شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

غیر کارپوریٹ شعبے کےکاروباری  اداروں کی سہ ماہی بلیٹن(کیو بی یو ایس ای)



(جائزے  کی مدت: اپریل 2026 تا جون 2026)

عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود غیر کارپوریٹ شعبے میں سال بہ سال  بنیاد پر  9.2 فیصد کی مضبوط شرحِ نمو درج

افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچی

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کا سلسلہ بدستور برقرار: ہر 10 میں سے 8 ادارے نے  آن لائن اور نقدی سے پاک نظام اختیار کیا

प्रविष्टि तिथि: 21 AUG 2026 4:00PM by PIB Delhi

جھلکیاں:

  • گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی (اپریل تا جون 2025) کے مقابلے میں کاروباری  اداروں کی تعداد اور روزگاردونوں میں نمایاں اضافہ درج  کیا گیا۔
  • کاروباری اداروں کی تخمینہ تعداد 8.67 کروڑ درج ہوئی ، جو سال بہ سال لحاظ سے  9.20 فیصد کی شرحِ نمو کو ظاہر کرتی ہے۔
  • غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبے میں روزگار بڑھ کر 13.70 کروڑ تک پہنچ گیا۔ دیگر خدمات کا شعبہ روزگار میں اضافے کا اہم محرک بن کر ابھرا، جہاں روزگار میں 21 فیصد سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا۔
  • اپریل تا جون 2026 کے دوران کاروباری  اداروں کے اندراج کی شرح بڑھ کر 42.5 فیصد ہوگئی، جو اپریل تا جون 2025 کے مقابلے میں 7 فیصد سے زائد کا اضافہ ہے۔ یہ معیشت کے بڑھتے ہوئے رسمی  اور منظم ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • نقدی کے بغیر لین دین کو وسیع پیمانے پر قبولیت حاصل ہوئی، تقریباً 80 فیصد اداروں نے نقدی سے پاک لین دین کے طریقے اختیار کیے۔
  • افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کا سلسلہ  مزید تیز  ہوا، شعبے میں مجموعی  روزگار میں خواتین کا حصہ 30 فیصد سے زیادہ ہوگیا۔

 

این ایس او  کی طرف سے غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبے کے لیے اپریل تا جون 2026 کاسہ ماہی تخمینہ جاری

قومی شماریاتی دفتر (این ایس او)، وزارتِ شماریات و پروگرام کے  نفاذ نے زیادہ تعدد والے اشاریوں کی دستیابی کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کے تحت 2025 سے غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبے کے اہم نتائج پر سہ ماہی بلیٹن شائع کرنا شروع کیا ہے۔ موجودہ ریلیز، یعنی اپریل تا جون 2026 کے لیے غیر کارپوریٹ شعبے کے کاروباری اداروں کی سہ ماہی بلیٹن (کیو بی یو ایس ای)، غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کے سالانہ سروے (اے ایس یو ایس ای) کا سہ ماہی ایڈیشن ہے اور زیادہ قلیل وقفوں سے اہم تخمینے فراہم کرتی  ہے۔ کیو بی یو ایس ای کی ریلیز این ایس او کی جانب سے پالیسی سازوں، محققین اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ہندوستانی  معیشت کے انتہائی متحرک شعبے سے متعلق بروقت اور قابلِ عمل اعداد و شمار فراہم کرنے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

ایک طرف جہاں اے ایس یو ایس ای وسیع تر مالی اور غیر مالی اشاریوں کے بارے میں تفصیلی سالانہ تخمینے جاری کرتا رہے گا، وہیں دوسری طرف  کیو بی یو ایس ای کے ذریعے  اسی فریم ورک کا استعمال کرتے ہوئے غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  اداروں کے حجم، ساخت اور روزگار کی صورتحال سے متعلق باقاعدہ سہ ماہی تخمینے فراہم ہوتے ہیں۔ سہ ماہی اعداد و شمار کا مقصد اس شعبے میں قلیل مدتی تبدیلیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبہ ہندوستانی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مجموعی جی ڈی پی  میں نمایاں حصہ دار ہے، روزگار کا ایک اہم ذریعہ ہے اور مقامی کاروباری سرگرمیوں اور سپلائی چین کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس شعبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی شماریاتی دفتر نے 2021-22 میں غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کا سالانہ سروے (اے ایس یو ایس ای) شروع کیا تھا۔ اس کے بعد مسلسل تین سالانہ سروے کیے گئے، جن سے اس شعبے کی ساخت، سرگرمیوں اور معاشی کارکردگی کے بارے میں جامع اور درست  معلومات حاصل ہوئیں۔ یہ پریس نوٹ اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کے لیے جاری سہ ماہی بلیٹن سے متعلق ہے۔ یہ وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

(https://mospi.gov.in)

اے ایس یو ایس ای 2026 کے دائرۂ کار، نمونہ لینے کے طریقۂ کار اور اعداد و شمار جمع کرنے کے نظام کا مختصر جائزہ اختتامی نوٹ میں درج  کیا گیا ہے۔

اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کے نتائج کی اہم جھلکیاں:

غیر کارپوریٹ شعبے میں سال بہ سال  بنیاد پر مضبوط اضافہ

عالمی غیر یقینی حالات کے باوجود اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کے دوران غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبے نے سال بہ سال  بنیاد پر اپنی مضبوط شرحِ نمو کا سلسلہ برقرار رکھا۔ یہ شعبہ مختلف شعبوں سے وابستہ افرادی قوت کے لیے روزگار اور ذریعۂ معاش کا اہم وسیلہ بنا رہا۔

غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کے حالیہ سالانہ سروے (جنوری 2025 تا دسمبر 2025) کے مطابق اسی نوعیت کے سالانہ تخمینے:

کاروباری اداروں کی تخمینہ تعداد: 7.92 کروڑ

کارکنوں کی تخمینہ تعداد: 12.81 کروڑ

 

غیر کارپوریٹ اداروں کی تخمینہ تعداد میں سال بہ سال  بنیاد پر 9.20 فیصد اضافہ ہوا، جو اپریل تا جون 2025 کے 7.94 کروڑ سے بڑھ کر اپریل تا جون 2026 میں 8.67 کروڑ ہوگئی ہے ۔

افرادی قوت کے رجحانات : اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کے دوران غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبے میں روزگار کا تخمینہ 13.70 کروڑ درج کیا گیا ، جو گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں سال بہ سال  بنیاد پر 6.55 فیصد کی شرحِ نمو کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر خدمات کے شعبے کی وجہ سے ہوا، جہاں تخمینہ افرادی قوت میں 21 فیصد سے زیادہ اضافہ درج  کیا گیا۔

سہ ماہی اعداد و شمار کی بنیاد پرکاروباری  اداروں اور کارکنوں کی تخمینہ تعداد نقشہ  1 میں مذکور ہے۔

افرادی قوت کی بدلتی ہوئی ساخت:

اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی کے دوران غیر کارپوریٹ شعبے کی افرادی قوت میں کام کرنے والے مالکان کا حصہ بدستورسب سے زیادہ رہا۔ کل کارکنوں میں ان کا حصہ 62.38 فیصد تھا، جبکہ گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی میں یہ حصہ 60.18 فیصد تھا۔ اس کے برعکس، اجرت پر کام کرنے والے کارکنوں کی تعداد  معمولی طور پر کم ہوئی  اور ان کی تعداد اسی مدت کے دوران 24.38 فیصد سے گھٹ کر 22.77 فیصد درج کی گئی ۔

اپریل تا جون 2026 کے دوران روزگار میں اضافے کے لحاظ سے شہری علاقے نے دیہی علاقے  کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ شہری علاقے میں سال بہ سال  بنیاد پر 12 فیصد سے زیادہ کی مضبوط شرحِ نمو درج  کی گئی، جبکہ دیہی علاقے میں یہ اضافہ 0.70 فیصد درج کیا گیا

وسیع سرگرمی کے زمروں (مینوفیکچرنگ، تجارت اور دیگر خدمات) میں اداروں اور کارکنوں کے فیصد حصے بالترتیب نقشہ  2 اور نقشہ  3 میں درج کئے  گئے ہیں۔

 2: وسیع سرگرمی کے زمروں میں اداروں کا فیصدی حصہ (اپریل تا جون 2026)

نقشہ 3: وسیع سرگرمی کے زمروں میں کارکنوں کا فیصدحصہ (اپریل تا جون 2026)

 

خدمات کا شعبہ ترقی کا اہم محرک بن کر نمودار ہوا:

