امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے احمد آباد میں گجرات ودیا پیٹھ کے 72ویں جلسۂ تقسیمِ اسناد سے خطاب کیا


بھارتی طرزِ زندگی، اقدار اور روایات ہی مہاتما گاندھی کے پیغام کی بنیاد ہیں، اس لیے ان کا پیغام ہمیشہ موزوں  اور زندہ رہے گا

 مورخہ 18 اکتوبر 1920 کو قائم ہونے والی گجرات ودیا پیٹھ مسلسل تجربات کے ذریعے بھارتی تعلیمی نظام کو فروغ دینے کے لیے تحقیق کا ایک اہم مرکز بن گئی ہے

مرکزی وزیرداخلہ  امت شاہ نے کہا میری والدہ نے مجھ سے زندگی بھر کھادی پہننے کا عہد لیا تھا

کھادی اور دیہی صنعتوں کا کاروبار 14-2013 میں 31,000 کروڑ روپے تھا، جو 26-2025 میں بڑھ کر 1.87 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا

حقیقی تعلیم وہ ہے جو ہاتھوں کو ہنر، دل کو احساس اور ذہن کو علم کے ساتھ ضمیر عطا کرے

مہاتما گاندھی نے مذہب تبدیل کرنے کو گناہ قرار دیا اور ہر فرد کو اپنے ‘سوادھرم’ کے مطابق زندگی گزارنے کی ترغیب دی

 گاندھی جی نے ‘نَو نِرمان’ کی نہیں بلکہ ’پُنر نِرمان‘ کی بات کی تھی۔ اسی جذبے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے مودی حکومت ثقافت، خوشحالی، سلامتی، خود انحصاری اور قیادت میں اخلاقیات کو ملک کی ترقی کی بنیاد بنا کر بھارت کو آگے لے جا رہی ہے

گاندھی جی کا ماننا تھا کہ اپنی مقامی زبان، ثقافت اور محنت کے بغیر آزادی ادھوری رہے گی؛ اپنی زبان کے بغیر حقیقی سوراج حاصل نہیں کیا جا سکتا

 نوجوانوں سے اپیل: صرف اپنے لیے نہیں بلکہ ملک، معاشرے اور غریبوں کے لیے بھی اہداف مقرر کریں، چاہے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں، کبھی مایوس نہ ہوں

اس سے زیادہ افسوسناک سوچ اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ ‘‘اگر میں اپنی زبان میں بات کروں گا تو کمتر سمجھا جاؤں گا۔’’ زبان ہمیں اپنے ملک کی اقدار، اس کی تاریخ اور اپنی جڑوں سے جوڑتی ہے

مہاتما گاندھی نے گرام سوراج، گرام سمردھی اور باہمی تعاون پر زور دیا تھا، مودی حکومت ان تینوں امور میں نئے سرے سے متعدد اقدامات کر رہی ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 AUG 2026 8:59PM by PIB Delhi

   امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج احمد آباد میں گجرات ودیا پیٹھ کی 72ویں جلسۂ تقسیمِ اسناد سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا۔ اس موقع پر گجرات کے گورنر آچاریہ دیوورت اور کئی دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

 

جلسۂ تقسیمِ اسناد سے خطاب کرتے ہوئے امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ آج گجرات ودیا پیٹھ کے 900 طلبہ اپنی ڈگریاں حاصل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھ رہے ہیں اور یہ ان طلبہ کی زندگی کا ایک نہایت قیمتی لمحہ ہے۔

 

