نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

ترقی اور تحفظ ہمیشہ ساتھ ساتھ چل سکتے ہیں: نائب صدرِ جمہوریہ


بھارت کے پائیدار مستقبل کے لیے جدید سائنسی جنگلات اور تہذیبی حکمت عملی کو ایک دوسرے کی تکمیل کرنی چاہیے: نائب صدرِ جمہوریہ

نسلوں سے جنگلاتی مناظر کے ساتھ رہنے والی برادریوں کے علم کا احترام کریں: نائب صدرِ جمہوریہ

دہرادون میں آئی ایف ایس کے زیرِ تربیت افسران سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدرِ جمہوریہ نے کہا کہ اپنے کیریئر کو بحال شدہ جنگلات، محفوظ جنگلی حیات اور ان برادریوں کے اعتماد سے ماپیں جن کا اعتماد آپ نے حاصل کیا ہے

प्रविष्टि तिथि: 19 AUG 2026 6:10PM by PIB Delhi

نائب صدرِ جمہوریہ جناب سی. پی. رادھا کرشنن نے آج اندرا گاندھی نیشنل فاریسٹ اکیڈمی (آئی جی این ایف اے)، دہرادون میں تربیت حاصل کرنے والے 2025-2027 بیچ کے انڈین فاریسٹ سروس (آئی ایف ایس) کے زیرِ تربیت افسران اور رائل بھوٹان فاریسٹ سروس کے افسران سے خطاب کیا۔

Congratulating the officer trainees, the Vice President said that they would shoulder the responsibility of managing India’s forests, wildlife, biodiversity and precious natural resources during the crucial decades leading to Viksit Bharat @2047.

نائب صدر نے  زیرِ تربیت  افسران کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وِکست بھارت @2047 تک کے فیصلہ کن عشروں کے دوران بھارت کے جنگلات، جنگلی حیات، حیاتیاتی تنوع اور بیش قیمت قدرتی وسائل کے انتظام کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔

انھوں نے زور دیا کہ بھارتی فاریسٹ سروس کا حصہ ملک کی ماحولیاتی سلامتی کو مضبوط بنانے اور 2070 تک خالص صفر اخراج کے ہدف کے حصول کے لیے لازمی ہے۔

نائب صدر نے زور دیا کہ ترقی اور تحفظ متضاد قوتیں نہیں ہیں اور ہمیشہ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چل سکتی ہیں۔ انھوں نے اہلکاران سے اپیل کی کہ وہ تحفظ اور ترقی، ماحولیاتی سلامتی اور روزگار، اور موجودہ ضروریات اور آنے والی نسلوں کے مفادات کے درمیان بہترین توازن تلاش کریں۔

نائب صدر نے ٹیم کی بہتری کو انفرادی بہتری پر ترجیح دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل اجتماعی کوششیں ہی قوموں اور اداروں کی تشکیل کرتی ہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ ان برادریوں کے پاس موجود روایتی علم کا احترام ضروری ہے جو نسلوں سے جنگلات اور قدرتی ایکو سسٹمز کے ساتھ ہم آہنگی میں رہتی آئی ہیں۔

نائب صدر نے عوامی خدمت میں دیانتداری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ”دیانتداری پر سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا“ اور یہ کہ آئین، قانون، سائنس اور عوامی مفاد کو وسیع تر تناظر میں مشکل فیصلوں کی رہ نمائی کرنی چاہیے۔ انھوں نے اہلکاران کو مقامی حقائق کے مطابق ڈھالتے ہوئے بہترین طور طریقوں کو اپنانے کی بھی ترغیب دی۔

جدت طرازی کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے، انھوں نے افسران کی نئی نسل پر زور دیا کہ وہ ریموٹ سینسنگ، جی آئی ایس، ڈرونز، اے آئی اور ڈیٹا سے چلنے والے نظاموں کو میدانی تجربے، درست فیصلہ سازی اور عوام کے لیے حساسیت کے ساتھ یکجا کریں۔

نائب صدر نے کہا کہ جدید سائنسی جنگلاتیات اور بھارت کی تہذیبی دانش کو ملک کے پائیدار مستقبل کی تشکیل میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔

نائب صدر نے جنگلاتی خدمات میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو بھی اجاگر کیا اور زور دے کر کہا کہ موجودہ بیچ میں خواتین کا تناسب تقریباً 17 فیصد ہے، جسے انھوں نے ایک حوصلہ افزا تبدیلی اور ناری شکتی کے ثبوت کے طور پر بیان کیا۔

نائب صدر نے اہلکاران کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے کیریئر کا اندازہ محض ان عہدوں سے نہ لگائیں جو ان کے پاس ہیں، بلکہ ان جنگلات کی بحالی، جنگلی حیات کے تحفظ، ان کمیونٹیز کے اعتماد کی حصولیابی اور آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑی گئی وراثت سے اپنی شراکت کا اندازہ لگائیں۔ انھوں نے اختتام میں زور دیا کہ وہ ہمیشہ قومی مفاد کو اولین ترجیح دیں: ”راشٹر پرتھم“ (قوم اول)۔

اتراکھنڈ کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل گرمیت سنگھ (ریٹائرڈ)؛ اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ جناب پُشکر سنگھ دھامی؛ آئی جی این ایف اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر راجندر پرساد؛ اور کورس ڈائریکٹر محترمہ اجیتا لونگجام اور دیگر معززین اس موقع پر موجود تھے۔

اس سے قبل، آج دہرادون کے جولی گرانٹ ہوائی اڈے پر ان کی آمد پر، نائب صدرِ جمہوریہ کا اتراکھنڈ کے گورنر، لیفٹیننٹ جنرل گرمیت سنگھ (ریٹائرڈ)، اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ، جناب پشکر سنگھ دھامی، اور دیگر معززین نے پرتپاک استقبال کیا۔

ریاست کے اپنے دو روزہ دورے کے دوران، نائب صدرِ جمہوریہ کل لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن (ایل بی ایس این اے اے)، مسوری میں آئی اے ایس کے زیرِ تربیت افسران سے بھی خطاب کریں گے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 2215


(रिलीज़ आईडी: 2301314) आगंतुक पटल : 18
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam