PIB Backgrounder
یو پی آئی:بھارت ادائیگی کے نظام میں انقلاب برپا کررہاہے
प्रविष्टि तिथि:
24 AUG 2026 2:19PM by PIB Delhi
متحدہ ادائیگی کے نظام کی جانب سفر
گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے ایک ایسے آسان اور محفوظ ادائیگی کے نظام کی تشکیل کا وژن کارفرما ہے، جو ہر شہری کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا (این پی سی آئی) کے تیار کردہ متحدہ ادائیگی انٹرفیس (یو پی آئی) نے بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی کے انقلاب میں بنیادی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ آج یو پی آئی کو 11 ممالک میں قبول کیا جاتا ہے، جن میں یونان اور مالدیپ حال ہی میں بھارت کے فوری ادائیگی کے پلیٹ فارم کو اپنانے والے ممالک ہیں۔
یو پی آئی اور اس کا ارتقاء
اپنے باہمی مطابقت رکھنے والے ڈیزائن اور استعمال میں آسانی کے باعث، یو پی آئی نے افراد، کاروباری اداروں اور سرکاری اداروں کے لین دین کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔
- ایک ایسا فوری ادائیگی کا نظام جو کسی بھی شریک بینک یا ادائیگی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کی ایک موبائل ایپ کے ذریعے متعدد بینک کھاتوں کو چلانے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
- متعدد بینکاری خدمات، رقم کی منتقلی اور تاجروں کو ادائیگیاں ایک ہی پلیٹ فارم پر مربوط کرتا ہے۔
- چوبیس گھنٹے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
- لین دین کی سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو مرحلہ جاتی تصدیق اور اینڈ ٹو اینڈانکرپشن کا استعمال کرتا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران یو پی آئی بھارت کے ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ یو پی آئی کے ارتقا کے چند اہم سنگِ میل درج ذیل ہیں:
2016
- اپریل 2016 میں 21 رکن بینکوں کے ساتھ یو پی آئی کا آزمائشی بنیادوں پر آغاز کیا گیا۔
- اگست 2016 میں اسے عوام کے لیے متعارف کرایا گیا، جب شریک بینکوں نے اپنی یو پی آئی سے فعال موبائل ایپلی کیشنز گوگل پلے اسٹور پر دستیاب کرائیں۔
- دسمبر 2016 میں یو پی آئی کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ممکن بنانے کے لیے بھیم ایپلی کیشن کا آغاز کیا گیا۔ اس کے ذریعے صارفین موبائل آلات کے ذریعے براہِ راست ایک بینک کھاتے سے دوسرے بینک کھاتے میں رقم منتقل کر سکتے ہیں۔
2017
- شاندار پہل کے ساتھ کیو آر متعارف کرایا گیا، جو ریٹیل تاجروں کے لیے یو پی آئی ادائیگیوں کا ایک پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے ڈائنامک کیو آر کوڈز استعمال کرتے ہوئے ادائیگی کی جا سکتی ہے۔ ان کوڈز میں ادائیگی وصول کرنے والے کی معلومات اور درست رقم سمیت لین دین کی تفصیلات خودکار طور پر شامل ہوتی ہیں، جس سے رقم دستی طور پر درج کرنے کی ضرورت ختم ہوگئی۔
2018
- یو پی آئی 2.0 متعارف کرایا گیا، جس میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کو مزید آسان، محفوظ اور بلارکاوٹ بنانے کے لیے جدید سہولیات شامل کی گئیں۔
- انوائس اِن دی اِن باکس کی سہولت کے ذریعے صارفین ادائیگی کی منظوری دینے سے پہلے بل یا انوائس دیکھ سکتے ہیں۔
- دستخط شدہ انٹینٹ اور کیو آر کی سہولت ادائیگی کی منظوری کے عمل کو آسان بناتے ہوئے سکیورٹی کو برقرار رکھتی ہے۔
- یو پی آئی مینڈیٹس کے ذریعے پیشگی اجازت دی گئی ہدایات کے تحت بار بار ہونے والی ادائیگیاں کی جا سکتی ہیں۔
- اوور ڈرافٹ اکاؤنٹ کو منسلک کرنے کی سہولت صارفین کو اپنے اوور ڈرافٹ اکاؤنٹس کے ذریعے یو پی آئی لین دین کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
2019
- سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے خوردہ انفرادی سرمایہ کاروں کو نامزد ثالثوں کے ذریعے آئی پی او کے لیے درخواست دیتے وقت یو پی آئی کو متبادل ادائیگی کے طریقۂ کار کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت دی۔
- اکتوبر 2019 میں یو پی آئی کے ذریعے ایک ماہ میں ایک ارب لین دین کا سنگِ میل عبور کیا گیا، جو ملک بھر میں اس کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت کا عکاس ہے۔
2020-2022
- یو پی آئی آٹو پے متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے سبسکرپشن، یوٹیلیٹی بل، انشورنس پریمیم، ایس آئی پی اور ای ایم آئی جیسی بار بار ہونے والی ادائیگیوں کے لیے الیکٹرانک مینڈیٹ کی سہولت فراہم کی گئی۔