جناب امت شاہ نے کہا کہ وہ بچپن ہی سے مہاتما گاندھی کے مداح رہے ہیں۔ ان کی والدہ بھی مہاتما گاندھی کی عقیدت مند پیروکار رہی ہیں۔ جناب شاہ نے بتایا کہ اپنی زندگی کے ابتدائی برسوں میں انہوں نے کھادی بُنی اور سوت بھی کاتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے ان سے زندگی بھر کھادی پہننے کا عہد لیا تھا۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے کہا کہ گجرات ودیا پیٹھ وہی مقام ہے جہاں تحریکِ آزادی کے دوران ملک کو آزادی دلانے کی حکمتِ عملی تیار کی جاتی تھی اور جہاں آچاریہ جے۔ بی۔ کرپلانی اور کاکا صاحب کالیلکر جیسی عظیم شخصیات نے لوگوں میں بھارتی تہذیب، حب الوطنی اور مادری زبان کے تئیں بیداری پیدا کرنے کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب مہاتما گاندھی نے گجرات ودیا پیٹھ کی بنیاد رکھی تو انہوں نے یہ طے کیا تھا کہ بھارت کے آزاد ہونے کے بعد گجرات ودیا پیٹھ خود بھارتی تعلیمی نظام کے لیے ایک مثالی نمونہ تیار کرے گی۔

 

جناب امت شاہ نے آج گجرات ودیا پیٹھ سے ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ کیمپس سے رخصت ہونے سے پہلے اپنی زندگی کا مقصد ضرور طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ مقصد طے کرتے وقت اس بات کا بوجھ ذہن پر نہیں ہونا چاہیے کہ یہ مقصد حاصل ہوگا یا نہیں۔ انسان کو کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ یہ کام کیا جا سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ آیا یہ کام کرنے کے لائق ہے یا نہیں۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے طلبہ سے کہا کہ انسان کو اپنے لیے نہیں بلکہ ملک، معاشرے، عوام اور خاص طور پر غریبوں کے لیے اہداف مقرر کرنے چاہئیں۔ اگر مقصد معاشرے اور ملک کی خدمت ہو تو کامیابی یا ناکامی کا بوجھ انسان پر نہیں رہتا۔ زندگی میں چاہے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ آئیں، مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ اس کے برعکس اگر اہداف صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مقرر کیے جائیں تو مشکلات مایوسی کا سبب بن سکتی ہیں اور انسان اپنی راہ بھی کھو سکتا ہے۔اپنی مثال دیتے ہوئے جناب شاہ نے کہا کہ انہیں زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جو اہداف مقرر کیے تھے، وہ نہ تو اپنے لیے تھے اور نہ ہی اپنے خاندان کے لیے۔ اسی لیے کام کرنے کا ان کا جذبہ ہمیشہ برقرار رہا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حوصلہ توڑنے اور مایوس کرنے کی کتنی ہی کوششیں کی گئیں، لیکن وہ کبھی دل برداشتہ نہیں ہوئے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سی عظیم شخصیات کے خیالات کا مطالعہ کیا، انہیں سمجھا اور اپنی زندگی میں اپنایا ہے۔ تاہم، مہاتما گاندھی کا پیغام اُس وقت بھی اہم تھا، آج بھی اہم ہے اور آئندہ 100 برس تک بھی اہم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی کا پیغام پوری دنیا کو فلاح و بہبود کی راہ دکھاتا ہے۔ بھارتی طرزِ زندگی، بھارتی اقدار اور روایات گاندھی جی کے پیغام کی بنیادی بنیاد ہیں، اسی لیے یہ پیغام کبھی غیر متعلق نہیں ہوگا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج گجرات ودیا پیٹھ کے 900 طلبہ ڈگریاں اور 11 طلائی تمغے حاصل کرکے فارغ التحصیل ہو رہے ہیں۔ آگے چل کر انہیں خاندانی اور سماجی زندگی میں بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا، لیکن روزانہ کی عملی مشق اور خود مطالعے کے ذریعے ان مشکلات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گجرات ودیا پیٹھ مہاتما گاندھی کے ‘بنیادی تعلیم’ کے تصور پر قائم ہے، جس میں گاؤں کو مرکز بنا کر ترقی اور ‘اپنے آپ سے دوسروں کی طرف’ بڑھنے پر زور دیا گیا ہے۔ یعنی ایسی تعلیم جو ہمیں صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ سب کے بارے میں سوچنا سکھاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت واپس آنے کے بعد مہاتما گاندھی نے گوپال کرشن گوکھلے کے مشورے پر پورے ملک کا سفر کیا۔ ملک میں زبانوں، بولیوں، لباس، کھانے پینے کی عادات اور مذاہب میں بے پناہ تنوع کے باوجود جب وہ واپس آئے تو انہوں نے چمپارن میں ڈاکٹر راجندر پرساد سے کہا کہ انہوں نے ملک میں اتحاد کا ایک حیرت انگیز جذبہ دیکھا ہے۔ انہوں نے متعدد تجربات کے ذریعے اس اتحاد کو عملی شکل دینے کے لیے کام کیا اور گجرات ودیا پیٹھ ان کوششوں کی ایک تجربہ گاہ بن گئی۔جناب شاہ نے کہا کہ گاندھی جی کے خیالات اور رہنمائی کے مطابق گجرات ودیا پیٹھ کا قیام 18 اکتوبر 1920 کو عمل میں آیا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مہاتما گاندھی کا ماننا تھا کہ جب تک ہماری زبان، ثقافت، محنت اور مقاصد قومی مفاد سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، آزادی ادھوری رہے گی۔ ان کا یقین تھا کہ اپنی زبان کے بغیر حقیقی سوراج کبھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمارا تعلق اپنے مذہب اور ثقافت سے نہیں ہے تو آزادی کی کوئی معنویت نہیں رہ جاتی اور اگر ہماری محنت اور ہمارے مقاصد ملک سے جڑے ہوئے نہیں ہیں تو آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی ہم اس کی حفاظت نہیں کر سکیں گے۔

امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ تعلیم کا مقصد ہاتھ، دل اور دماغ کو ہم آہنگ کرکے ملک کی تعمیرِ نو کرنا ہونا چاہیے۔ تعلیم ہاتھوں کو ہنر، دل میں احساس اور ذہن کو علم کے ساتھ حکمت اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرے۔ انہوں نے کہا کہ صرف علم سے بھرا ہوا ذہن انسان میں غرور پیدا کر سکتا ہے، جبکہ علم اور حکمت سے آراستہ ذہن عاجزی اور علم و دانش کو فروغ دیتا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی بنیاد پانچ اہم ستونوں پر قائم ہے—مادری زبان، ہنر، کثیرجہتی تعلیم، بھارتی علمی روایت اور شخصیت کی ہمہ جہت نشوونما۔ ایک طرح سے یہ وہی تعلیمی نظام ہے جو بھارت نے صدیوں تک دنیا کو دیا تھا اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اب اسی تعلیمی نظام کو بھارت کے نوجوانوں کے لیے دوبارہ متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بنیادی جوہر میں کوئی تبدیلی کیے بغیر دنیا بھر کی جدید پیش رفتوں کو قومی تعلیمی پالیسی میں شامل کیا گیا ہے۔

مرکزی وزیرداخلہ جناب امت شاہ نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے سات سماجی گناہوں کی نشاندہی کی تھی۔ اگر ان سات سماجی گناہوں سے بچا جائے تو معاشرے کی 90 فیصد برائیوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں اصولوں کے بغیر سیاست، اخلاقیات کے بغیر کاروبار، محنت کے بغیر دولت، ضمیر کے بغیر لذت، کردار کے بغیر علم، انسانیت کے بغیر سائنس اور قربانی کے بغیر عبادت شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام نوجوانوں کو ان سات سماجی گناہوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسی عظیم شخصیت نہیں ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ وہ کبھی ان میں سے کوئی گناہ نہیں کرے گا۔ تاہم، اگر ہم ان گناہوں کے بارے میں ہمیشہ باخبر رہیں تو جب کبھی ہمیں ان کے ارتکاب کا لالچ ہوگا، ہم رکنے اور خود کو روکنے کی کوشش کریں گے؛ اور اگر کبھی ہم سے کوئی ایسا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو ہم اس پر پشیمان ہونے اور اس کا ازالہ کرنے کے لیے بھی تیار رہیں گے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے 11 عہد مقرر کیے تھے، جن میں عدم تشدد، چوری سے پرہیز، برہمچریہ، ضرورت سے زیادہ مال و اسباب جمع نہ کرنا ، جسمانی محنت، ذائقے پر قابو، بے خوفی، تمام مذاہب کے لیے یکساں احترام، سودیشی اور چھوا چھوت کا خاتمہ شامل ہیں۔ یہ 11 عہد آج بھی اتنے ہی اہم ہیں اور ہمیں ان پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے مذہب کی تبدیلی کو گناہ قرار دیا تھا۔ آج طلبہ نے بھی اپنے ‘سوادھرم’ کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد لیا ہے۔

