ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
این بی اے نے 27 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز، 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں اور آئی سی اے آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل ریسرچ، کرناٹک کو 2.82 کروڑ روپے کے اے بی ایس فنڈز جاری کیے
प्रविष्टि तिथि:
22 AUG 2026 12:49PM by PIB Delhi
نیشنل بایو ڈائیورسٹی اتھارٹی (این بی اے) نے ہندوستان کے حیاتیاتی وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والے ایکسس اینڈ بینیفٹ شیئرنگ (اے بی ایس) نظام کے تحت 2.82 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ اس میں سے 2.80 کروڑ روپے 27 ریاستی حیاتیاتی تنوع بورڈز (ایس بی بی) اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حیاتیاتی تنوع کونسلوں (یو ٹی بی سی) کو دیے گئے ہیں، جبکہ 2.01 لاکھ روپے کرناٹک کے آئی سی اے آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر-آئی آئی ایچ آر) کو جاری کیے جارہے ہیں۔
این بی اے کو میسز ایڈوانٹا انٹرپرائزز لمیٹڈ (سابقہ میسز یو پی ایل لمیٹڈ) سے اے بی ایس کے تحت 2.94 کروڑ روپے موصول ہوئے۔ یہ رقم پھول گوبھی (براسیکا اولیریسیا ورائٹی بوٹریٹس) کی 8 ہائبرڈ اقسام، لال مرچ (کیپسیکم اینیوئم) کی 5 ہائبرڈ اقسام، بھنڈی (ایبیلموسکس ایسکیولینٹس) کی 5 ہائبرڈ اقسام اور ٹماٹر (سولانم لائیکوپرسیکم) کی 6 ہائبرڈ اقسام سے وابستہ جینیاتی وسائل کے استعمال کے عوض اے بی ایس کے تحت حاصل ہوئے۔
اس معاملے میں حیاتیاتی وسائل کسی دوسری کمپنی کے حصول کے ذریعے حاصل کیے گئے تھے اور مخصوص کسانوں، برادریوں یا کسی ایک قابل شناخت جغرافیائی ماخذ جیسے براہ راست فائدہ اٹھانے والوں کا تعین نہیں کیا جاسکا۔ اس کے بعد این بی اے نے ایسے معاملات میں فائدے کی رقم کی تقسیم اور استعمال کا مناسب طریقہ تجویز کرنے کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی سفارش کو اتھارٹی نے بعد میں منظور کرلیا۔
منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق این بی اے نے 2.80 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ رقم کی تقسیم میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں متعلقہ باغبانی فصلوں کی کاشت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ گجرات، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش بڑے استفادہ کنندہ ریاستوں میں شامل ہیں، جبکہ سب سے زیادہ حصہ حاصل کرنے والی 10 ریاستوں کی فہرست درج ذیل ہے:
|
نمبر شمار
|
ریاست
|
جاری کی گئی رقم
( لاکھ روپئے میں)
|
|
1
|
گجرات
|
44.59
|
|
2
|
مغربی بنگال
|
41.24
|
|
3
|
مدھیہ پردیش
|
32.73
|
|
4
|
اوڈیشہ
|
32.57
|
|
5
|
بہار
|
30.86
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
16.54
|
|
7
|
اتر پردیش
|
12.66
|
|
8
|
آندھرا پردیش
|
10.51
|
|
9
|
تمل ناڈو
|
10.49
|
|
10
|
مہاراشٹر
|
07.07
|
|
11
|
دیگر (20 ایس بی بیز/ یو ٹی بی سیز)
|
40.55
|
