کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

صنعتو تجارت کے وزیر جناب پیوش گوئل کا جاپان کا دورہ اختتام پذیر؛ جاپانی سرمایہ کاری میں اضافے اور ہندوستان کے ساتھ مضبوط صنعتی شراکت داری پر زور

جناب پیوش گوئل نے ہندوستان کی چھ نکاتی سیمی کنڈکٹر حکمتِ عملی کو اجاگر کیا اور جاپانی ٹیکنالوجی و سرمایہ کاری کو ہندوستان میں مدعو کیا

جاپانی کمپنیوں نے ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی نظام میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی

جناب پیوش گوئل نے آئندہ دہائی کے دوران ہندوستان میں 10 ٹریلین جاپانی ین کی نجی جاپانی سرمایہ کاری کا ہدف حاصل کرنے پر زور دیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 27 AUG 2026 2:55PM by PIB Delhi

صنعت و تجارت  کے وزیر جناب پیوش گوئل نے بدھ کے روز جاپان کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کیا۔ اس دورے کے دوران ٹوکیو، ناگویا اور اوساکا میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ منعقد ہوا، جن کا مقصد بھارت میں جاپانی سرمایہ کاری کو تیز کرنا، صنعتی شراکت داری کو مضبوط بنانا اور ابھرتے ہوئے اور اہم شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینا تھا۔

دورے کے دوران جناب پیوش گوئل نے جاپان کی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں، مالیاتی اداروں اور کاروباری شعبے کے سرکردہ نمائندوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ ان میں بھارت میں نمایاں یا بڑھتی ہوئی دلچسپی رکھنے والی 30 سے زائد بڑی جاپانی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی قیادت بھی شامل تھی۔ ان ملاقاتوں میں سرمایہ کاری کو وسعت دینے، مضبوط اور لچک دار سپلائی چینز کو مستحکم کرنے، ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

دورے کا ایک اہم مقصد بھارت کے لیے جاپان سے طویل مدتی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا تھا۔ جناب پیوش گوئل نے جاپان کے سرکردہ مالیاتی اداروں، جن میں ایم یو ایف جی، میزُو ہو، نومورا، نِپون لائف، ڈیولپمنٹ بینک آف جاپان اور مورگن اسٹینلے ایم یو ایف جی سیکیورٹیز شامل ہیں، کے علاوہ دیگر بڑے سرمایہ کاری اور مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے بھی بات چیت کی۔ ان مذاکرات میں بھارت میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مزید فروغ دینے اور ملک کے وسعت پذیر بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور مالیاتی نظام کی ترقی میں معاونت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر موصوف نے کیپٹل گڈز، مشینری اور آٹوموٹیو؛ سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت؛ اسٹارٹ اَپس؛ اور غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے موضوعات پر شعبہ جاتی گول میز اجلاسوں کی صدارت بھی کی۔ ان اجلاسوں میں جاپان اور بھارت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کاروباری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی، جس سے ٹھوس سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور تجارتی شراکت داری کے امکانات کی نشاندہی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم ہوا۔ خاص طور پر بھارت کے دوسرے اور تیسرے درجے کے سپلائرز کے نظام اور بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے ساتھ شراکت داری کے مواقع پر توجہ مرکوز کی گئی۔

سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق گول میز اجلاس میں جناب پیوش گوئل نے عالمی سطح پر مسابقت کے قابل سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام تشکیل دینے کے ہندوستان کے عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2032 تک سیمی کنڈکٹرز کی  مانگ  150 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے حکومت کی چھ نکاتی حکمتِ عملی کی تفصیل بھی پیش کی، جس میں چِپ ڈیزائن، سیمی کنڈکٹر مشینری اور خام مال، سیمی کنڈکٹر کی تیاری، اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی، تحقیق و ترقی اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری شامل ہیں۔

جناب پیوش گوئل نے زور دیا کہ ہندوستان کے پاس موجود ہنرمند اور نوجوان افرادی قوت، جاپان کی جدید ترین ٹیکنالوجی، انجینئرنگ کی مہارت اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر ہندوستان  میں عالمی معیار کے سیمی کنڈکٹر اور ٹیکنالوجی انقلاب کو تیز کر سکتی ہے۔ انہوں نے بھارت میں قابلِ تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور مضبوط قومی بجلی کے گرڈ کو سیمی کنڈکٹرز کی تیاری، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز جیسی توانائی کی زیادہ کھپت والی صنعتوں کے فروغ کے لیے اہم معاون عوامل قرار دیا۔

سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مذاکرات میں شریک جاپانی کمپنیوں نے سیمی کنڈکٹر کے خام مال اور آلات، پاور سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت، لاجسٹکس اور متعلقہ جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھارت میں اپنی موجودگی کو وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی۔ مذاکرات میں دھولیرا اور سَنند جیسے ابھرتے ہوئے سیمی کنڈکٹر مراکز کے لیے ضروری معاون سہولیات، مثلاً قابلِ اعتماد بجلی، انتہائی صاف پانی، ہنرمند افرادی قوت اور سماجی بنیادی ڈھانچے کی دستیابی پر بھی غور کیا گیا۔

وزیر موصوف نے جاپان کے وزیر برائے معیشت، صنعت و تجارت عالی جناب اکازاوا ریوسی کے ساتھ ساتھ جے ای ٹی آر او، جے بی آئی سی اور جے آئی سی اے کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی بات چیت کی۔ ان مذاکرات میں تجارت و سرمایہ کاری، مضبوط اور لچک دار سپلائی چینز، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں تعاون، ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور بھارت کی ترقی کے سفر میں جاپانی کمپنیوں کی مزید وسیع شمولیت جیسے امور کا احاطہ کیا گیا۔

ایک ہزار پانچ سو سے زائد سرکردہ جاپانی کمپنیوں کی نمائندگی کرنے والی کیڈان رین (جاپان بزنس فیڈریشن) کے ساتھ بات چیت میں جناب پیوش گوئل نے بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے بڑھتے ہوئے دائرۂ کار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری روایتی تجارت کے ساتھ ساتھ اقتصادی سلامتی، مضبوط اور لچک دار سپلائی چینز، جدید ٹیکنالوجی، صاف ستھری توانائی، دفاع سے متعلق مینوفیکچرنگ اور عوامی سطح پر روابط جیسے شعبوں تک پھیل رہی ہے۔ انہوں نے جاپانی کمپنیوں کو بھارت میں اپنی سرمایہ کاری بڑھانے اور کاروباری موجودگی کو مزید وسعت دینے کی دعوت دی۔

جاپانی کاروباری رہنماؤں نے وزیر موصوف کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور اہم معاملات پر ان کی دستیابی اور فعال بات چیت کی ستائش کی۔ بھارت کی ترقی کی صلاحیت پر اپنے پختہ اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ملک میں اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جناب پیوش گوئل نے ناگویا میں منعقدہ ’’انڈیا-جاپان  نیکسٹ جنریشن ایکونومک پارٹنر شپ‘‘ روڈ شو سے بھی خطاب کیا۔ یہ روڈ شو چُکیرین اور دیگر سرکردہ کاروباری تنظیموں کے تعاون سے منعقد کیا گیا تھا۔ اس میں چوُبو خطے کی 80 سے زائد جاپانی کمپنیوں نے شرکت کی۔ اس دوران آٹوموبائل، ایرو اسپیس، مشین ٹولز، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس، آٹو پارٹس اور چھوٹی و درمیانی درجے کی صنعتوں سمیت مختلف شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ جناب پیوش گوئل نے زور دیا کہ ہندوستان  کی نوجوان اور باصلاحیت افرادی قوت اور چوُبو خطے کی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کے شعبے میں مضبوط صلاحیتوں کا امتزاج مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی شراکت داریوں کے لیے وسیع امکانات فراہم کرتا ہے۔

ہندوستان   کی مضبوط اقتصادی بنیادوں کو اجاگر کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ عالمی چیلنجز کے باوجود ہندوستانی معیشت نے 7.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے اور 2047 تک 30 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بننے کے ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان  کا وسیع اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا متوسط طبقہ، پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، مضبوط بینکاری شعبہ، قابلِ تجدید توانائی کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور کاروباری ماحول میں مسلسل بہتری طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے نمایاں مواقع پیدا کر رہی ہے۔

اس دورے کے دوران اگلی دہائی میں ہندوستان   میں جاپانی نجی شعبے کی 10 ٹریلین ین کی سرمایہ کاری کے ہدف کی جانب بھی پیش رفت ہوئی۔ یہ ہدف 2025 میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے دورۂ جاپان کے دوران طے کیا گیا تھا۔ جناب پیوش گوئل نے جاپانی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان   کی ترقی کے اگلے مرحلے میں بالخصوص مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، مالیاتی خدمات، سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، صاف ستھری توانائی اور دیگر اگلی نسل کی صنعتوں میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

وزیر موصوف نے نِکّئی ایشیا کی جانب سے منعقدہ ایک خصوصی گفتگو میں بھی شرکت کی، جس کی نظامت نِکّی ایشیا نے کی۔ اس دوران انہوں نے جاپان اور بھارت کی کاروباری اور میڈیا برادریوں کے نمائندوں کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی بدلتی ہوئی سمتوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

اس دورے نے ہند-جاپان خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری میں موجود مضبوط رفتار کی ایک بار پھر توثیق کی اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور صنعتی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی کوششوں کو نئی تحریک فراہم کی۔ اس دورے سے ہندوستان  کو عالمی سطح پر مسابقت کے قابل مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے عمل میں جاپانی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی بنیاد مضبوط ہوئی، جبکہ باہمی مفاد پر مبنی ترقی اور  اختراع کے لیے تعاون کے نئے راستے بھی کھلے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ش ح۔ ت ف۔ ن م۔

U- 2654

                          


(ریلیز آئی ڈی: 2303774) وزیٹر کاؤنٹر : 8