دیگر خدمات کے شعبے میں  تمام شعبوں میں سب سے زیادہ شرحِ نمو درج ہوئی ، جہاں اداروں کی تعداد اور روزگار، دونوں میں سال بہ سال بنیاد پر 21 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس کے بعد مینوفیکچرنگ شعبہ رہا، جہاں اداروں کی تخمینہ تعداد میں 10.06 فیصد اور تخمینہ افرادی قوت میں 6.60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تاہم، غیر کارپوریٹ تجارتی شعبے میں اداروں کی تخمینہ تعداد میں سال بہ سال  بنیاد پر 7.88 فیصد اور تخمینہ افرادی قوت میں 10.29 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ سروے میں ان تبدیلیوں کی مخصوص وجوہات سے متعلق معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں، تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ خوردہ کاروبار کے منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جن میں ای کامرس اور فوری تجارت کے پلیٹ فارم کا پھیلاؤ اور عالمی معاشی مشکلات شامل ہیں۔ یہ پیش رفت کاروباری ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے وسیع تر تناظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

خواتین کی شمولیت:

شعبے کی مجموعی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ 30 فیصد سے زیادہ درج کیا گیا ، جو قابلِ ذکر ہے۔ یہ اپریل تا جون 2025 کی اسی مدت کے دوران ریکارڈ ہونے والے  تناسب سے معمولی زیادہ ہے۔ خواتین کارکنوں کے فیصد حصے میں بتدریج اضافہ اس شعبے کی جانب سے خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور معیشت میں ان کی جامع شمولیت کو فروغ دینے میں بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا فروغ اور رسمی درجہ بندی  کی جانب پیش رفت:

غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبے کےکاروباری  اداروں میں انٹرنیٹ کے استعمال سے معیشت کے مختلف اداروں میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے کے حوصلہ افزا رجحان کی عکاسی ہوتی ہے۔ اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، غیر کارپوریٹ شعبے کے تقریباً 82 فیصد اداروں نے کاروباری مقاصد کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال کیا ہے۔ مزید برآں، تقریباً 80 فیصد اداروں نے نقدی سے پاک لین دین کے طریقے اختیار کیے ہیں، جن میں آن لائن بینکنگ، یو پی آئی، پی او ایس آلات اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع شامل ہیں۔

 

نقدی سے پاک لین دین کے طریقوں کا استعمال:

سال 2026 سے غیر کارپوریٹ شعبے کےکاروباری  اداروں کے سالانہ جائزے  (اے ایس یو ایس ای) کے اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی ماڈیول میں نمایاں طور پر ترمیم کی گئی ہے، تاکہ غیر کارپوریٹ شعبے سے متعلق پالیسی کے لیے زیادہ اہم سوالات کو شامل کیا جا سکے۔ سوالنامے میں اداروں کی جانب سے آن لائن بینکنگ اور/یا آن لائن ادائیگی کے گیٹ وے کے استعمال سے متعلق ایک نیا سوال شامل کیا گیا ہے۔

 

کسی نہ کسی شکل میں رجسٹریشن کرانے والے اداروں کا تخمینہ تناسب 42.50 فیصددرج کیا گیا ، جو اپریل تا جون 2025 کے دوران ریکارڈ کیے جانے والے  تناسب سے 7 فیصد سے زائد  ہے۔ یہ اداروں کے رسمی  نظام میں بڑھتی ہوئی شمولیت کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

 

اپریل-جون 2026 کی سہ ماہی کے لیے کیو بی یو ایس ای کے اہم اشارے:

اشاریہ

اپریل-جون 2026

اداروں کی تعداد ('00 میں)

8,67,286

ملکیتی اور شراکتی اداروں کا فیصد

98.88

اجرت والے   کارکنوں کے اداروں کا فیصد

12.13

کارکنوں کی تعداد ('00 میں)

13,69,946

کام کرنے والے مالکان کا فیصد حصہ

62.38

اجرت والے  کارکنوں کا فیصد حصہ

22.77

دیگر  کارکنوں کا فیصد حصہ (بشمول بلا معاوضہ فیملی ورکر)

14.85

خاتمہ  نوٹ: غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کے سالانہ جائزے  (اے ایس یو ایس ای) کے دائرۂ کار، نمونہ جاتی طریقۂ کار اور اعداد و شمار جمع کرنے کے نظام کی مختصر تفصیل:

 

اے۔  دائرۂ کار:

اے.1  جغرافیائی لحاظ سے یہ جائزہ  پورے ہندوستان  کے دیہی اور شہری علاقوں کا احاطہ کرتا ہے، سوائے انڈمان و نکوبار جزائر کے بعض ایسے دیہات کے جہاں رسائی مشکل ہے۔

اے.2 شعبہ جاتی  لحاظ سے یہ سروے تین شعبوں سے تعلق رکھنے والے غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  اداروں کا احاطہ کرتا ہے، یعنی مینوفیکچرنگ، تجارت اور دیگر خدمات۔

اے.3 ملکیت کی نوعیت کے لحاظ سے اس سروے میں زیر ملکیت  کاروبار، شراکتی  اداروں (محدود ذمہ داری کی شراکت داری کے سوا)، کوآپریٹو ادارے، سوسائٹیاں، ٹرسٹ وغیرہ سے متعلق غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  اداروں کو شامل کیا گیا ہے۔

بی. نمونے لینے کا  طریقۂ کار:

یہ جائزہ  کثیر مرحلہ جاتی درجہ بند نمونہ لینے کے طریقۂ کار کے تحت انجام دیا گیا ہے۔ اس میں پہلے مرحلے کی اکائیاں (ایف ایس یو) دیہی علاقوں میں مردم شماری کے گاؤں ہیں، سوائے دیہی کیرالہ کے، جہاں پنچایت وارڈ کو پہلے مرحلے کی اکائیاں شمار کیا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیے جانے والے اربن  فریم سروے (یو ایف ایس) بلاکس کو پہلے مرحلے کی اکائیاں قرار دیا گیا ہے۔ دونوں علاقوں میں حتمی مرحلے کی اکائیاں (یو ایس یو) اداروں کوقرار دیا گیا ہے۔ بڑے ایف ایس یو کے معاملے میں دیہی علاقوں میں بستیوں کے مجموعے  اور شہری علاقوں میں ذیلی بلاکس کی صورت میں نمونہ لینے  کا ایک درمیانی مرحلہ بھی شامل کیا گیا ہے۔

سی. نمونے کا حجم:

ملک گیر سطح پر اپریل 2026 تا جون 2026 کی سہ ماہی کے دوران پہلے مرحلے کی 5,994 اکائیوں کا سروے کیا گیا، جن میں دیہی علاقے  کے 2,411 گاؤں  اور شہری علاقے  کے 3,583 اربن  فریم سروے بلاکس شامل ہیں۔ اس میں انڈمان و نکوبار جزائر، لکشدیپ، لداخ اور اروناچل پردیش و ناگالینڈ کے دیہی علاقوں کی پہلے مرحلے کی اکائیاں شامل نہیں ہیں۔ ان علاقوں میں دشوار گزار میدانی حالات کے باعث فیلڈ ورک کے دوران زمینی دورے  سے متعلق پابندیاں عائد نہیں کی گئی تھیں، اس لیے انہیں اس سہ ماہی بلیٹن میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔اسی کے مطابق، (ان ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو چھوڑ کر) اس بلیٹن کے لیے سروے کیے گئے اور زیرِ غورلائے جانے والے  اداروں کی تعداد 1,75,618 درج ہوئی ( جن میں 74,621 دیہی اور 1,00,997 شہری علاقوں میں تھے)۔

ڈی.  اعداد و شمار جمع کرنے کی میکانزم :

یہ جائزہ  رقبہ جاتی فریم کی بنیاد پر انجام دیاگیا ہے۔ دیہی اور شہری دونوں علاقوں کی منتخب پہلے مرحلے کی اکائیوں میں کاروباری اداروں کی فہرست تیار کی گئی اور ان درج  فہرست اداروں میں سے نمونے کے  ڈیزائن کے مطابق مطلوبہ تعداد میں اداروں کا سروے کیا گیا۔ زیادہ تر اعداد و شمار منتخب اداروں سے زبانی استفسار کے ذریعے ’ماہانہ‘ متعلقہ  مدت کے بارے میں حاصل کیے گئے۔ سروے کے اعداد و شمار کمپیوٹر کی مدد سے ذاتی انٹرویو (سی اے پی آئی) کے ذریعے ٹیبلٹ میں جمع کیے گئے۔

ای.  سہ ماہی نتائج کا سابقہ  اے ایس یو ایس ای کے تخمینوں سے تقابل:

