سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: تحقیق و ترقی پر اخراجات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
30 JUL 2026 4:35PM by PIB Delhi
محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین تحقیق و ترقی کے اعداد و شمار 25-2025 کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) پر شعبہ وار اخراجات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
(روپے کروڑ میں)
|
سال
|
20-2019
|
21-2020
|
22-2021
|
23-2022
|
2023-24
|
|
سرکاری شعبہ
|
87,813.47
|
80,992.83
|
1,06,133.32
|
1,10,949.77
|
1,17,861.21
|
|
نجی شعبہ
|
44,753.54
|
46,388.13
|
88,677.51
|
1,02,428.35
|
1,26,906.60
|
|
تحقیق و ترقی(جی ای آر ڈی ) مجموعی اخراجات
|
132,567.01
|
127,380.96
|
194,810.83
|
213,378.12
|
244,767.81
|
|
جی ڈی پی کے تناسب کے طور پر جی ای آر ڈی (فیصد)
|
0.66
|
0.64
|
0.83
|
0.82
|
0.84
|
نوٹ:سرکاری شعبے میں مرکزی حکومت کی وزارتوں، محکموں اور اداروں، ریاستی حکومت کے سائنس و ٹیکنالوجی اداروں، ریاستی زرعی جامعات، سرکاری شعبے اور مشترکہ شعبے کی صنعتوں اور سرکاری اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تحقیق و ترقی پر ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔
نجی شعبے میں نجی شعبے کی صنعتوں، سائنسی و صنعتی تحقیقی تنظیموں (ایس آئی آر او) اور نجی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تحقیق و ترقی پر ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔
حکومت نے سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
- سائنسی محکموں اور تحقیق پر مبنی پروگراموں کے لیے بجٹ میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے۔
- لاکھ کروڑ روپے کے تحقیق، ترقی اور اختراع (آر ڈی آئی) فنڈ کا آغاز کیا گیا ہے، جس کا مقصد نجی شعبے کی قیادت میں ہونے والی اعلیٰ خطرے اور اہم نوعیت کی تحقیق کی حمایت کرنا ہے۔ اس اہم اقدام کے ذریعے اعلیٰ اثرات رکھنے والی تحقیق و ترقی میں نجی شعبے کی شمولیت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
- انوسندھان نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے 14,000 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری ذرائع سے بھی اضافی مالی وسائل حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
- قومی مشن کا آغاز، جن میں قومی کوانٹم مشن کے لیے 6,003.65 کروڑ روپے، بین شعبہ جاتی سائبر فزیکل نظام کے قومی مشن کے لیے 3,660 کروڑ روپے، انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے لیے 76,000 کروڑ روپے اور قومی سپر کمپیوٹنگ مشن وغیرہ شامل ہیں۔
- سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) کو فروغ دیا جا رہا ہے اور بین شعبہ جاتی سائبر فزیکل نظام کے قومی مشن اور قومی کوانٹم مشن کے تحت ٹیکنالوجی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، تاکہ سرکاری اور نجی شعبوں کے تعاون سے نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری کو فروغ دیا جا سکے۔
- ٹیکنالوجی پر مبنی اختراعی پروگراموں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے، جن میں نیشنل انیشی ایٹو فار ڈیولپنگ اینڈ ہارنسنگ انوویشنز (ندھی)، بایوٹیکنالوجی انڈسٹری ریسرچ اسسٹنس کونسل (بی آر آئی آر اے سی) کے پروگرام، انوویشنز فار ڈیفنس ایکسی لینس ( آئی ڈیکس) اور ٹی آئی ڈی ای 2.0 (ٹیکنالوجی انکیوبیشن اینڈ ڈیولپمنٹ آف انٹرپرینیورز) شامل ہیں۔ ان پروگراموں کا مقصد مقامی ٹیکنالوجی کی تیاری، نمونہ سازی، بڑے پیمانے پر پیداوار اور صنعت کے ساتھ روابط کو فروغ دے کر ہندوستان میں اختراع سے پیداوار تک کے عمل کو مضبوط بنانا اور درآمد شدہ ٹیکنالوجیز پر انحصار کم کرنا ہے۔
- سازگار پالیسی فریم ورک متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں جیو اسپیشل پالیسی 2022، خلائی پالیسی 2023 اور بایو ای تھری (معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے بایوٹیکنالوجی) پالیسی 2024 شامل ہیں۔ ان پالیسیوں میں نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شرکت اور شمولیت کے لیے بھی دفعات رکھی گئی ہیں۔
ان تمام اقدامات کا مقصد مجموعی طور پر ہندوستان کی تحقیق و ترقی کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، تعلیمی اداروں، صنعت اور حکومت کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، قومی سطح پر تحقیق و ترقی کے اخراجات میں مسلسل اضافہ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کی عالمی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔
نیتی آیوگ نے عالمی اختراعی اشاریے میں ہندوستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے، جسے عالمی ادارہ برائے دانشورانہ املاک (ڈبلیو آئی پی او) جاری کرتا ہے۔ ہندوستان کی عالمی اختراعی اشاریے (جی آئی آئی) کی درجہ بندی 2021 میں 46ویں مقام سے بہتر ہو کر 2025 میں 38ویں مقام پر پہنچ گئی ہے۔ ہندوستان اختراعی وسائل کے مقابلے میں اختراعی نتائج کے میدان میں مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک دستیاب وسائل کو مؤثر طریقے سے اختراعی نتائج میں تبدیل کر رہا ہے۔ ان نتائج میں علم کی تخلیق، تکنیکی ترقی اور تخلیقی صلاحیتوں کے عملی ثمرات شامل ہیں۔ ہندوستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ کم متوسط آمدنی والے ممالک کے گروپ میں بھی اختراعی کارکردگی کے لحاظ سے سرفہرست ہے۔
یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں تحریری جواب میں فراہم کیں۔
****
ش ح۔ ع و ۔ ش ب ن
U-NO-2439
(ریلیز آئی ڈی: 2302038)
وزیٹر کاؤنٹر : 20