بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
ساگر مالا اسٹارٹ اپ اور اختراع پہل
प्रविष्टि तिथि:
11 AUG 2026 3:47PM by PIB Delhi
ساگرمالا اسٹارٹ اَپ اینڈ انوویشن انیشی ایٹو(ایس 2آئی 2) کا آغاز 19 مارچ 2025 کو بھارت کے بحری شعبے میں اختراع اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک مضبوط نظام قائم کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا۔ میری ٹائم انڈیا فاؤنڈیشن(ایم آئی ایف)، جو تمل ناڈو سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1975 کے تحت رجسٹرڈ ایک سوسائٹی ہے اور بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت کے تحت کام کرتی ہے، ایس 2آئی 2 کے نفاذ کے لیے نامزد ادارہ ہے۔
ایس 2آئی 2کے تحت میری ٹائم انوویشن ہبس (ایم آئی ایچ )آئی آئی ٹی مدراس، آئی آئی ٹی بمبئی، آئی آئی ٹی کھڑگ پور اور انڈین میری ٹائم یونیورسٹی (آئی ایم یو)، چنئی میں قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز کا مقصد ٹیکنالوجی کی تیاری، آزمائش، توثیق، صلاحیت سازی اور اسٹارٹ اَپس کو جدید بحری حل تیار کرنے اور ان کے عملی مظاہرے میں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔ یہ نظام بندرگاہوں سے متعلق مسائل کی نشاندہی سے لے کر اسٹارٹ اَپ کے حل کو آزمائشی طور پر نافذ کرنے اور بڑے پیمانے پر وسعت دینے تک ایک منظم راستہ فراہم کرتا ہے، جس سے بحری شعبے کی ترجیحات کے ساتھ بہتر ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔
ایم آئی ایف نے چنئی پورٹ اتھارٹی (سی ایچ پی اے)اور نیشنل ٹیکنالوجی سینٹر فار پورٹس، واٹر ویز اینڈ کوسٹس (این ٹی سی پی ڈبلیو سی)، آئی آئی ٹی مدراس) کے تعاون سے ایس 2آئی 2 کے تحت مار-ا-تھون 2025کا آغاز 25 اگست 2025 کو آئی آئی ٹی مدراس میں کیا۔ یہ بھارت کا پہلا بحری ہیکاتھون تھا۔
ہیکاتھون کے آغاز کے بعد مار-ا-تھون بوٹ کیمپ 2025 کا انعقاد 16 اور 17 اکتوبر 2025 کو آئی آئی ٹی مدراس ریسرچ پارک میں کیا گیا، جس میں اسٹارٹ اَپس، تعلیمی اداروں، صنعتی شعبے کے رہنماؤں اور بحری شعبے سے وابستہ متعلقہ فریقوں نے شرکت کی اور بحری شعبے کو درپیش اہم مسائل کے حل پر غور وخوض کیا۔
اس اقدام کو زبردست ردعمل ملا اور ملک بھر کے اسٹارٹ اَپس کی جانب سے درج ذیل چھ موضوعاتی شعبوں کے تحت 51 مسائل کے حل کے لیے 330 درخواستیں موصول ہوئیں، 6 موضوعاتی شعبے درج ذیل ہیں:
- بندرگاہوں کا بنیادی ڈھانچہ
- اسمارٹ اور مربوط بندرگاہی آپریشنز
- مربوط رسد اور کثیر ذرائع نقل و حمل کے درمیان رابطہ
- سبز اور پائیدار بحری شعبہ
- جدید حفاظتی اقدامات، سلامتی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی تعمیل
- جہاز سازی اور جہاز کے پورےلائف سائیکل کا انتظام
متعدد ماہر کمیٹیوں کی جانب سے جائزے کے بعد اس پروگرام کے اختتام پر 36 اسٹارٹ اَپس کو 40 منصوبوں کے لیے منتخب کیا گیا۔ ان میں سے ہر اسٹارٹ اَپ کو حقیقی عملی مسائل سے نمٹنے کے لیے اختراعی اور بڑے پیمانے پر قابلِ توسیع حل تیار کرنے کا موقع دیا گیا ہے، جو بھارت کے بحری شعبے میں تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ایس 2 آئی 2 کے ایک حصے کے طور پر آندھرا پردیش کی وشاکھاپٹنم بندرگاہ نے 4 مخصوص مسائل کی نشاندہی کی ہے۔
مزید برآں، آندھرا پردیش کے 2 اسٹارٹ اَپس کو ان مسائل کے لیے اختراعی حل تیار کرنے اور انہیں نافذ کرنے کے مقصد سے اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔
یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر سربانند سونووال نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
(ش ح ۔ م م ع ۔م ذ)
U.No: 1822
(रिलीज़ आईडी: 2297645)
आगंतुक पटल : 11