اس سہ ماہی بلیٹن میں پیش کیے جانےو الے  تخمینے زیرِ غور سہ ماہی کے غیر کارپوریٹ غیر زراعتی  شعبے سے متعلق ہیں۔ اس بلیٹن میں رواں سال کی زیرِ غور سہ ماہی اور گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے درمیان تقابل  کیا گیا ہے۔ سال بہ سال  یہ موازنہ  ممکنہ موسمی تغیرات (اگر کوئی ہو) کو مدنظر رکھتا ہے اور سالانہ شرحِ نمو کے رجحانات کا زیادہ بامعنی جائزہ لینے میں مدد دیتا ہے، کیونکہ دونوں برسوں کے مساوی  ادوار کا موازنہ  کیا جاتا ہے۔

اگرچہ اے ایس یو ایس ای کے نمونہ کے  ڈیزائن میں رقبہ جاتی فریم کے ذریعے سہ ماہی تخمینے تیار کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم سہ ماہی نمونے کا حجم سالانہ نمونے کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ مزید برآں، دیہی علاقوں  کے لیے استعمال ہونے والا رقبہ جاتی فریم مردم شماری 2011 پر مبنی ہے۔ اس بلیٹن کو نمونے کی گنجائش  اور تخمینوں کی قابلِ اعتماد حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

سروے کو متعلقہ فریقوں کی ضروریات کے مطابق مسلسل مؤثر اور موزوں رکھنے کی کوششوں کے تحت اے ایس یو ایس ای 2026 میں کچھ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اے ایس یو ایس ای کے سوالنامے کے اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے حصے کو مکمل طور پر ازسرِ نو ترتیب دیا گیا ہے اور اس میں پالیسی سے متعلق مزید سوالات شامل کیے گئے ہیں، تاکہ شعبے میں اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کی نوعیت اور حد کو بہتر طور پر ریکارڈ کیا جا سکے۔ مزید برآں، اے ایس یو ایس ای 2026 میں سابقہ  ادوار میں استعمال ہونے والے این آئی سی 2008 کی جگہ این آئی سی 2025 کو اختیار کیا گیا ہے۔اس تبدیلی کے نتیجے میں موٹر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں، موپیڈ، اسکوٹروں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی دیکھ ریکھ اور مرمت جیسی بعض سرگرمیاں، جنہیں این آئی سی 2008 کے تحت تجارت کے شعبے میں شمار کیا جاتا تھا، اب این آئی سی 2025 کے تحت خدمات کے شعبے میں شمار کی جاتی ہیں۔ اسی کے مطابق، اے ایس یو ایس ای 2026 میں ان سرگرمیوں سے وابستہ تمام اداروں کو ’دیگر خدمات‘ کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔

لہٰذا، سہ ماہی رجحانات کی تشریح کرتے وقت نمونے میں ممکنہ تغیر، سرگرمی کی سطح میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ اور درجہ بندی و سوالنامے میں ہونے والی تبدیلیوں پر غور کرتے ہوئے   احتیاط برتنی چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ اے ایس یو ایس ای غیر زراعتی  معیشت کے صرف ایک حصے کا احاطہ کرتا ہے، یعنی وہ مینوفیکچرنگ، تجارت اور خدمات کے شعبوں میں موجود غیر کارپوریٹ کاروباری  اداروں پر مشتمل ہے ، جبکہ تعمیرات کا شعبہ اس میں شامل نہیں ہے۔ اسی لیے ، کیو بی یو ایس ای میں پیش کردہ   غیر کارپوریٹ شعبے کے سہ ماہی نتائج میں ظاہر ہونے والے رجحانات کا مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے متعلقہ سہ ماہی تخمینوں سے براہِ راست مطابقت رکھنا ضروری نہیں ہے ، کیونکہ جی ڈی پی کے تخمینوں میں  پوری معیشت کا احاطہ ہوتا ہے ۔ جہاں ضروری ہو، سہ ماہی بلیٹن میں پیش کردہ  تخمینوں کے ساتھ اعتماد کے وقفے بھی فراہم کیے گئے ہیں، تاکہ ان کی بہتر اور باخبر تشریح کی جا سکے۔

اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی بلیٹن وزارت کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔ اشاعتوں اور رپورٹس تک رسائی کے لیے ذیل میں دیا گیا کیو آر کوڈ اسکین کریں۔

 

*********

 (ش ح ۔ م ش ع ۔ت ا )

U. No. 2431


(रिलीज़ आईडी: 2302126) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , Tamil