مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
مادی بنیادی ڈھانچے سے لے کر آبادی کے پیمانے پر مبنی ٹیک ریلز تک، ہندوستان دنیا کے لیے تبدیلی کی حامل نمو کی کہانی پیش کرتا ہے، مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات ڈاکٹر چندر شیکھر پیما سانی کا بیان
ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ عالمی جنوب کے ممالک میں پائیدار ترقی کے لیے ایک ضرورت ہے، کوئی آسائش نہیں: مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر چندر شیکھر پیما سانی
ڈاکٹر چندر شیکھر پیما سانی نے پونے میں منعقدہ برکس آئی سی ٹی ٹریک کے دوران پائیدار اور مضبوط ڈیجیٹل و آئی سی ٹی نظام پر اہم خطاب کیا
प्रविष्टि तिथि:
20 AUG 2026 4:10PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت برائے مواصلات، ڈاکٹر چندر شیکھر پیما سانی نے آج پونے میں منعقدہ برکس آئی سی ٹی ٹریک کے موضوعاتی پینل مباحثے میں اہم خطاب کیا۔ اس مباحثے کا عنوان ’’پائیدار اور مضبوط ڈیجیٹل اور آئی سی ٹی نظام: اثر انگیز ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر – عوامی خدمات اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لیے عالمی خطۂ جنوب کے بارے میں اہم معلومات‘‘ تھا۔

برکس ممالک کے وزراء، پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم اور صنعت سے وابستہ رہنماؤں پر مشتمل بین الاقوامی وفد سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر مملکت نے شہریوں کو بااختیار بنانے اور اقتصادی پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے بنائے گئے کھلے، جامع اور مضبوط ڈیجیٹل نظام سے متعلق ہندوستان کے حکمتِ عملی پر مبنی وژن کو پیش کیا۔
ہندوستان کے اس انقلابی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے، ڈاکٹر پینما سانی نے کہا کہ جہاں روایتی طور پر بنیادی ڈھانچے کا مطلب سڑکوں، بندرگاہوں اور پاور گرڈز جیسے مادی اثاثے سمجھا جاتا تھا، وہیں ہندوستان نے ملک گیر ڈیجیٹل نظام پر مبنی ایک جدید مثال قائم کی ہے۔ اس نظام میں شناخت، بینکنگ، ادائیگی، تصدیق شدہ دستاویزات اور باہمی رضامندی سے ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اصل جدت ایک ایسا کھلا اور آپس میں جڑا ہوا بنیادی عوامی پلیٹ فارم بنانا ہے، جس پر وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بینکس، فن ٹیک کمپنیاں اور سرکاری شعبے شہریوں کے لیے مختلف خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
ہندوستان کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر(ڈی پی آئی) کے بنیادی ستونوں کی وضاحت کرتے ہوئے، مرکزی وزیر مملکت نے بتایا کہ کس طرح شناختی نظام نے اربوں تصدیقوں، سم کے اجرا اور بینکنگ سہولیات تک رسائی کو بے حد کم لاگت اور آسان بنا دیا ہے۔ ادائیگیوں کے شعبے میں یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی) نے مالیاتی نظام کو عام آدمی تک پہنچا دیا ہے۔ اس وقت یو پی آئی 720 بینکوں کو جوڑتا ہے، ہندوستان کے 85 فیصد ڈیجیٹل لین دین کو سنبھالتا ہے اور دنیا کے تقریباً 49 فیصد ریئل ٹائم لین دین میں حصہ ڈالنے کے ساتھ ساتھ نو (9) دوست ممالک تک پھیل چکا ہے۔

انہوں نے فوائد کی براہ راست منتقلی (ڈی بی ٹی) پورٹل کے کردار پر بھی زور دیا، جو بچولیوں کی ضرورت کا خاتمہ کرنے کے لیے 56 وزارتوں کی 318 اسکیموں کو جوڑتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’ڈیجی لاکر‘ کا نظام 70 کروڑ سے زائد صارفین اور 9 ارب جاری کردہ تصدیق شدہ دستاویزات پر مشتمل ہے۔ اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس(او این ڈی سی)، گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) اور اکاؤنٹ ایگریگیٹر جیسے نئے اقدامات مارکیٹ تک رسائی اور ذاتی ڈیٹا کی ملکیت کو مزید عام بنا رہے ہیں۔
ان سافٹ ویئر جدت طرازیوں کی پشت پناہی ہندوستان کی مضبوط ٹیلی مواصلات (ٹیلی کام) کی توسیع کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت نے بتایا کہ 4 ارب ڈالر کی خصوصی مہم کی بدولت اب 4جی موبائل کوریج تقریباً 99 فیصد دیہاتوں تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک نے 5 لاکھ سے زائد بیس اسٹیشن قائم کر کے دنیا میں تیز ترین 5جی خدمات شروع کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، 17 ارب ڈالر کے بھارت نیٹ مشن کے تحت ہر بڑے گاؤں میں تیز رفتار آپٹیکل فائبر بچھایا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے، ڈاکٹر پیما سانی نے بتایا کہ ہندوستان نے موبائل ٹاورز پر پہلے ہی 12.4 فیصد گرین انرجی کا استعمال حاصل کر لیا ہے، جبکہ 2030 تک 30 فیصد ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو قابلِ تجدید توانائی سے چلانے کا قومی ہدف رکھا گیا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر، ڈاکٹر پیما سانی نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) صرف ترقی یافتہ معیشتوں کی آسائش نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی خطۂ جنوب کے تمام ممالک میں پائیدار ترقی کے لیے ایک اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کھلے اور آسان تکنیکی فریم ورک کو آپس میں شیئر کرنے کے لیے ایک مضبوط برکس ڈیجیٹل شراکت داری کی اپیل کی تاکہ لائسنس کی بھاری لاگت سے بچا جا سکے اور بین الاقوامی آئی سی ٹی معیار طے کرنے والے اداروں میں منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔

اس موضوعاتی پینل نشست میں ممتاز بین الاقوامی شخصیات اور برکس کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں فیڈریٹو ریپبلک آف برازیل کے وزیر مواصلات جناب فریڈریکو ڈی سیکیرا فلپو اور جمہوریۂ جنوبی افریقہ کے مواصلات اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے نائب وزیر جناب مونڈلی گنگوبیلے کے ساتھ ساتھ دیگر وزراء اور ٹیکنالوجی سے متعلق عالمی رہنما شامل تھے۔
*****
(ش ح ۔ ک ح۔ م ذ)
U.No: 2375
(रिलीज़ आईडी: 2301569)
आगंतुक पटल : 8