نیتی آیوگ
azadi ka amrit mahotsav

ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ کے مرکز کے طور پر مستحکم کرنے والے  اہم شعبوں پر  نیتی آیوگ کی رپورٹ


ہندوستان کی مینوفیکچرنگ کے عزائم  کو تقویت : ہندوستان کی ترقیاتی کہانی کو آگے بڑھانے والے اہم شعبے

ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر مستحکم کرنے والے اہم شعبے: تزویراتی اہمیت، ویلیو چین کا  کردار اور عملی کارکردگی

مؤثر اقدامات کے ذریعے مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مزید فروغ دے کر‘وکست بھارت’ کے وژن پرپیش قدمی

प्रविष्टि तिथि: 13 AUG 2026 4:56PM by PIB Delhi

نیتی آیوگ نے  ‘‘ہندوستان کو عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر مستحکم کرنے والے اہم شعبے’’  کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں خاکہ بند اور اعداد و شمار پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے ان اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جو عالمی مینوفیکچرنگ کی طاقت بننے کے  ہندوستان کے عزم کو تقویت دے سکتے ہیں۔ رپورٹ میں  کیمیکلز، ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ آلات، ٹیکسٹائل اور شمسی فوٹو وولیٹک مینوفیکچرنگ  سمیت چار شعبوں کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے۔

اس جائزے میں عالمی رجحانات، مختلف شعبوں میں ترقی کے مواقع اور عالمی معیارات کے تناظر میں ہندوستان کے مینوفیکچرنگ منظرنامے کو سمجھنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ مینوفیکچرنگ میں مسابقتی صلاحیت پر اثرانداز ہونے والے عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جن میں  مارکیٹ کی گنجائش، بنیادی ڈھانچے کی تیاری، پالیسی معاونت، خام مال کی دستیابی، ٹیکنالوجی کی تیاری، روزگار کی صلاحیت اور ویلیو چین میں ہندوستان کی موجودہ پوزیشن  شامل ہیں۔

اس منصوبے کا مقصد ایسے شعبوں کی نشاندہی کرنا ہے جہاں ہندوستان کے اندر  ترقی کے نمایاں امکانات موجود ہیں اور جہاں ہدف بنداقدامات کے ذریعے ملکی صلاحیتوں کو مضبوط، مسابقتی صلاحیت اور ویلیو انڈیشن کی بہتری، اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کی ترقی کو تیز کیا جا سکتا ہے۔ اس مطالعے میں معروف مینوفیکچرنگ ممالک کے تجربات سے بھی استفادہ کیا گیا ہے تاکہ اہم چیلنجوں سے نمٹنے اور شناخت شدہ  شعبوں میں ترقی کو فروغ دینے کے لیے شعبہ جاتی سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

تجزیاتی مطالعے کو  چار الگ الگ مراحل  میں ترتیب دیا گیا تھا:

 مرحلہ 1: نسبتاً پرکشش شعبوں کی بنیاد پر شعبوں کی ابتدائی فہرست بندی : ملکی اور عالمی منڈیوں میں مارکیٹ کے حجم اور ترقی کے امکانات کی بنیاد پر زیادہ ترقی کی صلاحیت رکھنے والے شعبوں کی نشاندہی کی گئی۔

 

 مرحلہ 2: ابتدائی فہرست میں شامل شعبوں کا جامع جائزہ: ابتدائی طور پر منتخب شعبوں کا سہ رخی  تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ان کی  مارکیٹ کی صلاحیت، مسابقتی حیثیت اور وسیع تر تزویراتی اہمیت  کا جائزہ لیا گیا۔

 مرحلہ 3: بین الاقوامی بہترین طریقۂ کار کا تقابلی جائزہ: اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممالک کے ذریعے  اختیار کردہ  بہترین طریقۂ کار اور کامیاب حکمتِ عملیوں کا تجزیہ کیا گیا، تاکہ ہندوستان کے منتخب شعبوں سے متعلق موزوں حکمتِ عملیوں اور قابلِ عمل تجربات کی نشاندہی کی جا سکے۔

 مرحلہ 4: قابلِ عمل سفارشات اور مستقبل کا لائحہ عمل وضع کرنا: مسابقتی صلاحیت کو مضبوط بنانے، ترقی کے امکانات سے فائدہ اٹھانے اور عالمی مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ہندوستان کا  مقام  مستحکم کرنے کے لیے شعبے کے لحاظ سے  قابلِ عمل سفارشات اور واضح لائحۂ عمل مرتب کیا گیا۔

رپورٹ کے اس شمارے میں مینوفیکچرنگ کے  چار اعلیٰ امکانات رکھنے والے شعبوں  پر توجہ مرکوز کی گئی ہے:  کیمیکلز، ٹیکسٹائل، ٹیلی کام و نیٹ ورکنگ آلات اور شمسی فوٹو وولیٹک مینوفیکچرنگ۔   اس کے بعد مزید 8 شعبوں سے متعلق رپورٹس جاری کی جائیں گی۔

  کیمیکلز کا شعبہ

گھریلو کیمیکل صنعت کی مجموعی کھپت بنیادی طور پر تین اہم شعبوں پر مشتمل ہے:  پیٹروکیمیکلز اور نامیاتی کیمیکلز، خصوصیاتی کیمیکلز اور غیر نامیاتی کیمیکلز۔  پیٹروکیمیکلز اور نامیاتی کیمیکلز سب سے بڑے شعبےہیں، جن میں پولیمرز، مصنوعی ریشے، اعلیٰ کارکردگی والے پلاسٹکس، بلڈنگ بلاکس، درمیانی مواد  اور حتمیٰ تیار شدہ مصنوعات شامل ہیں۔

ہندوستان کی کیمیکل صنعت میں ڈاؤن اسٹریم کی  پیداوار کو وسعت دے کر اور خام مال کے زیادہ مؤثر استعمال کو یقینی بنا کر ملکی سطح پر  ویلیو ایڈیشن   کو نمایاں طور پر بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔ گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، مسابقتی صلاحیت میں سرمایہ کاری اور آزاد تجارتی معاہدوں (ایف ٹی اے) کے تزویراتی استعمال سے درآمدات پر انحصار کم کرنے، زیریں مراحل کی پیداواری صلاحیت مضبوط کرنے اور صنعت کی پائیدار ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔

  ٹیکسٹائل کا شعبہ

ہندوستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت ملک کے اہم ترین مینوفیکچرنگ شعبوں میں شامل ہے۔ اس کا حصہ  قومی مجموعی پیداوار میں تقریباً  2 فیصد، مینوفیکچرنگ کی مجموعی ویلیو ایڈیشن  میں 11 فیصد اور اشیائے تجارت کی برآمدات میں 9 فیصد ہے۔ یہ شعبہ زراعت کے بعد روزگار فراہم کرنے والا دوسرا سب سے بڑا شعبہ بھی ہے، جو  4.5 کروڑ سے زائد افراد  کو روزگار اور ذریعۂ معاش فراہم کرتا ہے اور چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کی قیادت میں وسیع پیمانے پر صنعتی ترقی کو سہارا دیتا ہے۔ مالی سال  2025  میں ہندوستان نے  37.7 ارب امریکی ڈالر  مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کیں اور عالمی ٹیکسٹائل و ملبوسات کی برآمدات میں  4.1 فیصد  حصہ دار بنا ، جس کے باعث ہندوستان دنیا کا  چھٹا سب سے بڑا ٹیکسٹائل برآمد کنندہ  ملک بن گیا۔

خام مال کی دستیابی بہتر بنا کر، بنیادی ڈھانچے کی معاونت کے ذریعے مینوفیکچرنگ کی صلاحیت میں اضافہ کرکے اور تجارتی روابط کو مزید گہرا کرتے ہوئے منڈی تک رسائی بڑھا کر ہندوستان کی ٹیکسٹائل صنعت میں عالمی مسابقتی صلاحیت کو مزید مضبوط کرنے کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔  ہنرمندی، ٹیکنالوجی کے استعمال اور پیداواری صلاحیت  میں بہتری کے ساتھ تکنیکی ٹیکسٹائل، مصنوعی و مصنوعی مرکب ریشوں پر مبنی مصنوعات، پائیدار ٹیکسٹائل اور اعلیٰ معیار کی ہندوستانی دستکاری کو فروغ دے کر ویلیو ایڈیشن  اور عالمی سطح پر ترقی کو مزید تقویت دی جا سکتی ہے۔

