ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
منگولیا کے اولان باتر میں اقوام متحدہ کے صحرائی کٹاؤ سے نمٹنے کے کنونشن کی 17ویں کانفرنس میں بھارت نے زمین کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے متنوع، مناسب، قابلِ پیش گوئی اور مسلسل بین الاقوامی مالی معاونت کی ضرورت پر زور دیا
مرکزی وزیر ماحولیات نے زمین کی بحالی کے لیے بھارت کے کامیاب مخلوط سبز مالیاتی نظام کو اجاگر کیا
زمین کی بحالی اخراجات نہیں بلکہ خوراک، پانی، حیاتیاتی تنوع، روزگار اور طویل مدتی ماحولیاتی لچک کے لیے سرمایہ کاری ہے: جناب بھوپیندریادو
प्रविष्टि तिथि:
24 AUG 2026 12:05PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی جناب بھوپیندر یادو نے آج منگولیا کے اولان باتر میں منعقدہ اقوام متحدہ کے صحرائی کٹاؤ سے نمٹنے کے کنونشن (یو این سی سی ڈی) کی 17ویں کانفرنس آف پارٹیز (سی او پی 17) کے دوران ’ زمین اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے صحت مند اختراعی مالیاتی طریقۂ کار‘ کے موضوع پر منعقدہ وزارتی مکالمے میں زمین کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے بھارت کے اختراعی اور متنوع مالیاتی نظام کو اجاگر کیا۔

زمین کی بحالی میں مسلسل سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جناب یادو نے کہا، ’’زمین کی بحالی کوئی خرچ نہیں بلکہ خوراک، پانی، حیاتیاتی تنوع، روزگار اور طویل مدتی ماحولیاتی لچک کے لیے سرمایہ کاری ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بڑے پیمانے پر صحرائی کٹاؤ، زمین کی زرخیزی میں کمی اور خشک سالی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے سرکاری بجٹ سے ہٹ کر مالی وسائل کے متنوع، قابلِ پیش گوئی اور مستقل ذرائع کی ضرورت ہے، جس کے ساتھ سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری بھی ضروری ہے۔
مرکزی وزیر نے بھارت کے مخلوط سبز مالیاتی نظام کو اجاگر کیا، جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے، زمین کے پائیدار استعمال، جنگلات اور زراعت، شجرکاری اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے میں معاون ہے۔ انہوں نے سرکاری سبز بانڈز کو بھی زمین کی بحالی، خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت، پائیدار جنگلات اور ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی سے متعلق دیگر ترجیحات کے لیے سرمایہ کاری متحرک کرنے کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر اجاگر کیا۔
جناب یادو نے بھارت کے گرین کریڈٹ پروگرام کو اجاگر کیا، جس کے تحت سرکاری اور نجی اداروں کو انحطاط پذیر جنگلاتی اراضی کی بحالی کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کا موقع ملتا ہے۔ بحالی کا عمل پانچ سال مکمل ہونے اور کم از کم 40 فیصد درختوں کی چھتری (کینوپی )کی کثافت حاصل ہونے کے بعد کریڈٹ جاری کیے جاتے ہیں، جنہیں کمپنسیٹری (معاوضی) شجرکاری، قانونی طور پر لازمی شجرکاری یا کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے ایک مرتبہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بھارت کےکمپنسیٹری( معاوضی)ماحولیاتی تحفظ کے نظام کو بھی اجاگر کیا، جس کے تحت جنگلاتی اراضی کے غیر جنگلاتی استعمال کے عوض وصول ہونے والی رقم کوکمپنسیٹری شجرکاری اور ماحولیاتی نظام کی بحالی پر خرچ کیا جاتا ہے، جبکہ کارپوریٹ شعبے کی مالی معاونت کو ماحولیاتی ضابطہ جاتی عمل کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ گرین کریڈٹ پروگرام اور کمپنسیٹری شجرکاری فنڈز جیسے طریقۂ کار کے ذریعے سرکاری اور نجی مالی وسائل کو ایک ہی علاقے میں یکجا کرنا اور اس کے ساتھ شہریوں کی شمولیت کو یقینی بنانا، حکومت اور پورے معاشرے کی مشترکہ کوشش پر مبنی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ جناب یادو نے زور دے کر کہا، ’’مالی معاونت کا سلسلہ مسلسل جاری رہنا چاہیے، اس کی مؤثر طور پر تصدیق ممکن ہونی چاہیے اور اسے مقامی برادریوں سے جوڑا جانا چاہیے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بھارت کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملکی سطح پر پُرعزم مالی وسائل سے کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ زمین کی بحالی اور خشک سالی سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے اضافی، مناسب اور قابلِ پیش گوئی بین الاقوامی مالی معاونت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مرکزی وزیر نے اپنے تجربات، حفاظتی انتظامات، ادارہ جاتی نظام، حاصل شدہ اسباق اور ان شعبوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ جاری رکھنے کے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا جہاں طریقۂ کار میں بہتری یا اصلاح کی ضرورت ہے انہوں نے کہا، ’’بالآخر، اختراعی مالی معاونت کی کامیابی کا معیار اس کے طریقۂ کار یا متحرک کیے گئے مالی وسائل کی مقدار نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا یہ ان زمینوں، ماحولیاتی نظاموں اور مقامی برادریوں تک پہنچ رہی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور کیا اس کے نتیجے میں دیرپا بحالی اور ماحولیاتی لچک کو فروغ مل رہا ہے۔‘‘
****
ش ح۔ش ت۔ ش ا
U. NO.: 2510
(रिलीज़ आईडी: 2302646)
आगंतुक पटल : 10