- یو پی آئی 123 پے کے آغاز کے ذریعے فیچر فون استعمال کرنے والوں کو بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں شامل کیا گیا۔ اس کے ذریعے انٹرایکٹو وائس رسپانس (آئی وی آر) نمبر، ایپ پر مبنی سہولت، مسڈ کال کے ذریعے ادائیگی اور قربت پر مبنی صوتی ادائیگی کے طریقوں سے لین دین کیا جا سکتا ہے۔
- یو پی آئی لائٹ متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے کم مالیت کی ادائیگیاں زیادہ تیزی سے اور پن کے بغیر کی جا سکتی ہیں۔
- کریڈٹ کارڈز کو یو پی آئی کے ساتھ مربوط کرنے سے صارفین کے لیے ڈیجیٹل ادائیگی کے مزید اختیارات دستیاب ہوئے۔
- مالی سال 2021-22 کے دوران یو پی آئی نے ایک ٹریلین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے لین دین کیے اور مارچ 2022 میں ماہانہ پانچ ارب لین دین کا سنگِ میل عبور کیا۔
- یو پی آئی نے بین الاقوامی سطح پر بھی توسیع کی اور بھوٹان میں اس کے آغاز کے ساتھ سرحد پار ادائیگی کے شعبے میں قدم رکھا۔
2023
- یو پی آئی پر کریڈٹ لائن متعارف کرائی گئی، جس کے ذریعے پہلے سے منظور شدہ بینک کریڈٹ لائنوں کو ادائیگی کے لیے فنڈنگ اکاؤنٹ کے طور پر منسلک کیا جا سکتا ہے۔
- مالی سال 2023-24 کے دوران بھارت میں ہونے والے ڈیجیٹل ادائیگی کے لین دین میں یو پی آئی کا حصہ تقریباً 70 فیصد رہا۔
2024
- یو پی آئی سرکل متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے بنیادی صارف اپنے بینک اکاؤنٹ سے ثانوی صارفین کو پہلے سے طے شدہ لین دین کی حدود کے ساتھ ادائیگیوں کی اجازت دے سکتا ہے۔
- بھارتی ریزرو بینک نے ٹیکس کی ادائیگی کے لیے یو پی آئی لین دین کی حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر فی لین دین پانچ لاکھ روپے کردی۔ سرمائے کی منڈی، آئی پی او کی رکنیت، قرض کی وصولی، انشورنس، صحت اور تعلیم سمیت بعض مخصوص شعبوں کے لیے بھی زیادہ حدود مقرر کی گئی ہیں۔
- یو پی آئی 123 پے کے ذریعے فی لین دین کی حد بڑھا کر 10,000 روپے کردی گئی، جس سے اس کے استعمال کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا۔
- یو پی آئی لائٹ والیٹ کی حد بڑھا کر 5,000 روپے کردی گئی، جبکہ فی لین دین کی حد بھی بڑھا کر 1,000 روپے کردی گئی۔
2025
- یو پی آئی کے لیے ڈیوائس پر تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا، جس کے ذریعے اسمارٹ فون کے فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت کے ذریعے ادائیگی کی جا سکتی ہے۔
- آدھار پر مبنی چہرے کی شناخت کے ذریعے یو پی آئی پن کے اندراج کا عمل آسان بنایا گیا، خصوصاً پہلی بار استعمال کرنے والوں، بزرگ شہریوں اور ایسے افراد کے لیے جنہیں کارڈ تک آسان رسائی حاصل نہیں ہوتی۔
یو پی آئی آج
یو پی آئی نے لین دین کی تعداد اور مالیت، دونوں میں غیر معمولی ترقی دیکھی ہے، جو افراد، کاروباری اداروں اور مالیاتی اداروں کی جانب سے اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔
مالی سال 2016-17 سے مالی سال 2025-26 تک:
- سالانہ لین دین کی تعداد 2 کروڑ سے بڑھ کر 24,162 کروڑ سے زائد ہوگئی، جو تقریباً 12,000 گنا اضافہ ہے۔
- سالانہ لین دین کی مالیت 0.07 لاکھ کروڑ روپے سے بڑھ کر تقریباً 314 لاکھ کروڑ روپے ہوگئی، جو 4,000 گنا سے زیادہ اضافہ ہے۔
یو پی آئی نے بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حجم اور رسائی کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ جولائی 2026 میں:
- یو پی آئی کے نظام میں 741 فعال بینک شامل تھے، جو بھارت کے بینکاری شعبے میں اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کی عکاسی کرتے ہیں۔
- یو پی آئی کے ذریعے 2,365.8 کروڑ لین دین کیے گئے۔
- لین دین کی مجموعی مالیت 29.87 لاکھ کروڑ روپے رہی۔
یو پی آئی کا عالمی دائرۂ کار
یو پی آئی دنیا بھر میں فوری ادائیگی کے ایک نمایاں نظام کے طور پر ابھرا ہے۔ 2024 تک عالمی سطح پر فوری ادائیگی کے لین دین کی تعداد میں یو پی آئی کا حصہ تقریباً 49 فیصد رہا۔ اس کامیابی کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جون 2025 میں شائع ہونے والی اپنی رپورٹ ’’خوردہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافہ: باہمی مطابقت کی اہمیت‘‘ میں اجاگر کیا۔
یو پی آئی کا عالمی دائرۂ کار مسلسل وسیع ہو رہا ہے
- یو پی آئی بھوٹان، نیپال، سنگاپور، متحدہ عرب امارات، فرانس، سری لنکا، ماریشس اور قطر میں فعال ہے، جہاں سرحد پار بلارکاوٹ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
- جون 2026 میں این پی سی آئی انٹرنیشنل پیمنٹس لمیٹڈ نے اے سی ایل ای ڈی اے بینک پی ایل سی کے ساتھ شراکت داری کی، جس کے تحت کمبوڈیا میں یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے کی سہولت شروع کی گئی۔ اس سے بھارت کے سرحد پار ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رابطے مزید مضبوط ہوئے۔
- جون 2026 میں یونان میں سرحد پار رقم کی منتقلی کے لیے یو پی آئی فعال ہوا، جہاں اہل صارفین یوروبینک کے ذریعے یونان اور بھارت کے درمیان فوری، محفوظ اور بلارکاوٹ رقم منتقل کر سکتے ہیں۔
- 30 جولائی 2026 کو مالدیپ کے فوری ادائیگی کے نظام ‘فوارا’ اور بھارت کے یو پی آئی کے درمیان سرحد پار رقم کی منتقلی کی سہولت شروع ہوگئی۔ یہ مالدیپ اور بھارت کے درمیان سرحد پار ڈیجیٹل مالیاتی رابطے اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔
- موجودہ وقت میں یو پی آئی 11 غیر ملکی ممالک میں یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی قبول کرنے اور/یا سرحد پار رقم کی منتقلی کی سہولت کے لیے فعال ہے۔
ڈیجیٹل تبدیلی کی ایک دہائی مکمل
یو پی آئی نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آسان، محفوظ اور باہمی مطابقت رکھنے والا بنا کر بھارت میں لین دین کے طریقۂ کار کو تبدیل کر دیا ہے۔ اس کے تیزی سے بڑھتے استعمال، مسلسل جدت طرازی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی موجودگی نے یو پی آئی کو بھارت کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے کا ایک اہم جزو بنا دیا ہے۔
حوالہ جات
الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
https://www.digitalindia.gov.in/initiative/unified-payment-interface-upi/
https://www.digitalindia.gov.in/growth-story/
https://www.digitalindia.gov.in/initiative/upi-123pay/
وزرات خزانہ
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1735075®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1810601&lang=2®=48
http://pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2110407®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2088182&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2257087&lang=1®=3
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200569®=48&lang=2
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268591®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2279646®=3&lang=1
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292288®=48&lang=2
National Payments Corporation of India (NPCI)
https://www.bhimupi.org.in/about-bhim.html
https://www.bhimupi.org.in/upi2.html
https://www.bhimupi.org.in/upiautopay.html
https://www.npci.org.in/product/upi/product-statistics
https://www.npci.org.in/product/upi/upi-lite
https://www.npci.org.in/product/upi-circle
https://www.npci.org.in/uploads/DFS_Secretary_Launches_Initiatives_to_Simplify_Digital_Payment_Experience_at_GFF_2025_c74afc4dd6.pdf
Ministry of Drinking Water & Sanitation
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1479881®=48&lang=2
RBI
https://rbi.org.in/scripts/BS_SpeechesView.aspx?Id=1034
https://rbi.org.in/scripts/BS_SpeechesView.aspx?Id=1327
https://www.rbi.org.in/Scripts/NotificationUser.aspx?Id=12532&Mode=0
https://rbi.org.in/scripts/BS_PressReleaseDisplay.aspx?prid=58449
https://rbidocs.rbi.org.in/rdocs/Speeches/PDFs/UPI170820182C164878486345FFBEC7D7A55B7B7892.PDF
Others
https://www.kotak.bank.in/en/stories-in-focus/accounts-deposits/current-account/what-is-upi-and-upi-full-form.html
https://www.bseindia.com/static/publicissues/unified-interface
https://razorpay.com/blog/what-is-upi-autopay-recurring-payments-razorpay-subscriptions/
https://bankingfrontiers.com/npci-launches-upi-platform-based-qr-codes/
Click here to see PDF
******
ش ح۔ ع ح۔اش ق
U. No. 2520
(रिलीज़ आईडी: 2302738)
आगंतुक पटल : 13