PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی شکر کی صنعت


شعبے، ویلیو چین اور حالیہ قیمتوں میں اضافے کو سمجھنا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 AUG 2026 2:09PM by PIB Delhi

بھارت کی شکر کی صنعت ایک نظر میں

بھارت کی شکر کی صنعت ایک اہم زرعی، صنعتی اور دیہی روزگار سے وابستہ نظام ہے۔ بھارت دنیا میں گنے کی پیداوار کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ گنے کا شعبہ تقریباً 5 کروڑ کسانوں اور شکر کی ملوں اور اس سے وابستہ صنعتوں میں تقریباً 5 لاکھ کارکنوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔

  • وزارتِ زراعت و کسان بہبود کی جانب سے جاری کردہ پیداوار کے تیسرے پیشگی تخمینے کے مطابق، 26-2025 میں بھارت میں گنے کی پیداوار 500 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ یہ 16-2015میں 348.44 ملین میٹرک ٹن کی پیداوار کے مقابلے میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران تقریباً 43.5 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

  • گنے کی کاشت کی رقبے میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ 16-2015 میں 49.27 لاکھ ہیکٹر سے بڑھ کر 26-2025 میں 58.87 لاکھ ہیکٹر ہو گیا ہے۔
  • اتر پردیش اور مہاراشٹر بھارت میں گنے کی پیداوار کرنے والی سرکردہ ریاستیں ہیں۔
  • بھارت نے 26-2025 میں 8 لاکھ میٹرک ٹن شکر برآمد کی، جبکہ17-2016 میں شکر کی برآمد 0.47 لاکھ میٹرک ٹن تھی۔

  • حکومت نے شکر کے سیزن27-2026 (اکتوبر تا ستمبر) کے لیے گنے کی سرکاری کم سے کم قیمت اور منافع بخش قیمت (ایف آر پی) 365 روپے فی کوئنٹل مقرر کی ہے۔ اس قیمت پر 10.25 فیصد کی بنیادی ریکوری شرح مقرر ہے۔ یہ قیمت شکر کے سیزن17-2016 کی ایف آر پی کے مقابلے میں 135 روپے زیادہ ہے، جب گنے کی قیمت 230 روپے فی کوئنٹل مقرر کی گئی تھی اور بنیادی ریکوری شرح 9.5 فیصد تھی۔
  • بھارتی شکر کی بڑی برآمدی منڈیوں میں سری لنکا، مغربی ایشیا اور مشرقی افریقہ شامل ہیں۔
  • شکر کے وافر اضافی ذخائر دستیاب ہیں اور26-2025 میں شکر کی پیداوار بھی ضرورت کے مطابق خاطر خواہ مقدار میں  رہنے کی توقع ہے۔

 

بھارت کی شکر کی صنعت کا ایتھنول کی آمیزش کو فروغ دینے میں رول  

پٹرول میں ایتھنول کی آمیزش کا مقصدحیاتیاتی  ایندھن پر انحصار کم کرنا اور توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے پائیدار متبادل ایندھن کے فروغ کی کوششوں سے ہم آہنگ ہے۔ اس اقدام سے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، کیونکہ انہیں آمدنی کا ایک مستحکم ذریعہ ملتا ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں بھی کمی آتی ہے۔ تاہم، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ایتھنول کی آمیزش سے ملک میں گھریلو استعمال کے لیے شکر کی قلت پیدا ہو جائے گی۔

  • ایتھنول کی پیداوار کے لیے منتقل کی جانے والی شکر کا حصہ 23-2022 میں تقریباً 12 فیصد سے کم ہو کر 26-2025میں تقریباً 9 فیصد رہ گیا ہے۔
  • مزید برآں، اب ملک میں پیدا ہونے والے ایتھنول کا تقریباً تین چوتھائی حصہ اناج، بالخصوص مکئی سے حاصل ہوتا ہے۔

درحقیقت، ایتھنول پروگرام نے گنے کے کسانوں کو فائدہ پہنچانے اور شکر کی ملوں کو مالی طور پر مستحکم بنانے میں مدد کی ہے:

  • بھارت میں اوسطاً ہر سال تقریباً 300 سے 340 لاکھ میٹرک ٹن شکر پیدا ہوتی ہے۔
  • بھارت میں گھریلو سطح پر شکر کی سالانہ کھپت تقریباً 280 سے 290 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔
  • جن برسوں میں شکر کی  زیادہ پیداوار ہوئی ہے وہاں شکر کے اضافی ذخائر شکر کی ملوں کے سرمائے میں رخنہ انداز ہوتے ہیں اور گنے کے کسانوں کو ادائیگی میں تاخیر ہوتی ہے۔ اضافی شکر کو ایتھنول کی پیداوار کی طرف منتقل کرنے سے اس ڈھانچہ جاتی  مسئلے سے نمٹنے میں مدد ملی ہے اور شکر کی ملوں کی مالی حالت بہتر ہوئی ہے۔
  • 20 اگست 2026 تک، 26-2025 کے شکر سیزن کے لیے گنے کے کسانوں کے واجبات کا 97 فیصد پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے۔
  • شکر کی ملوں کی بہتر مالی حالت نے سرکاری امداد پر ان کا انحصار کم کر دیا ہے۔
  • اسی دوران، صارفین کے لیے شکر کی خردہ قیمتیں بھی مجموعی طور پر مستحکم رہی ہیں اور اگست 2024 سے جولائی 2026 کے درمیان ان میں سالانہ بنیاد پر صرف تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

 

موجودہ شکر کی قیمتوں میں اضافے کا تجزیہ

حالیہ ہفتوں کے دوران شکر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 20 جولائی 2026 کو شکر کی قیمت 48.18 روپے فی کلوگرام تھی، جو 20 اگست 2026 کو بڑھ کر 55.70 روپے فی کلوگرام ہو گئی۔ اس طرح ایک ماہ کے اندر قیمت میں تقریباً 15.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم، اس حالیہ اضافے کو طویل مدتی رجحان سے الگ کرکے دیکھنا ضروری ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، اگست 2024 سے جولائی 2026 کے درمیان شکر کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر صرف تقریباً 3 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ اضافہ بنیادی قیمتوں کے رجحان میں تبدیلی کے بجائے بڑی حد تک قلیل مدتی  سپلائی اور مارکیٹ سے متعلق عوامل کا نتیجہ ہے۔

موجودہ شکر کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں متعدد عوامل شامل ہیں، جن میں درج ذیل اہم ہیں:

  • ملکی پیداوار توقع سے کم رہنا،
  • تہواروں کے موسم سے قبل مانگ  میں اضافہ،
  • موسمی حالات کے باعث گنے کی فصل کو پہنچنے والا نقصان،
  • عالمی سطح پر شکر کی  سپلائیوں میں کمی اور قیمتوں میں اضافہ، اور
  • صنعت کے بعض حلقوں کی جانب سے قیاس آرائی اور ذخیرہ اندوزی۔

 

موجودہ سیزن کے دوران شکر کی پیداوار تقریباً 306 لاکھ میٹرک ٹن رہنے کی توقع ہے، جبکہ ابتدائی تخمینہ تقریباً 343 لاکھ میٹرک ٹن تھا۔ پیداوار دو عوامل سے متاثر ہوئی ہے: ریڈ روٹ اور ٹاپ بورر جیسی بیماریوں اور ضرورت سے زیادہ بارش کے باعث کھیتوں میں پانی جمع ہونے سے۔ تاہم، پیداوار کے تخمینے سے کم رہنے کے باوجود، ملک میں گھریلو  مانگ  پوری کرنے کے لیے شکر کے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔ شکر کی نئی کرشنگ کا سیزن اکتوبر میں شروع ہوگا۔

شکر کی سپلائی  میں کمی ایک عالمی رجحان ہے اور یہ مسئلہ صرف بھارت تک محدود نہیں ہے۔ 27-2026 میں عالمی سطح پر شکر کی کمی کا تخمینہ تقریباً 33 لاکھ میٹرک ٹن لگایا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی شکر کی قیمتیں 30 جون 2026 کو 474 ڈالر فی ٹن سے تیزی سے بڑھ کر 20 اگست 2026 کو 552 ڈالر فی ٹن ہو گئی ہیں۔ اس طرح دو ماہ سے بھی کم عرصے میں قیمتوں میں 16 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔

 

جدول 1: شکر کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق مفروضے اور حقائق

 

مفروضہ

حقیقت

ایتھنول  کے لیے منتقل کیا جانا چینی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنا۔

چینی کو ایتھنول کی پیداوار کی طرف  منتقل کر دیا گیا جو23-2022 میں 12 فیصد سے کم ہو کر 26-2025 میں تقریباً 9 فیصد رہ گیا ہے۔

ایتھنول  کے سبب صارفین  کو چینی  کی قلت درپیش

ہندوستان کا تقریباً تین چوتھائی ایتھنول اب اناج، خاص طور پر مکئی سے آتا ہے۔

بھارت کو چینی کی کمی کا سامنا ہے۔

نئے کرشنگ سیزن کے شروع ہونے تک مقامی  مانگ  کو پورا کرنے کے لیے مناسب ذخیرہ  دستیاب ہیں۔

چینی کی عالمی قیمتیں مستحکم رہیں۔

بین الاقوامی قیمتیں $474 سے بڑھ کر $552 فی ٹن ہوگئیں، جو دو ماہ سے بھی کم عرصے میں 16 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔

بھارت کی چینی کی پیداوار میں کمی آئی ہے

موجودہ پیداوار کا تخمینہ 306  لاکھ میٹرک ٹن  لگایا گیا ہے جو کہ 343  لاکھ میٹرک ٹن  کے ابتدائی تخمینہ سے کم ہے۔

چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اگست 2024 اور جولائی 2026 کے درمیان طویل مدتی قیمتوں میں سالانہ تقریباً 3 فیصد  کا اضافہ ہوا۔  قیمت میں موجودہ اضافہ عارضی ہے۔

 

حکومت نے مشاہدہ کیا ہے کہ شکر کی بعض ملوں اور تاجروں کی جانب سے قیاس آرائی اور ذخیرہ اندوزی نے بھی حالیہ قیمتوں میں اضافے میں اپنا  رول  ادا کیا ہے۔

 

شکر کی ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے اور  سپلائی  میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت کی کوششیں

 

شکر کی قیمتوں میں قلیل مدتی اضافے پر قابو پانے اور جاری ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے حکومت نے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:

 

1۔ ملک بھر میں شکر کے تاجروں کے لیے یکم اگست 2026 سے 30 نومبر 2026 تک 400 ٹن کی ذخیرہ حد مقرر کی گئی ہے۔

2۔ یکم ستمبر 2026 سے بڑی مقدار میں شکر استعمال کرنے والے صارفین کو 15 دن کی کھپت سے زیادہ شکر کا ذخیرہ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

3۔ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی طور پر قلت  ظاہر کرنے کی روک تھام کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومت کے افسران پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں شکر کی ملوں میں موجود ذخائر کی موقع پر جا کر جانچ کر رہی ہیں۔

4۔ احتیاطی اقدام کے طور پر حکومت نے ملکی سطح پر شکر کی دستیابی بڑھانے کے لیے 10 لاکھ میٹرک ٹن خام شکر کی بلا محصول درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

5۔ ریاستوں اور شکر کی ملوں کو 15 اکتوبر 2026 سے گنے کی کرشنگ شروع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس سے اکتوبر میں شکر کی پیداوار معمول کے 3 سے 4 لاکھ میٹرک ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 10 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔ اس سے تہواروں کے موسم کے دوران شکر کی دستیابی بہتر ہوگی۔

 

موجودہ قیمتوں میں اضافے سے آگے کا  جائزہ عمل

بھارت کا شکر کا شعبہ ایک متنوع صنعت کی شکل اختیار کر چکا ہے، جو کسانوں، شکر کی ملوں، توانائی کی پیداوار اور عالمی تجارت کو سہارا دیتا ہے۔ حالیہ عرصے میں قیمتوں پر پڑنے والے دباؤ کی وجوہات میں کم پیداوار، موسمی  مانگ، عالمی سطح پر  سپلائی کی صورتحال اور مارکیٹ سے متعلق عوامل شامل ہیں۔ تاہم، شعبے کی مجموعی ترقی اور تنوع کے وسیع تر تناظر میں یہ دباؤ عارضی نوعیت کے ہیں۔ حکومت کی ترجیح بدستور صارفین کے مفادات کے تحفظ، کسانوں کو بروقت ادائیگی اور صنعت کے استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے۔

 

حوالہ جات

وزارت برائے زراعت اور کسانوں کی بہبود

 

https://dfpd.gov.in/sugar-policy/en

https://www.nfsm.gov.in/BriefNote/BN_Sugarcane.pdf

https://sansad.in/getFile/annex/241/Au1986.pdf?source=pqars

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2258113&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/Pressreleaseshare.aspx?PRID=1555573&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2302874&reg=48&lang=1

 

وزارت برائے  تجارت و صنعت

 

https://agriwelfare.gov.in/Documents/Time_Series_3rdAE_2025_26_En.pdf

https://agriexchange.apeda.gov.in/India/GenerateAPEDAProductReport/Index

https://www.ibef.org/blogs/from-fields-to-fuel-the-indian-sugar-industry-s-role-in-advancing-ethanol-blending

 

وزارت برائے  پٹرولیم اور قدرتی گیس

https://www.pib.gov.in/PressReleaseDetail.aspx?PRID=2249431&reg=3&lang=2

وزارت برائے صارفین  کے امور ،خوراک اور عوامی نظام تقسیم

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2302018&lang=1&reg=3

PIB Backgrounder

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245639&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2248987&reg=3&lang=1

*******

ش ح۔ ش ب۔ ش ا

U.NO. 2635

 


(ریلیز آئی ڈی: 2303636) وزیٹر کاؤنٹر : 9