ایس بی بی اور یو ٹی بی سی کو جاری کیے گئے فنڈز کو عوامی حیاتیاتی تنوع رجسٹروں کی دستاویز سازی اور تجدید، ان سیٹو اور ایکس سیٹو تحفظ، تباہ شدہ ماحولیاتی نظام کی بحالی، حیاتیاتی ورثے کے مقامات کو مضبوط بنانے، حیاتیاتی تنوع کے انتظامی کمیٹیوں کی صلاحیت سازی اور مقامی لوگوں کے ذریعۂ معاش کو بہتر بنانے سمیت مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ متعلقہ اداروں کو رقم حاصل ہونے کے ایک سال کے اندر استعمال کا سرٹیفکیٹ اور اخراجات کی تفصیل پیش کرنا ہوگی۔
الگ سے، این بی اے کو ممبئی کی میسرز سومیٹومو کیمیکل انڈیا لمیٹڈ (سابقہ میسز ایکسل کراپ کیئر) سے 7.15 لاکھ روپے اے بی ایس رقم کے طور پر موصول ہوئے۔ یہ رقم کرناٹک کے آئی سی اے آر-انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہارٹیکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر-آئی آئی ایچ آر) سے حاصل کیے گئے دو مائکروبیل اسٹرینز، یعنی سیوڈوموناس فلوریسنس 1 فیصد ڈبلیو پی (اسٹرین آئی آئی ایچ آر-پی ایف-2) اور ٹرائیکوڈرما ہارزیانم 1 فیصد ڈبلیو پی (اسٹرین آئی آئی ایچ آر-ٹی ایچ-2)، تک تحقیق اور تجارتی استعمال کے لیے رسائی کے عوض حاصل ہوئی۔
چونکہ اس معاملے میں حیاتیاتی وسائل ایک سرکاری تحقیقی ادارے سے حاصل کیے گئے تھے، اس لیے اے بی ایس رقم کا 30 فیصد، یعنی 2.01 لاکھ روپے مقررہ طریقہ کار کے مطابق متعلقہ ادارے آئی سی اے آر-آئی آئی ایچ آر کو جاری کیا جارہا ہے، جبکہ باقی رقم کو حیاتیاتی تنوع ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت این بی اے کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔
متعلقہ ادارے کو یہ رقم ایک سال کے اندر حیاتیاتی وسائل کے ذخائر کی دیکھ بھال، تحقیق اور حیاتیاتی تنوع کے سروے، درجہ بندیِ حیاتیات اور تحفظ کے شعبے میں صلاحیت سازی، نیز حیاتیاتی وسائل اور ان کے جنگلی رشتہ داروں کے ان سیٹو اور ایکس سیٹو تحفظ سمیت دیگر سرگرمیوں پر خرچ کرنا ہوگی۔
یہ رقم جاری کرنا حیاتیاتی تنوع ایکٹ 2002 اور اس سے متعلق ضابطہ جاتی نظام کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے کی این بی اے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان کے حیاتیاتی وسائل کے تجارتی استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کو حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، پائیدار استعمال اور کسانوں، مقامی برادریوں و دیگر متعلقہ افراد کی سماجی و اقتصادی ترقی کی جانب منتقل کرنا ہے۔
این بی اے کی جانب سے اب تک جاری کی گئی مجموعی اے بی ایس رقم 185 کروڑ روپے (19.34 ملین امریکی ڈالر) ہوچکی ہے۔ یہ پہل حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن (سی بی ڈی)، ناگویا پروٹوکول کے تحت رسائی اور فائدے کی منصفانہ تقسیم کے عزم کے علاوہ کنمنگ-مونٹریال گلوبل بایوڈائیورسٹی فریم ورک (کے ایم جی بی ایف) کے ہدف 13 میں ہندوستان کے وعدوں کی تکمیل میں بھی معاون ہے۔ ہدف 13 کا مقصد جینیاتی وسائل اور ان سے متعلق ڈیجیٹل سیکوئنس معلومات کے استعمال سے حاصل ہونے والے فوائد کی منصفانہ اور مساوی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔
***
ش ح ۔ م د ۔ م ص
U : 2475
(रिलीज़ आईडी: 2302305)
आगंतुक पटल : 8