ادویات سازی کا محکمہ
دنیا کی ’فارمیسی‘ سے ’دنیا کی لیبارٹری‘ بننے کی جانب بھارت کو آگے بڑھنا ہوگا؛ مصنوعی ذہانت کو انسانی طبی تشخیص کی صلاحیت کا متبادل نہیں بلکہ معاون ہونا چاہیے: مرکزی وزیر محترمہ انوپریا پٹیل
آئی آئی ایم احمدآباد ہیلتھ کیئر سمٹ 2026 میں وکست بھارت 2047 کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی بھارت کی صحتِ عامہ کے وژن پر غور و خوض
مقررین نے ادویات کی دریافت اور صحت کی خدمات کی فراہمی میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو اجاگر کیا
’انڈیا فارما آرکائیوز‘ اور بھارت کے کووڈ-19 ویکسین کے سفر پر مبنی کتاب کا اجرا
प्रविष्टि तिथि:
22 AUG 2026 4:03PM by PIB Delhi
بھارت کو ’دنیا کی فارمیسی‘ ہونے سے آگے بڑھ کر ’دنیا کی لیبارٹری‘ بننے کی جانب قدم بڑھانا چاہیے، جس کی بنیاد تحقیق، اختراع اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی پر ہو۔ یہ بات صحت و خاندانی بہبود اور کیمیکل و فرٹیلائزرز کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے کہی۔
آج احمدآباد میں آئی آی ایم اے میں ’صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینا‘ کے موضوع پر منعقدہ آئی آئی ایم اے ہیلتھ کیئر سمٹ 2026 کے تیسرے ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کووڈ-19 وبا کے دوران بھارت کے کردار کو اجاگر کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی دوا سازی کی صنعت نے 200 سے زائد ممالک کو ویکسین اور ضروری طبی مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی، جبکہ بھارت کے ویکسینیشن پروگرام کے تحت 2.2 ارب سے زائد خوراکیں دی گئیں۔
مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ اس میں ادویات کی دریافت کے عمل کو تیز کرنے، ہر مریض کے لیے مخصوص علاج ممکن بنانے اور بہتر اسکریننگ، طبی فیصلوں اور بیماریوں کی نگرانی کے ذریعے صحت کی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔
وزیر موصوف نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال محفوظ، ذمہ دارانہ اور انسانوں پر مرکز ہونا چاہیے، جبکہ مریضوں کی رازداری کے تحفظ کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی طبی فیصلوں کا متبادل بنانے کے بجائے ان کی معاونت کرنی چاہیے۔
انہوں نے حکومت، تعلیمی اداروں، صحت کے اداروں، اسٹارٹ اَپس اور صنعت کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے تجرباتی منصوبوں سے آگے بڑھ کر اسے بڑے پیمانے پر عوامی سطح پر نافذ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے لیے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز(ایمس )، نئی دہلی؛ پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پی جی آئی ایم ای آر) چندی گڑھ؛ اور ایمس، رشی کیش میں بہترین کارکردگی کے مراکز قائم کیے گئے ہیں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 5,000 کروڑ روپے کی فارما۔میڈ ٹیک شعبے میں تحقیق اور اختراع کے فروغ(پی آر آئی پی)اسکیم کا مقصد تحقیق اور صنعت و تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا اور اختراع پر مبنی ترقی کی جانب منتقلی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مرکزی بجٹ میں اعلان کردہ 10,000 کروڑ روپے کے بایوفارما شکتی مشن کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد بایولوجکس اور بایوسمی لرز کے شعبے میں صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، ہنرمند افرادی قوت تیار کرنا، ضابطہ جاتی اور کلینیکل ٹرائل کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور ملکی بایوفارماسیوٹیکل نظام کو مضبوط کرنا ہے۔
محکمہ فارماسیوٹیکلز کے سکریٹری جناب منوج جوشی نے دوا سازی اور صحت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑی دوا ساز کمپنیاں پیداوار، انسانی وسائل، مارکیٹنگ، تقسیم اور ذخیرے کے انتظام میں مصنوعی ذہانت کا استعمال تیزی سے بڑھا رہی ہیں، جبکہ خاص طور پر بنگلورو اور حیدرآباد کے اسٹارٹ اَپس ادویات کی دریافت کے لیےاے آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے ممکنہ ادویاتی امیدواروں کی تیزی سے شناخت اور انتخاب ممکن ہو رہا ہے اور نئی دوا کی دریافت میں لگنے والے وقت میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔
انہوں نے سرمایہ تک رسائی، سافٹ ویئر لائسنسنگ، کمپیوٹنگ صلاحیت اور خصوصی مہارت رکھنے والی افرادی قوت سے متعلق چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نیشنل بایوفارما مشن اور انڈیا اے آئی مشن سمیت مختلف اقدامات کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جناب جوشی نے یہ بھی بتایا کہ حکومت دوا سازی کے شعبے میں اے آئی پر مبنی اختراع کو مضبوط بنانے کے لیے اہل اسٹارٹ اَپس کو سافٹ ویئر لائسنسنگ اور آپریشنل اخراجات کے سلسلے میں خاطر خواہ مدد فراہم کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔
جناب جوشی نے مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ ہندوستانی اختراع کاروں کے لیے صحت اور جینیاتی اعداد و شمار کو قابلِ رسائی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کلینیکل ٹرائلز، درست علاج اور مریضوں کی سطح کے صحت سے متعلق اعداد و شمار کو ڈیجیٹل بنانے میں مصنوعی ذہانت کے امکانات کو بھی اجاگر کیا۔
محکمہ صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پونیا سلیلا سری واستوا نے مضبوط ڈیجیٹل صحت کے نظام کی تعمیر اور اے آئی کے ذمہ دارانہ اور شواہد پر مبنی استعمال کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت ڈیجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) باہمی طور پر مربوط اور کھلے معیارات پر مبنی ڈیجیٹل صحت کا نظام تشکیل دے رہا ہے۔ اس کے تحت 96 کروڑ سے زائد اے بی ایچ اے آئیڈیز بنائی جا چکی ہیں اور صحت کی سہولیات اور طبی ماہرین کے درمیان 1,000 کروڑ سے زائد صحت کے ریکارڈز کو ڈیجیٹل طور پر مربوط کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے تپِ دق اور ذیابیطس سے متعلق آنکھوں کی بیماری ذیابیطسی ر یٹینوپیتھی جیسی بیماریوں کی ابتدائی تشخیص کے لیے اے آئی پر مبنی ایپلی کیشنز کے ساتھ ساتھ ای سنجیونی کے ذریعےاے آئی پر مبنی طبی فیصلہ سازی میں معاونت کا بھی ذکر کیا، جس سے 20 کروڑ سے زائد مریض مستفید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے رازداری، ذمہ دارانہ اے آئی ، شواہد پر مبنی اختراع اور حکومت، تعلیمی اداروں، اسٹارٹ اَپس اور صنعت کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے انڈیا اے آئی مشن اور اے آئی کوش کے ذریعے ڈیٹا سیٹس، اے آئی ماڈلز اور ٹول کٹس تک رسائی کو عام کرنے کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
آئی آئی ایم احمدآباد کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اور زائڈس لائف سائنسز کے چیئرمین جناب پنکج پٹیل نے ادویات کی دریافت سے لے کر مریضوں کی دیکھ بھال تک صحت کے پورے شعبے میں اے آئی کی تبدیلی لانے والی صلاحیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی ممکنہ ڈرگ کینڈیڈیٹس کی شناخت کے عمل کو تیز کر سکتا ہے، کلینیکل ٹرائلز کے ڈیزائن اور مریضوں کے انتخاب میں مدد دے سکتا ہے اور محققین کو ناکامیوں کی پہلے ہی شناخت کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اس موقع پرانڈٰیا فارما آرکائیوز، انڈین فارماسیوٹیکل الائنس(آئی پی اے)اور آئی آئی ایم احمدآباد آرکائیوز کے اشتراک سے شروع کیا جانے والا ایک ڈیجیٹل منصوبہ متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد ہندوستان کی دوا سازی کی صنعت کے ارتقا کو دستاویزی شکل دینا اور اسے محفوظ رکھنا ہے۔ ایک لیونگ آرکائیوز کے طور پر تیار کیا گیا یہ پلیٹ فارم زبانی تاریخ، تاریخی دستاویزات، تصاویر اور نایاب میڈیا مواد کو یکجا کرتا ہے، جس کے ذریعے گزشتہ ایک صدی کے دوران اس شعبے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات، اداروں اور اہم سنگِ میل کو محفوظ کیا گیا ہے۔
اس موقع پر ہندوستان میں کووڈ-19 ویکسین کی تیاری پر مبنی ایک کتاب کا بھی اجراکیاگیا، جس میں عالمی صحت کے بحران کے دوران ملک کے سائنسی، دوا سازی اور ادارہ جاتی ردِعمل کے ایک اہم باب کو اجاگر کیا گیا ہے۔
آئی آئی ایم اے ہیلتھ کیئر سمٹ 2026 کا انعقاد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ احمدآباد آئی آئی ایم اے ) نے کیا۔ اس سربراہ اجلاس میں پالیسی سازوں، صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور صنعت و تعلیم کے نمائندوں نے شرکت کی اور ’ایڈوانسنگ اے آئی ان ہیلتھ کیئر‘‘یعنی ”صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کو فروغ دینا“ کے موضوع پر غور و خوض کیا۔ یہ موضوع حکومتِ ہند کےانڈیا اے آئی مشن اور 2047 تک ایک صحت مند اور وکست بھارت کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔
***
(ش ح۔ف ا۔ م ذ)
UR.No. 2478
(रिलीज़ आईडी: 2302374)
आगंतुक पटल : 10