ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ٹرینوں کی بحفاظت آمدورفت اور غیر مجاز داخلے کی روک تھام کے لیے 19,700 کلومیٹر ریلوے ٹریک کے ساتھ حفاظتی باڑ لگائی گئی


مسافروں کی حفاظت اور ریلوے املاک کے تحفظ کے لیے بھارتی ریلوے کی جانب سے پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی؛ ٹرینوں پر پتھراؤ کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ’آپریشن ساتھی‘ سمیت بیداری پروگرام اور جی آر پی و مقامی پولیس کے ساتھ باقاعدہ تال میل

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 4:59PM by PIB Delhi

ریلوے املاک کو نقصان پہنچانے اور مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے والے پتھراؤ کے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ ریلوے کی جانب سے مسافروں کی جان و مال اور ریلوے املاک کے تحفظ کے لیے درج ذیل احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں:

  • متاثرہ علاقوں اور ایسے مقامات جہاں پتھراؤ کے واقعات زیادہ پیش آتے ہیں، وہاں شرپسند عناصر، نشے میں دھت افراد اور دیگر سماج دشمن عناصر کے خلاف باقاعدگی سے مہم چلائی جاتی ہے۔ پکڑے گئے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔
  • ٹرینوں کے ساتھ تعینات حفاظتی عملے کو حساس اور خطرے والے علاقوں میں مزید چوکس رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، جہاں ٹرینوں کو نقصان پہنچانے کے واقعات اکثر رپورٹ ہوتے ہیں۔
  • ریلوے ٹریک کے آس پاس آباد علاقوں میں لوگوں کو ٹرینوں پر پتھراؤ کے خطرات اور اس کے نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے ’آپریشن ساتھی‘ سمیت مختلف بیداری پروگرام باقاعدگی سے منعقد کیے جاتے ہیں۔
  • چلتی ٹرینوں پر پتھراؤ کے واقعات پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے متعلق تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے گئے ہیں۔ ایسے واقعات کا تجزیہ کرنے کے بعد ان کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جاتے ہیں۔
  • ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) کی جانب سے گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) اور مقامی پولیس کے ساتھ باقاعدگی سے تال میل برقرار رکھا جاتا ہے اور ٹرینوں پر پتھراؤ کے واقعات پر قابو پانے کے لیے اہم معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
  • ریلوے کی ریاستی سطح کی سکیورٹی کمیٹیاں (ایس ایل ایس سی آر) تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے تشکیل دی گئی ہیں۔ ان کمیٹیوں کی سربراہی متعلقہ ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس یا پولیس کمشنر کرتے ہیں۔ یہ کمیٹیاں ریلوے کے حفاظتی انتظامات کی باقاعدہ نگرانی اور جائزہ لیتی ہیں۔

ہندوستانی ریلوے میں ٹرینوں کی محفوظ آمدورفت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ مویشیوں، پیدل چلنے والوں اور چھوٹی گاڑیوں کو ریلوے لائن عبور کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پیدل گزرگاہوں پر بھی حفاظتی باڑ لگائی جا رہی ہے۔

اب تک ہندوستانی ریلوے میں ریلوے ٹریک کے ساتھ تقریباً 19,700 کلومیٹر حفاظتی باڑ لگائی جاچکی ہے۔ اس میں بہار، مدھیہ پردیش، آندھرا پردیش اور اتر پردیش میں واقع ریلوے سیکشن بھی شامل ہیں۔

یہ معلومات مرکزی وزیر ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کیں۔

*****

ش ح ۔   م     د ۔  م  ص

(U :1965  )


(रिलीज़ आईडी: 2298624) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada