PIB Backgrounder
پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن
ہندوستان کی قبائلی جنگلاتی معیشت کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانا
प्रविष्टि तिथि:
20 AUG 2026 11:03AM by PIB Delhi
|
ہندوستان کی 10.4 کروڑ درج فہرست قبائلی آبادی میں سے بہت سے افراد اپنی سالانہ آمدنی کا 20 سے 40 فیصد حصہ معمولی جنگلاتی پیداوار (ایم ایف پی) سے حاصل کرتے ہیں۔ ماضی میں قبائلی لوگ یہ پیداوار بچولیوں کو انتہائی کم قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور تھے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی محنت کی لاگت سے بھی کم آمدنی حاصل ہوتی تھی۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم) چلا رہی ہے۔ اس مشن کے تحت قبائلیوں کو کمیونٹی کی ملکیت والے ون دھن وکاس کیندروں (وی ڈی وی کیز) میں منظم کیا جاتا ہے، جس سے وہ خام جنگلاتی پیداوار فروخت کرنے والوں کے بجائے اس میں قدر کا اضافہ کرنے والے کاروباری افراد بن رہے ہیں۔ اب تک 4,172 ون دھن وکاس کیندروں کی منظوری دی جا چکی ہے، جن کے ذریعے 12.48 لاکھ قبائلی افراد کو اس اسکیم سے جوڑا گیا ہے۔ حکومت معمولی جنگلاتی پیداوار کو پہلے سے طے شدہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر بھی خریدتی ہے۔ پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن کے تحت کاروباری سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے اور قبائلیوں کو میلوں، ای کامرس پلیٹ فارمز اور نمائشوں کے ذریعے اپنی مصنوعات کے لیے بازار تک رسائی حاصل کرنے میں بھی مدد دی جاتی ہے۔
|
قبائلی جنگلاتی معیشت کا تحفظ
جنگلات میں رہنے والے لاکھوں قبائلی خاندانوں کے لیے معمولی جنگلاتی پیداوار (ایم ایف پی)—جس میں شہد، تیندو کے پتے، مہوا کے پھول، املی، لاکھ، بانس اور جنگلی جڑی بوٹیاں شامل ہیں—محض جنگلاتی وسائل نہیں بلکہ ان کے روزگار کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ان کی سالانہ آمدنی کا تقریباً 20 سے 40 فیصد حصہ معمولی جنگلاتی پیداوار کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم، معمولی جنگلاتی پیداوار براہِ راست حاصل کرکے فروخت کرنے کے باوجود قبائلیوں کو اس کی مارکیٹ قیمت کا صرف ایک حصہ ہی ملتا ہے، کیونکہ وہ اکثر یہ پیداوار بچولیوں کو کم قیمتوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم) اس صورتِ حال کو تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔22-2021 میں شروع کیے گئے اس مشن کے تحت قبائلیوں کو نئی ٹیکنالوجی اور جدید طریقۂ کار کی تربیت دے کر معمولی جنگلاتی پیداوار کی قدر میں اضافہ کرنے کا منظم طریقہ فراہم کیا جارہا ہے۔ یہ اسکیم قبائلی برادریوں کو وسیع قومی اور ڈیجیٹل بازاروں سے جوڑتی ہے، تاکہ انہیں اپنی مصنوعات کی زیادہ تشہیر اور زیادہ فروخت کے مواقع حاصل ہوں۔ اس کے علاوہ، حکومت قبائلیوں سے ان کی پیداوار براہِ راست خرید کر انہیں کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) بھی یقینی بناتی ہے۔
یہ کوششیں جنگلات سے معمولی پیداوار جمع کرنے والے قبائلیوں کو اپنی برادری کے کاروباری اداروں کے مالک بننے میں مدد دے رہی ہیں اور ساتھ ہی نچلی سطح پر ہندوستان کی قبائلی معیشت کو مضبوط بنا رہی ہیں۔
معمولی جنگلاتی پیداوار اور کم از کم امدادی قیمت
اگرچہ حکومت ماحولیاتی نظام اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ہندوستان کے بیشتر جنگلات کی دیکھ ریکھ کرتی ہے، تاہم قبائلیوں اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والی برادریوں کو اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے ان علاقوں تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔
2006 میں حکومت نے درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی جنگل میں رہنے والوں کے (جنگلاتی حقوق کی منظوری) قانون نافذ کیا، جسے جنگلاتی حقوق قانون بھی کہا جاتا ہے۔ اس قانون میں معمولی جنگلاتی پیداوار کی تعریف اس طرح کی گئی ہے:‘‘پودوں سے حاصل ہونے والی تمام غیر لکڑی والےجنگلاتی پیداوار، جس میں بانس، جھاڑیاں، درختوں کے ٹھونٹھ، بید، تسّر، ریشم کے کوئے، شہد، موم، لاکھ، تیندو یا کیندو کے پتے، دواؤں والے پودے اور جڑی بوٹیاں، جڑیں، گانٹھیں اور اسی نوعیت کی دیگر اشیا شامل ہیں۔’’ حکومت نے پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن کے تحت 87 معمولی جنگلاتی پیداوار کی اشیا کے لیے کم از کم امدادی قیمت مقرر کی ہے۔
جنگلاتی حقوق قانون اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ جنگلات میں رہنے والی برادریاں تاریخی طور پر اپنی ضروریات اور روزگار کے لیے جنگلاتی پیداوار پر انحصار کرتی رہی ہیں۔ اس قانون کے تحت قبائلیوں کو غیر لکڑی والے معمولی جنگلاتی پیداوار حاصل کرنے اور اسے فروخت کرنے کے حقوق دیے گئے ہیں۔ اسی طرح پنچایتوں کے (درج فہرست علاقوں تک توسیع کے) قانون، 1996 کے تحت قبائلی گرام پنچایتوں کو معمولی جنگلاتی پیداوار پر ملکیتی حقوق حاصل ہیں۔
ٹرائبل کوآپریٹو مارکیٹنگ ڈیولپمنٹ فیڈریشن آف انڈیا (ٹرائیفیڈ)، جسے قبائلی مصنوعات کی مارکیٹنگ اور ترقی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، غیر لکڑی والے جنگلاتی پیداوار کو پہلے سے مقرر کردہ قیمت (کم از کم امدادی قیمت) پر خریدتی ہے، خواہ مارکیٹ میں اس پیداوار کی قیمت کچھ بھی ہو۔ ٹرائیفیڈ ریاستی سطح کی عمل درآمد کرنے والی ایجنسیوں کے نیٹ ورک کے ذریعے یہ کام انجام دیتی ہے، جس میں قبائلی ترقیاتی امدادی کوآپریٹو ادارے اور جنگلاتی ترقیاتی کارپوریشنیں شامل ہیں۔14-2013 سے اب تک ریاستی حکومتوں نے اس اسکیم کے تحت 2,67,954 میٹرک ٹن معمولی جنگلاتی پیداوار خریدی ہے، جس کی مالیت 693.98 کروڑ روپے ہے۔
پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن قبائلیوں کی کس طرح مدد کرتا ہے؟
کم از کم امدادی قیمت پر خریداری کے علاوہ، پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن قبائلیوں کو ہنرمندی، ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔
قبائلیوں کو ون دھن وکاس کیندروں میں منظم کرنا
یہ مشن قبائلی جنگلاتی پیداوار جمع کرنے والوں کو خود امدادی گروپوں (ایس ایچ جیز) میں منظم کرتا ہے۔ 15 خود امدادی گروپوں پر مشتمل ایک گروپ، جس میں تقریباً 300 قبائلی افراد شامل ہوتے ہیں، کو ایک ون دھن وکاس کیندر (وی ڈی وی کے) میں منظم کیا جاتا ہے۔ وی ڈی وی کے کے کم از کم 60 فیصد ارکان کا درج فہرست قبائلی برادریوں سے تعلق ہونا ضروری ہے۔
ون دھن یوجنا 14 اپریل 2018 کو شروع کی گئی تھی اور یہ پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن کا ایک حصہ ہے۔ یہ ون دھن وکاس کیندر کے ماڈل کی بنیاد فراہم کرتی ہے اور قبائلی برادریوں میں اس کے نفاذ کو تقویت دیتی ہے۔
ہنرمندی، مالی معاونت اور تکنیکی مدد
حکومت معمولی جنگلاتی پیداوار جمع کرنے والوں کے لیے ون دھن وکاس کیندروں میں ہنرمندی اور دیگر تربیتی پروگرام منعقد کرتی ہے، جن میں سائنسی طریقے سے جنگلاتی پیداوار جمع کرنے کی تربیت بھی شامل ہے۔
خود امدادی گروپوں کو یہ سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں:
