نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے ’گیانی ارتھ‘ کا اجرا کیا، جو ایوون 3.3 اور پلیکسس پر مشتمل ایک خودمختار اے آئی اسٹیک ہے


مصنوعی ذہانت نئے مواقع کی راہیں کھولے گی اور بھارت کی اقتصادی ترقی کو اگلے مرحلے تک لے جائے گی: نائب صدر

وزیر اعظم نریندر مودی کی سیاسی قوت ارادی اور ’انڈیا فرسٹ‘ کا نقطۂ نظر بھارت کو تکنیکی خود انحصاری کی جانب لے جا رہا ہے: نائب صدر

ہمیں ہمیشہ صارف ہی نہیں بنے رہنا چاہیے؛ ہمیں تخلیق کار بننا ہوگا تاکہ دوسرے لوگ ہماری تخلیقات کو استعمال کر سکیں: نائب صدر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 AUG 2026 5:55PM by PIB Delhi

نائب صدر جمہوریہ جناب سی پی رادھا کرشنن نے آج نئی دہلی کے اپ راشٹرپتی بھون میں ’گیانی ارتھ‘ (Gnani Artha) کا اجرا کیا، جو GNANI AI کی تیار کردہ ایوون 3.3 (Evon 3.3) اور پلیکسس (Plexus) پر مشتمل ایک خودمختار اے آئی اسٹیک ہے۔ ایوون 3.3 ایک بڑے لسانی ماڈل جبکہ پلیکسس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو اے آئی کی ذہانت کو حقیقی دنیا کے کاموں اور اداروں سے مربوط کرتا ہے۔

گیانی ارتھ کے اجرا کا خیرمقدم کرتے ہوئے جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ایوون 3.3 اور پلیکسس کا امتزاج بھارت کے ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کی بڑھتی ہوئی طاقت کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی انجینئر نہ صرف جدید ترین ٹیکنالوجی استعمال کر سکتے ہیں بلکہ انہیں خود تیار بھی کر سکتے ہیں۔

جناب سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے ٹائپ رائٹر اور پرسنل کمپیوٹر کے محدود استعمال کے دور سے لے کر مصنوعی ذہانت اور بڑے لسانی ماڈل کے موجودہ دور تک غیر معمولی ترقی کی ہے۔ کمپیوٹر کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہونے کے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس آئی ٹی شعبے نے بھارت اور بیرون ملک روزگار کے بے شمار مواقع پیدا کیے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اے آئی بھی روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی اور بھارت کی اقتصادی ترقی کو اگلے مرحلے تک لے جائے گی۔

نائب صدر نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھارت کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا اے آئی مشن اور اے آئی کے لیے سینٹر آف ایکسی لینس جیسے اقدامات ملک کی تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی تکنیکی تبدیلی کی رفتار میں بڑی حد تک وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی بصیرت افروز قیادت کا کردار ہے، جن کی سیاسی قوت ارادی اور ’انڈیا فرسٹ‘ کے نقطۂ نظر سے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں بھارت کی صلاحیتیں مضبوط ہو رہی ہیں۔

پارلیمنٹ میں اے آئی کے استعمال کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل سنسد پورٹل کے ذریعے پارلیمانی مباحث اور دستاویزات متعدد بھارتی زبانوں میں دستیاب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں اختتام پذیر اجلاس میں آٹھ زبانوں میں بیک وقت اے آئی پر مبنی ترجمانی متعارف کرائی گئی ہے اور جلد ہی اسے تمام آئینی طور پر تسلیم شدہ زبانوں تک وسعت دی جائے گی۔

تکنیکی خود انحصاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کو محض ٹیکنالوجی کا صارف بن کر نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں ہمیشہ صارف نہیں بنے رہنا چاہیے؛ ہمیں تخلیق کرنا ہوگا تاکہ دوسرے لوگ اسے استعمال کر سکیں۔‘‘ انہوں نے مقامی تکنیکی صلاحیتیں پیدا کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

نائب صدر نے بھارت کی تکنیکی اور تزویراتی خود مختاری کو مضبوط بنانے کے لیے خودمختار اے آئی صلاحیتیں تیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت بہت پہلے چِپ کی تیاری شروع کر سکتا تھا اور ممکنہ طور پر اب تک عالمی رہنما بن چکا ہوتا، تاہم وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں اس شعبے کو ایک بار پھر نئی رفتار حاصل ہوئی ہے۔

نائب صدر نے کہا کہ تکنیکی صلاحیت وکست بھارت @ 2047 کے سفر کا ایک اہم ستون ہوگی، اور گیانی ارتھ کو تکنیکی خود انحصاری، اختراع اور عالمی قیادت کی جانب بھارت کے وسیع تر قومی سفر کا ایک حصہ قرار دیا۔

انہوں نے GNANI AI کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب گنیش گوپالن اور شریک بانی و چیف ٹیکنالوجی آفیسر جناب اننت ناگراج کو اس اجرا پر مبارک باد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام ایک مضبوط، خود انحصار اور تکنیکی طور پر بااختیار بھارت کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

 

*************

ش ح۔ ف ش ع

   U: 2739


(ریلیز آئی ڈی: 2304401) وزیٹر کاؤنٹر : 10