہو جاتے تھے اب ناگالینڈ سے دہلی اور ممبئی جیسے شہروں میں جا رہے ہیں۔ ویسالو پورو کا سفر ہمیں دکھاتا ہے کہ جب کسی شوق کو محنت اور مناسب رہنمائی کے ساتھ ملایا جائے تو یہ نئے امکانات کھول سکتا ہے۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
ہمارے ارد گرد بہت سے لوگ ہیں جو ایک چھوٹی سی کوشش شروع کرتے ہیں اور ان کی کوششیں بہت سے لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیتی ہیں۔اڈیشہ کے ڈیبری گڑھ میں ایک گاؤںدھوڈارو ہے۔ کچھ سال پہلے تک، اس گاؤں کی رہنے والی میتھلی بھوئے تقریباً ہر روز جنگل جاتی تھی، کبھی لکڑیاں اکٹھی کرنے، کبھی مہوا اور کیندو کے پتے جمع کرنے، کبھی بانس کی ٹہنیاں اور جنگل کی دوسری پیداوار جمع کرنے کے لیے۔ ان کی اور بہت سے دوسرے خاندانوں کی ضروریات اس جنگل سے پوری ہوتی تھیں، لیکن پھر میتھلی نے ڈیبری گڑھ ایکو ٹورازم میں شمولیت اختیار کی۔ یہاں سے جنگل کے ساتھ ان کے تعلقات نے ایک نیا موڑ لیا۔ اب جنگلات کا تحفظ بھی ان کی روزی روٹی کا ذریعہ بن گیا۔ دوستو، میتھلی جی کی زندگی میں اس تبدیلی نے دوسری خواتین کو بھی متاثر کیا۔ آج 60 سے زائد خواتین جنگلات کے تحفظ میں شامل ہیں۔ کچھ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ذمہ دار ہیں، دوسرے گھاس کے میدان کی ترقی میں شامل ہیں، اور کچھ ماحولیاتی سیاحت کی سرگرمیوں میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ دوستو، میتھلی جی اور ڈیبری گڑھ کی ان بہنوں نے دکھایا ہے کہ فطرت کی حفاظت کی جا سکتی ہے اور زندگی خوشحال ہو سکتی ہے۔ ان بہنوں کی کاوشیں ہم سب کے لیے ایک عظیم ترغیب ہیں۔
ساتھیوں،
آج، ہماری بیٹیوں کے خواب زمین سے خلا تک بلند ہو رہے ہیں، اور آپ کو یہ جان کر فخر ہو گا کہ بھارت دنیا بھر کی ہزاروں بیٹیوں کو متحد کر رہا ہے ۔ اس پہل کا نام مشن شکتی ایس اے ٹی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے 108 ممالک کی 12,000 طالبات کو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سیکھنے اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ 23 اگست، قومی خلائی دن، اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں اس مشن کی ایک خوبصورت تصویر دیکھی گئی۔ مشن شکتی ایس اے ٹی کا دوسرا مرحلہ گوتم بدھ یونیورسٹی میں شروع ہوا۔ اس موقع پر مختلف ممالک اور بھارت سے تقریباً 100 طالبات اکٹھی ہوئیں۔ بھارت کے دور دراز علاقوں سے منتخب طالبات بھی حصہ لے رہی ہیں۔ اس پوری کوشش کا مقصد بہت خاص ہے۔ ایک سیٹلائٹ، جو مکمل طور پر طالبات کی شرکت سے بنایا گیا ہے، چاند کے مدار میں بھیجنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ساتھیوں، مجھے یقین ہے کہ ان لڑکیوں میں سے بہت سی طالبات مستقبل میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں اپنی شناخت بنائیں گی۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
ایوکاڈو ان دنوں بہت مقبول ہے۔ اس پھل کے بارے میں پہلے شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ اس کی قیمت اور مانگ دونوں ہی کم تھی، لیکن آج یہ کھانے کی میزوں پر عام نظر آتا ہے۔ یہ صحت اور پریمیم مارکیٹوں میں پسندیدہ بن گیا ہے۔ یہ ہمارے کسان بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی بہت بڑی مدد ہے۔ آندھرا پردیش کے کڑپہ سے تعلق رکھنے والے وردراجا ایک بہترین مثال ہیں۔ وہ کئی سالوں سے اپنے فارم پر ٹماٹر اور کیلے کاشت کر رہے تھے۔ ایک دن، انہوں نے ایک دوست کے فارم پر ایوکاڈو کو اگتے دیکھا۔ اس کے بعد انہوں نے یوٹیوب سے اس بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ اب تک، انہوں نے تقریباً 4 ٹن ایوکاڈو تیار کیے ہیں۔ آج، وہ انہیں براہ راست مقامی دکانوں میں فراہم کرتے ہیں۔ نئی فصل، سائنسی مشورہ اور براہ راست مارکیٹنگ نے ان کے چھوٹے فارم کی آمدنی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ تمل ناڈو کے کوڈائی کنال کے ایک کسان چندر شیکھرن نے آدھے ہیکٹر زمین پر ایوکاڈو اگانا شروع کیا۔ انہیں اچھی قیمت مل رہی ہے اور ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔ کرناٹک کے چکمگلورو کے کچھ کسان بھائیوں اور بہنوں نے اپنے کافی کے باغات میں ایوکاڈو بھی لگائے ہیں۔ اس سے انہیں اپنی کافی اور کالی مرچ کے ساتھ اضافی آمدنی ہو رہی ہے۔ ساتھیوں، ہم اکثر شہری ریستورانوں میں ایوکاڈو ٹوسٹ کے بارے میں سنتے ہیں، لیکن ہمارے اختراعی کسانوں نے اس ایوکاڈو کو استعمال کرکے پیسہ کمانے کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے اپنے ایوکاڈو نے آپ کے ٹوسٹ کا ذائقہ بڑھایا ہے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔
میرے پیارے ہم وطنوں،
چند دنوں میں، 3 ستمبر کو، ہم عظیم اداکار اتم کمار کی صد سالہ پیدائش منائیں گے۔ دوستو، اتم کمار ایک ورسٹائل اداکار تھے جنہوں نے اپنی اداکاری سے لوگوں کے دل موہ لیے۔ فلم کے شائقین کا ماننا ہے کہ ستیہ جیت رے نے فلم ’’نائک - دی ہیرو‘‘ کی پوری اسکرپٹ عظیم اداکار کو ذہن میں رکھ کر لکھی تھی۔ رے نے کہا کہ وہ وقار کے ساتھ ساتھ ناقابل یقین جذباتی گہرائی کے مالک تھے۔ انہوںنے اپنے کرداروں کو زندہ کرنے کے لیے بہت محنت کی۔ اتم کمار اپنی سادگی اور انسان دوستی کے لیے جانے جاتے تھے۔ان کی زندگی ہمیں ایک اور اہم سبق بھی سکھاتی ہے: کبھی ہمت نہ ہاریں۔ ان کی ابتدائی فلمیں اچھی نہیں چلیں، لیکن انہوں نے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہ ان کی کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔ساتھیوں، مجھے یاد ہے کہ جب میں کولکتہ میں روڈ شو کر رہا تھا تو میں اتم کمار کے گھر کے پاس سے گزرا تھا۔ وہاں موجود ایک شخص نے مجھے اس کی ایک تصویر تحفے میں دی۔ میں ایک بار پھر عظیم اداکار اتم کمار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ وہ ہمیشہ ہمارے دلوں پر راج کریں گے۔
’مہانائک اتم کمار،چیرو دن منوشیرہردے راج کوربین‘
میرے پیارے ہم وطنوں،
ہمارے تہوار اور تقریبات ہماری روایات کے ساتھ ہمیں ایک دوسرے سے جڑنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ ہم آنے والے دنوں میں بہت سے اہم تہوار منائیں گے۔ 4 ستمبر کو جنم اشٹمی کا مبارک موقع ہے۔ ہم ستمبر میں وشوکرما پوجا بھی منائیں گے۔ اس موقع پر ہمیں اپنے اردگرد موجود کاریگروں،دستکاروں اور وشوکرما دوستوں کا احترام کرنا چاہیے۔ دیوالی بھی چند مہینوں میں آنے والی ہے اور اس کی تیاریاں آہستہ آہستہ شروع ہو رہی ہیں۔ اس تہوار کے موسم میں، میں ووکل فار لوکل کی اپنی خواہش کا اعادہ کرنا چاہوں گا۔ووکل فار لوکل کا مطلب صرف مٹی کے لیمپ خریدنا نہیں ہے۔ اس کا نقطہ نظر بہت وسیع ہے. ہم اپنے گھروں کے لیے جو کچھ بھی خریدتے ہیں، ہمیں ہمیشہ یہ چیک کرنا چاہیے کہ وہبھارت میں بنایا گیا ہے۔ بھارت کی خود انحصاری کی راہبھارت میں بنی مصنوعات پر فخر کرنے سے ہی ہموار ہوگی۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ ہمارے تخلیقی دنیا کے ساتھی، متاثر کن اور مشہور شخصیات بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ووکل فار لوکل کے لیے آواز کو اپنائیں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں۔
ساتھیوں،
آپ کے اردگرد بہت سے لوگ ہوں گے جو اپنی چھوٹی سی کوششوں سے معاشرے میں نمایاں تبدیلی لا رہے ہیں۔ براہ کرم من کی بات کے لیے ان کے بارے میں لکھیں۔ آپ کے تجربات ملک کے کسی کونے میں کسی کے لیے ایک نئی تحریک بن سکتے ہیں۔ میں آپ کی تجاویز اور تجربات کا منتظر ہوں۔
آپ کا بہت بہت شکریہ۔
***
(ش ح۔اص)
UR No 2768
(ریلیز آئی ڈی: 2304659)
وزیٹر کاؤنٹر : 5