- بنیادی ڈھانچے کی معاونت — مستفید ہونے والے کے گھر یا سرکاری عمارت یا گرام پنچایت کی عمارت میں قائم کی جاتی ہے۔
- ابتدائی پروسیسنگ کے آلات — مقامی طور پر دستیاب معمولی جنگلاتی پیداوار کے مطابق کٹائی اور چھٹائی کے اوزار، چھلکا اتارنے والی مشینیں، خشک کرنے والے آلات اور پیکنگ کے اوزار فراہم کیے جاتے ہیں۔
- تربیت — 30 ارکان کو پائیدار طریقے سے جنگلاتی پیداوار جمع کرنے اور اس میں قدر کا اضافہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جبکہ خام مال اور تربیتی کٹس بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
- کاروباری سرمایہ — مالیاتی اداروں، بینکوں اور قومی درج فہرست قبائل مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ٹی ایف ڈی سی) کے ساتھ روابط کے ذریعے کاروباری سرمایہ فراہم کرنے میں سہولت دی جاتی ہے۔
- ذخیرہ اور نقل و حمل — کرایے کی بنیاد پر ذخیرہ کرنے اور نقل و حمل کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
مارکیٹنگ اور کاروباری معاونت
قدر میں اضافے کے علاوہ، ون دھن وکاس کیندر تیار شدہ مصنوعات کے لیے مقامی اور دور دراز دونوں بازاروں تک رسائی کے مراکز کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔
- ون دھن وکاس کیندروں کو مقامی ہاٹ بازاروں کے قریب قائم کیا جاتا ہے، جو معمولی جنگلاتی پیداوار کی خریداری کے اہم مراکز ہیں، تاکہ قبائلیوں کے لیے اپنی تیار کردہ مصنوعات فروخت کرنا آسان ہو۔
- قبائلی علاقوں میں 5,000 سے زیادہ ہاٹ بازار موجود ہیں۔
- ہاٹ بازاروں کو مرحلہ وار جدید بنایا جا رہا ہے، جس میں مستقل ڈھانچے، ذخیرہ کرنے کی سہولت، پینے کے پانی، شیڈ اور وزن کرنے کے آلات فراہم کیے جا رہے ہیں۔
- ون دھن وکاس کیندر اپنی مصنوعات میں قدر کا اضافہ کرنے یا ان کی مارکیٹنگ کے لیے نجی اداروں یا غیر منافع بخش تنظیموں کے ساتھ شراکت داری کر سکتے ہیں۔
- ٹرائیفیڈ ون دھن وکاس کیندروں کو بازار سے متعلق معلومات فراہم کرتا ہے، جن میں روزانہ کی قیمتیں اور ای کامرس کے ذرائع شامل ہیں، تاکہ وہ کاروباری معاملات سے متعلق بہتر فیصلے کر سکیں۔
- پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن کے تحت یہ سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں:
- میلوں، نمائشوں اور دستکار میلوں کے ذریعے قبائلی مصنوعات کی برانڈنگ، تشہیر اور اشتہار۔
- ون دھن وکاس کیندروں اور اسکیم کے دیگر اثاثوں کی جغرافیائی نشاندہی۔
- قبائلی مصنوعات کے لیے جغرافیائی اشاریے (جی آئی جی آئی ایسی مصنوعات پر استعمال ہونے والی علامت ہے جن کا ایک مخصوص جغرافیائی ماخذ ہو اور جن کی خصوصیات یا شہرت اسی جغرافیائی ماخذ کی وجہ سے ہو) ۔
- آئی ٹی اور ای کامرس پلیٹ فارمز کی تعمیر اور جدید کاری۔
- تحقیق اور ترقی کے لیے معاونت۔
پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن کے تحت:
- 4,172 ون دھن وکاس کیندروں کی منظوری دی جا چکی ہے اور 2,911 ون دھن وکاس کیندر فعال ہیں، جبکہ تقریباً 168 کروڑ روپے کی فروخت ریکارڈ کی گئی ہے (31 جولائی 2026 تک)۔
- 12.48 لاکھ قبائلی افراد کو ون دھن وکاس کیندروں سے جوڑا گیا ہے۔
ون دھن وکاس کیندروں سے قبائلی خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد
زیادہ تر جنگلاتی پیداوار جمع کرنے اور اس کی فروخت کا کام خواتین انجام دیتی ہیں، جس کی وجہ سے پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن قبائلی خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا ہے۔
اروناچل پردیش کے لیپاڑہ ضلع میں واقع نیگامانے، ہو یوربے، میڈم ہگدم ون دھن وکاس کیندر اکتوبر 2021 میں 300 خواتین خود امدادی گروپ کی ارکان اور کسانوں کے ساتھ قائم کیا گیا تھا۔ یہ ون دھن وکاس کیندر مقامی طور پر دستیاب غیر لکڑی والے جنگلاتی اور زرعی پیداوار کو تیار شدہ اور بازار میں فروخت کے قابل مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔ تیار کی جانے والی مصنوعات یہ ہیں:
- کنگ چِلی کا اچار — کنگ چِلی، بھُوت جولوکیا سے تیار کیا جاتا ہے، جو شمال مشرقی ہندوستان کی ایک خصوصی پیداوار ہے۔
- بانس کی کونپلوں کا اچار — بانس کی کونپلوں سے تیار کیا جاتا ہے، جو شمال مشرقی ہندوستان میں عام معمولی جنگلاتی پیداوار ہے۔
- ہلدی پاؤڈر — مقامی طور پر کاشت کی جانے والی ہلدی سے تیار کیا جاتا ہے۔
- ادرک پاؤڈر — مقامی طور پر کاشت کی جانے والی ادرک سے تیار کیا جاتا ہے۔
- انناس کا مربا — انناس سے تیار کیا جاتا ہے، جو اروناچل پردیش میں وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔
- انناس کا شربت — انناس سے تیار کیا جاتا ہے۔
- سنترے کا شربت — سنترے سے تیار کیا جاتا ہے۔
اس ون دھن وکاس کیندر نے23-2022سے اب تک ان مصنوعات کی 11 لاکھ روپے مالیت کی فروخت کی ہے۔ اس سے خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد ملی ہے اور اب انہیں سال بھر آمدنی کے لیے صرف موسمی زراعت پر انحصار نہیں کرنا پڑتا۔ خواتین مشترکہ طور پر اس کاروبار کی مالک ہیں؛ وہ محض کارکن نہیں بلکہ برانڈ اور کاروباری ادارے میں بھی حصہ دار ہیں۔
پائیدار جنگلاتی معیشت کی جانب پیش رفت
پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن (پی ایم جے وی ایم) جنگلات میں رہنے والے قبائلیوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے اور غیر لکڑی والے جنگلاتی پیداوار کی تیاری اور مارکیٹنگ کا ایک منظم طریقہ مہیا کرتا ہے۔ یہ مصنوعات مقامی طور پر حاصل کی جاتی ہیں اور روایتی طریقوں سے جڑی ہوئی ہیں—جو ایسی جنگلات پر مبنی معیشت کی نمائندگی کرتی ہیں جو برادری کی ملکیت اور بازار میں مسابقتی صلاحیت کے درمیان توازن قائم کرتی ہے۔
ایسی دنیا میں جہاں بڑے پیمانے پر تیار کردہ اور پلاسٹک میں پیک کی جانے والی اشیا کا رجحان بڑھ رہا ہے، یہ مصنوعات ہندوستان کی ایک منفرد پیشکش ہیں: قدرتی، برادری کی ملکیت والی اور جنگلات سے حاصل کردہ۔ پردھان منتری جن جاتیہ وکاس مشن ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کے تصور کی عملی ترجمانی کرتا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ ہندوستان کی ترقی کا سفر اس کے دور دراز جنگلات اور وہاں آباد برادریوں تک بھی پہنچے۔ یہ عمل بالآخر ‘وکست بھارت @2047’ کے ہندوستان کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا۔
حوالہ جات:
قبائلی امور کی وزارت:
https://tribal.gov.in/downloads/Livelihood/Guidelines/PMJVMGuidelines.pdf
https://tribal.nic.in/FRA/data/FRARulesBook.pdf
https://tribal.nic.in/fra.aspx
https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247596®=3&lang=1
https://trifed.tribal.gov.in/en/division/mfp-for-msp
https://trifed.tribal.gov.in/en/pmvdy
https://trifed.tribal.gov.in/index.php/en/pmvdy/guideline
https://trifed.tribal.gov.in/sites/default/files/2024-11/Success%20Stories.pdf
https://forestsclearance.nic.in/writereaddata/Frequently%20Asked%20Questions.pdf
وزارتِ خزانہ:
https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/eschapter/echap13.pdf
Pradhan Mantri Janjatiya Vikas Mission
Download in Urdu PDF
********
ش ح۔ع ح۔ج ا
U-2356
(रिलीज़ आईडी: 2301477)
आगंतुक पटल : 3