وزارت خزانہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈی جی جی آئی نے اتر پردیش میں خفیہ طور پر چلائے جا رہے پان مسالہ اور تمباکو مینوفیکچرنگ نیٹ ورک کا  پردہ فاش کیا ؛ 27  خفیہ پاؤچ پیکنگ مشینیں ضبط کی گئیں، تقریباً 185 کروڑ روپے کی چوری کا انکشاف ہوا


مالک کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ؛ چترکوٹ اور باندہ کے چھ  مقامات سے تیار شدہ سامان کے 15.5 لاکھ پاؤچ ضبط کیے گئے

یکم فروری 2026 سے پان مصالحہ پر ہیلتھ سیکیورٹی اینڈ نیشنل سیکیورٹی سیس ایکٹ، 2025( ایچ ایس این ایس) کے تحت پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر سیس اور ٹیکس نافذ ہو گیا ہے۔ اسی طرح چبانے والے تمباکو، جردہ اور گٹکھا پر سنٹرل ایکسائز ایکٹ، 1944 کے تحت مرکزی ایکسائز ڈیوٹی بھی یکم فروری 2026 سے لاگو ہو گئی ہے

یکم فروری 2026  میں قیام سے اب تک، ڈی جی جی آئی  کی ٹیموں نے ٹیکس اور سیس کی چوری سے متعلق 27 مقدمات درج کیے ہیں۔ ان کارروائیوں میں 668 کروڑ کی ڈیوٹی، ٹیکس اور سیس کی چوری کا پتہ چلا ہے۔ اس دوران 131 پاؤچ پیکنگ مشینیں ضبط کی گئی ہیں اور 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 21 AUG 2026 1:48PM by PIB Delhi

ڈی جی جی آئی کی لکھنؤ زونل یونٹ نے اتر پردیش کے چترکوٹ اور باندا اضلاع میں چھ مقامات پر پھیلے پان مصالحہ، خوشبودار جردہ اور گٹکھا بنانے کے غیر قانونی کاروبار کا پردہ فاش کیا ہے۔یونٹ کو ملنے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر افسران نے 18 اگست 2026 کی نصف شب کے قریب ان تمام مقامات پر ایک ساتھ تلاشی شروع کی۔ یہ مقامات دو  کمپنیوں سے منسلک تھے، جن میں سے ایک پان مصالحہ اور دیگر متعلقہ مصنوعات تیار کرتی تھی، جبکہ دوسری فرم ان مصنوعات کی خرید و فروخت کا کام کرتی تھی۔

تلاشی کے دوران 27  خفیہ پاؤچ پیکنگ مشینیں ملی ہیں، جن میں 6 مشینیں خوشبودار زردہ، 9 پان مصالحہ اور 12 دوہرا/دیسی گٹکھا پیک کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ اس کے علاوہ مکسنگ، سپاری  کاٹنے اور خشک کرنے والی مشینیں بھی برآمد ہوئیں۔کارروائی کے دوران تیار شدہ مصنوعات کے 15,50,922 پاؤچ بھی ضبط کیے گئے، جن میں پان مصالحہ، چبانے والا تمباکو، خوشبودار زردہ اور خوشبودار سپاری شامل ہیں۔ضبط کیے گئے خام مال اور پیکنگ کے سامان میں 32.9 میٹرک ٹن سپاری اور کٹی ہوئی سپاری، 2.8 میٹرک ٹن تمباکو، 8.4 میٹرک ٹن پیکنگ میٹریل، پاؤچ اور لیمینیٹ، 470 کلو کٹھا پاؤڈر، 850 کلو گلیسرین، 545 کلو ایسنس اور 256 کلو بغیر پیک کیا ہوا پان مصالحہ شامل ہے۔اب تک تقریباً 185 کروڑ کی جی ایس ٹی، ایچ ایس این ایس سیس اور مرکزی ایکسائز ڈیوٹی کی چوری کا پتہ چلا ہے۔

چھان بین کے بعد معلوما ہوا کہ یہ غیر قانونی کاروبار غیر رجسٹرڈ مقامات کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جا رہا تھا، جہاں خفیہ  طور پر مشینری استعمال کی جا رہی تھی اور تیار شدہ مصنوعات کو متعلقہ جی ایس ٹی، ایچ ایس این ایس سیس اور مرکزی ایکسائز ڈیوٹی ادا کیے بغیر خفیہ طور پر مارکیٹ میں بھیجا جا رہا تھا۔ ابتدائی طور پر مینوفیکچرنگ فرم کا مالک اس غیر قانونی پیداوار اور مصنوعات کی خفیہ ترسیل کا انتظام اور نگرانی کرتا ہوا پایا گیا۔ اسے 19 اگست 2026 کو ایچ اے این ایس سیس ایکٹ، 2025 کی دفعہ 26 اور سنٹرل ایکسائز ایکٹ، 1944 کی دفعہ 13 کے تحت گرفتار کیا گیا اور اسپیشل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (کسٹمز)، لکھنؤ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے اسے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید  اشیاء کے برآمد ہونے کی امید  ہے۔

یکم فروری 2026 سے پان مصالحہ اور تمباکو کے شعبے میں پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر سیس اور ٹیکس کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔ ہیلتھ سیکیورٹی اینڈ نیشنل سیکیورٹی سیس ایکٹ، 2025 (ایس ایس این ایس) کے تحت پان مصالحہ پر ماہانہ سیس پیکنگ کے لیے نصب مشینوں کی تعداد، قسم اور صلاحیت کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سنٹرل ایکسائز ایکٹ، 1944 کے تحت چبانے والے تمباکو، زردہ اور گٹکھا پر بھی پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے۔  کچھ غیر قانونی مینوفیکچررز غیر ظاہر شدہ مشینیں خفیہ طور پر استعمال کرکے ان ٹیکسوں اور سیس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کی روک تھام کے لیے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلی جنس (ڈی جی جی آئی) نے اس شعبے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی تیز کر دی ہے، جس میں ڈیٹا کے تجزیے کے ساتھ مختلف یونٹوں کی مشترکہ طور پرتلاشی   کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

یکم فروری 2026 سے اب تک ملک بھر میں ڈی جی جی آئی کی مختلف یونٹس نے پیداوار چھپانے، مصنوعات کی خفیہ ترسیل اور عائد ٹیکس و سیس کی چوری سے متعلق 27 مقدمات درج کیے ہیں۔ ان کارروائیوں میں 668 کروڑ کی ڈیوٹی، ٹیکس اور سیس کی چوری کا پتہ چلا ہے۔ تحقیقات کے دوران 11.7 کروڑ کی رقم رضاکارانہ طور پر جمع کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 131 پاؤچ پیکنگ مشینیں ضبط کی گئی ہیں اور 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

****
 

ش ح۔   ع و ۔ ش ب ن

U-NO-2422


(रिलीज़ आईडी: 2301930) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , हिन्दी , Bengali , Bengali-TR , Telugu