ریلوے کی وزارت
گوالیار-چمبل خطے میں ریل رابطے کو مضبوط بنانے سے ترقی کو نئی رفتار ملے گی
اشونی ویشنو نے کیلارس-سبل گڑھ-بیرپور گیج تبدیل شدہ ریلوے سیکشن کا افتتاح کیا؛ گوالیار-کیلارس ٹرین سروس کو بیرپور تک توسیع دینے کو ہری جھنڈی دکھائی
مرینہ اور شیورپور اضلاع کے 100 سے زائد گاؤں کے باشندوں کو کیلارس-بیرپور گیج تبدیلی سے فائدہ ہوگا: اشونی ویشنو
بیرپور-سیرونی روڈ اور سیرونی روڈ-شیورپور کلاں سیکشنز کا کام تقریباً مکمل: ویشنو
انڈین ریلوے نے 2014 سے اب تک 5.54 لاکھ سے زائد اہلکار بھرتی کیے ہیں: وزیر ریل
مدھیہ پردیش کے لیے ریلوے بجٹ 2009-14 کے 632 کروڑ روپے سے تقریباً 24 گنا بڑھ کر 2026-27 میں 15,188 کروڑ روپے ہو گیا ہے
प्रविष्टि तिथि:
18 AUG 2026 5:40PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی جناب اشونی ویشنو نے مرکزی وزیر برائے مواصلات اور شمال مشرقی خطے کی ترقی جناب جیوتی رادتیہ ایم سندھیا اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کے ہمراہ آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مدھیہ پردیش میں کیلارس-سبل گڑھ-بیرپور ریل سیکشن کی گیج تبدیلی کے بعد افتتاح کیا۔ اس موقع پر گوالیار-کیلارس ٹرین سروس کو بیرپور تک توسیع دینے کو بھی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کیا گیا۔

گوالیار-کیلارس ٹرین سروس کو بیرپور تک توسیع دینے سے بیرپور، وجے پور اور سبل گڑھ کو گوالیار سے براہ راست ریل رابطہ حاصل ہوگا، جس سے دیہی اور قبائلی علاقوں کے مسافروں کو زیادہ سستا اور سہولت بخش سفری اختیار میسر آئے گا۔ اس سے تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع کے لیے گوالیار تک رسائی بہتر ہوگی، جبکہ علاقے میں مقامی تجارت اور علاقائی معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔
ریلوے کے وزیر جناب اشونی ویشنو نے اپنے خطاب میں کہا کہ 56 کلومیٹر طویل کیلارس-بیرپور سیکشن کی گیج تبدیلی کے بعد اس کا افتتاح گوالیار-چمبل خطے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ فریقوں کی اجتماعی کوششوں سے یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھار سکا ہے۔ جناب ویشنو نے مزید کہا کہ اس گیج تبدیلی سے مرینہ ضلع کی بامور، جورا، کیلارس اور سبل گڑھ تحصیلوں اور شیورپور ضلع کی بیرپور، شیورپور اور کرہل تحصیلوں کے 100 سے زائد گاؤں کے باشندوں کو فائدہ ہوگا۔
جناب ویشنو نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ریل رابطے کو مزید بڑھا کر شیورپور کلاں اور بالآخر کوٹہ تک پہنچایا جائے گا، جس سے یہ خطہ اہم تعلیمی اور صنعتی مراکز سے منسلک ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو ترجیح دی گئی ہے اور 117 کلومیٹر طویل بیرلانگر-بیرپور سیکشن پر حالیہ برسوں میں کام تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ انہوں نے خطے کے مختلف حصوں کو مرحلہ وار ریل سروس کے لیے کھولے جانے کی تفصیلات بھی بیان کیں۔
|
نمبر شمار
|
سیکشن
|
لمبائی
|
مسافروں کی آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا
|
|
1
|
برلا نگر - ریارو
|
11 کلومیٹر
|
مئی 2023
|
|
2
|
سماؤلی-ریارو
|
22 کلومیٹر
|
اگست 2023
|
|
3
|
سماؤلی – جورا
|
14 کلومیٹر
|
نومبر 2023
|
|
4
|
جورا - کیلارس
|
14 کلومیٹر
|
فروری 2024
|
|
5
|
کیلارس-سبل گڑھ
|
29 کلومیٹر
|
2025
|
|
6
|
سبل گڑھ- بیر پور
|
27 کلومیٹر
|
2026
|
جناب ویشنو نے بتایا کہ بیرپور سے سیرونی روڈ تک 37 کلومیٹر اور سیرونی روڈ سے شیورپور کلاں تک 33 کلومیٹر طویل اگلے دونوں سیکشنز کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گوالیار-شیورپور کلاں ریلوے لائن کا پورا منصوبہ آئندہ چند ماہ میں مکمل کرکے عوام کے لیے دستیاب کر دیا جائے گا۔ جناب ویشنو نے کہا کہ اس منصوبہ سے کئی اہم ریلوے اسٹیشنوں کو ریل رابطہ حاصل ہوگا اور مدھیہ پردیش میں ریل بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

مدھیہ پردیش میں ریلوے کی ترقی کے وسیع پیمانے کو اجاگر کرتے ہوئے جناب اشونی ویشنو نے کہا کہ ریاست کے لیے ریلوے بجٹ 2009-14 کے دوران 632 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2026-27 میں 15,188 کروڑ روپے ہو گیا ہے، یعنی تقریباً 24 گنا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت مدھیہ پردیش میں تقریباً 1.55 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے ریلوے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریاست میں 80 ریلوے اسٹیشنوں کی ازسرنو ترقی کی جا رہی ہے، ریاست کو جوڑنے والی پانچ وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں اور سات امرت بھارت ٹرینیں شروع کی گئی ہیں۔
جناب ویشنو نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں کئی بڑے نئے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں، جن میں منماڑ-اندور نئی ریلوے لائن اور ریاست کے مختلف حصوں میں تیسری اور چوتھی ریلوے لائن کے متعدد منصوبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی تیسری مدت کے دوران مدھیہ پردیش سے متعلق تقریباً 64,512 کروڑ روپے کے منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔
جناب ویشنو نے یہ بھی بتایا کہ 2014 سے اب تک انڈین ریلوے میں 5.54 لاکھ سے زائد افراد کو بھرتی کیا جا چکا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ریلوے کی برقی کاری اور جدید کاری حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برقی کاری سے انڈین ریلوے کا ڈیزل پر انحصار کم ہوا ہے اور درآمد شدہ ایندھن پر ہونے والے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔
جناب جیوتی رادتیہ سندھیا نے کہا کہ گوالیارر-چمبل خطے کے لیے یہ ایک تاریخی دن ہے اور کیلارس سے بیرپور تک ریلوے لائن کی توسیع کو خطے کے لیے ایک نئی شروعات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو سفر پہلے گوالیار ، بامور، سماؤلی، جورا اور کیلارس تک پہنچا تھا، اب اسے بیرپور تک توسیع دی جا رہی ہے اور آئندہ یہ شیورپور اور بالآخر کوٹا تک پہنچے گا۔
جناب سندھیا نے واضح کیا کہ ریلوے لائن محض آمد و رفت کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت اور دیگر جدید سہولیات تک رسائی کو بھی آسان بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرپور تک توسیع سے کیلارس، سبل گڑھ، رام پہاڑی، وجے پور اور بیرپور کے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ کیلارس سیکشن اس وقت روزانہ تقریباً 10,000 افراد کو آمد و رفت کی سہولت فراہم کرتا ہے، جبکہ اس توسیع سے ریلوے کی رسائی مزید وسیع ہوگی اور زیادہ بڑی آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔
ڈاکٹر موہن یادو نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں ریلوے نیٹ ورک کی توسیع، جس میں اندور-منماڑ نئی ریلوے لائن بھی شامل ہے، نئے راستے کھولے گی اور گوالیار-چمبل خطے اور مالوا کے درمیان رابطے کو مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے سے ایک نئے صنعتی خطے کی ترقی میں مدد ملے گی اور سیاحت سمیت دیگر معاشی سرگرمیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
ڈاکٹر یادو نے زور دیا کہ صنعتوں اور روزگار کی ترقی کے لیے ریلوے رابطہ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے، جوتے سازی، ہائیڈروجن کی تیاری اور سیاحت جیسے شعبوں میں گوالیار-چمبل خطے کی صلاحیت کو اجاگر کیا اور کہا کہ بہتر ریلوے رابطہ ان ابھرتے ہوئے شعبوں کی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔ ڈاکٹر یادو نے کہا کہ گوالیار سے شیورپور اور شیورپور سے آگے ریلوے رابطے کی توسیع گوالیار اور وسیع تر خطے کی ترقی کو ایک نئی جہت دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست بھر میں ریلوے لائنوں کو دوگنا، تین گنا اور چار گنا کرنے کا جاری کام رابطے کو مزید مضبوط بنائے گا۔
اس پروگرام میں مدھیہ پردیش قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر جناب نریندر سنگھ تومر اور مرینہ کے رکن پارلیمنٹ جناب شیو منگل سنگھ تومر سمیت دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔
***
(ش ح-ظ -الف-م ذ)
U.R . 2285
(रिलीज़ आईडी: 2300962)
आगंतुक पटल : 11