  ٹیلی کام اور نیٹ ورکنگ  کے آلات کا شعبہ

ہندوستان اس وقت دنیا کی دوسری سب سے بڑی ٹیلی مواصلاتی منڈی ہے، جہاں  1.2 ارب سے زائد صارفین، تقریباً 85 فیصد ٹیلی کام رسائی اور تقریباً 75 فیصد انٹرنیٹ استعمال  موجود ہے۔ اس شعبے کی تبدیلی لانے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے  قومی ٹیلی کام پالیسی 2025 (این ٹی پی-25)  کا ہدف ہے کہ 2030 تک اس شعبے کا جی ڈی پی میں حصہ دوگنا کیا جائے، ٹیلی کام مصنوعات اور خدمات کی برآمدات دوگنی کی جائیں،  10 لاکھ نئی ملازمتیں  پیدا کی جائیں اور سرمایہ کاری و تحقیق و ترقی کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔

ہندوستان کے ٹیلی کام اور الیکٹرانکس شعبے میں مقامی پیداوار کو مزید گہرا کرنے اور ملکی سطح پر اجزا کی تیاری کو مضبوط بنا کر عالمی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے نمایاں امکانات موجود ہیں۔ اہم ترجیحات میں  مشترکہ منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینا، مربوط صنعتی کلسٹرتیار کرنا، زیادہ صلاحیت رکھنے والے برآمداتی شعبوں کو وسعت دینا اور دائرے، جدت طرازی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کے لیے جانچ، تصدیق اور ہنرمندی کے نظام کو مضبوط بنانا  شامل ہیں۔

سولر پی وی سیکٹر

ہندوستان میں مارچ  2025  تک  106 گیگاواٹ  شمسی توانائی کی صلاحیت قائم  ہو چکی تھی، جبکہ 2030 تک  280 گیگاواٹ  شمسی توانائی کی صلاحیت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے مزید تقریباً  174 گیگاواٹ  صلاحیت کا اضافہ کرنا ہوگا۔ گھریلو فوٹو وولٹک منڈی، جس کی مالیت تقریباً  32,400 کروڑ روپے یا 3.7 ارب امریکی ڈالر  ہے، مالی سال 2023 سے مالی سال 2030 کے دوران  17 سے 20 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو  سے ترقی کرنے کی توقع ہے۔ اس ترقی کو بڑے پیمانے کے شمسی منصوبوں، چھتوں پر شمسی توانائی کے منصوبوں، اوپن ایکسس منصوبوں اور گرین ہائیڈروجن سے وابستہ طلب سے تقویت ملے گی۔

ہندوستان کے شمسی مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام میں بالائی سطح کی پیداواری صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر اور درآمدات پر انحصار کم کرکے  ملکی سطح پر ویلیو ایڈیشن  کو مزید بڑھانے کے مضبوط امکانات موجود ہیں۔ اہم ترجیحات میں  ٹیکنالوجی شراکت داری اور مشترکہ منصوبے، تحقیق و ترقی میں زیادہ سرمایہ کاری اور کارکردگی سے منسلکہ معاونت، مربوط صاف ٹیکنالوجی کلسٹر کی ترقی اور صنعت کی قیادت میں ہنرمندی کی تربیت  شامل ہیں۔ تجارتی شراکت داریوں اور حکومت سے حکومت کے درمیان تعاون کے فریم ورک کو مضبوط بنانے سے برآمداتی  مواقع میں بھی اضافہ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کو ایسے  موثر ذریعہ  کے طور پر تیار کیا گیا ہے جو وقت کے ساتھ منتخب شعبوں کو اپنے مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کی سمت رہنمائی فراہم کرے گی۔ صنعت اور حکومت موجودہ چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے مخصوص اور ضرورت کے مطابق اقدامات کے ذریعے باہمی تال میل  سے ہندوستان کی مینوفیکچرنگ یہ صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مربوط اور مشترکہ کوششیں ملک کو  مینوفیکچرنگ کے شعبے میں زیادہ تیز رفتار ترقی کی راہ  پر گامزن کرنے میں مدد گار ثابت ہوں  گی۔

رپورٹ یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے:

https://www.niti.gov.in/sites/default/files/2026-08/Key-Sectors-to-Position-India-as-a-Global-Manufacturing-Hub.pdf

*******                 

 

ش ح۔ م ش ع۔ ت ا

 (U: 2038)

                   


(रिलीज़ आईडी: 2299091) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , Telugu , English , Marathi , Gujarati