مرکزی وزیرداخلہ  جناب امت شاہ نے کہا کہ کھادی محض ایک کپڑا یا معاشی سرگرمی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سوچ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کے ہر پہلو میں سودیشی کے جذبے کو اپنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 14-2013میں کھادی اور دیہی صنعتوں کا کاروبار 31,000 کروڑ روپے تھا، جو26-2025 میں بڑھ کر 1.87 لاکھ کروڑ روپے ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے صفائی ستھرائی پر بہت زور دیا تھا اور آج ملک میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جہاں بیت الخلا نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے صفائی ستھرائی کی اقدار کو تعلیم کے ساتھ جوڑ کر نئی نسل میں ان اقدار کو پروان چڑھانے کے لیے کام کیا ہے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ زبانوں کے علم کے لیے دنیا کی کوئی بھی زبان سیکھنے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم، اس سے بڑی غلطی اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ یہ سوچا جائے کہ اپنی زبان میں بات کرنے سے انسان کمتر ہو جائے گا۔ زبان ہی ہمیں اپنے ملک کی اقدار، تاریخ اور اپنی جڑوں سے جوڑتی ہے۔ اسی لیے گاندھی جی نے بھی اپنی زبان کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے گرام سوراج، گرام سمردھی اور باہمی تعاون پر بھی زور دیا تھا۔ مودی حکومت ان تینوں شعبوں میں نئے سرے سے کام کر رہی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ نوآبادیاتی دور میں بھی، بار بار ناکامیوں اور مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود، گاندھی جی ہمیشہ ملک کی ‘نَو نِرمان’ کے بجائے ‘پُنر نِرمان’ کی بات کرتے تھے۔ گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ہزاروں برس سے جن اصولوں پر عمل ہوتا آیا ہے، وہ تبدیل نہیں ہوں گے، البتہ ہم ملک کو جدید بنائیں گے اور اس کی تعمیرِ نو کریں گے۔ جناب شاہ نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں کے دوران ملک تعمیرِ نو کی راہ پر آگے بڑھا ہے۔ مودی حکومت نے 2014 سے 2026 تک ملک کی طاقت، خوشحالی، سلامتی، خود انحصاری اور قیادت میں اخلاقیات کو بنیادی اصول بناتے ہوئے آگے بڑھنے کے لیے مسلسل اور متحد کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک نے آزادی کے 75 سال مکمل کیے تو وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کے نوجوانوں کے سامنے یہ عزم رکھا کہ 2047 تک، یعنی بھارت کی آزادی کی صد سالہ سالگرہ تک، بھارت کو ہر شعبے میں دنیا کا نمبر ایک ملک بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم دنیا میں سرفہرست بن جاتے ہیں تو ہم صرف اپنے بارے میں نہیں بلکہ پوری دنیا کی فلاح و بہبود کے بارے میں سوچیں گے۔ ہم طاقتور ہوں گے، لیکن اپنی طاقت کا استعمال دانش مندی اور سمجھ داری کے ساتھ کریں گے۔ ہم خوشحال ہوں گے، لیکن یہ خوشحالی ملک کے ہر شہری اور دنیا بھر کے ہر مصیبت زدہ انسان کے لیے ہوگی۔ اسی وژن کے ساتھ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج کے نوجوانوں کے سامنے 2047 کے بھارت کا وژن پیش کیا ہے۔

 

*****

 (ش ح ۔   ع و۔ت ا)

U. No. 2697


(ریلیز آئی ڈی: 2304081) وزیٹر کاؤنٹر : 7