صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انیمیا مکت بھارت ابھیان کے عملی رہنما اصولوں کا نفاذ

انیمیا  مکت بھارت ابھیان نے خون کی کمی میں تیزی سے کمی لانے کے لیے 7×7×7 فریم ورک جاری کیا

انیمیا  مکت بھارت ابھیان کے نئے رہنما اصولوں میں خون کی کمی کی جانچ، علاج، نگرانی اور غذائی تنوع پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 1:36PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند نے 29 جون 2026 کو صحت اور خاندانی بہبو د کی مرکزی کونسل (سی سی ایچ ایف ڈبلیو) کے منعقدہ 16ویں اجلاس کے دوران انیمیا سے پاک بھارت مہم کے عملی رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ اس کا مقصد 7×7×7 حکمتِ عملی کے ذریعے خون کی کمی (انیمیا) سے نمٹنا ہے، جو انیمیا سے پاک بھارت پروگرام کی سابقہ 6×6×6 حکمتِ عملی سے ایک قدم آگے ہے۔

انیمیا سے پاک بھارت مہم کے اہم اجزا درج ذیل ہیں:

  1. مستفیدین کے گروپ کے لحاظ سے مختلف پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل انویسیو ہیموگلوبینومیٹرز کے ذریعے ہیموگلوبن (ایچ بی )کی مکمل جانچ کو یقینی بنانا۔
  2. تشخیص شدہ انیمیا کی قسم کے مطابق احتیاطی تدابیر اور ہدفی علاج فراہم کرنا۔
  3. مناسب کیس بیسڈ مینجمنٹ کے لیے غذائی کمی کے باعث ہونے والے انیمیا اور غیر غذائی اسباب سے ہونے والے انیمیا کو الگ الگ کرنا۔
  4. انیمیا سے متعلق خدمات کی نگرانی کے لیے مضبوط ڈیجیٹل نظام قائم کرنا؛  ٹی 3 طریقۂ کار ٹاک یعنی بات چیت ،ٹریٹ ،علاج ومعالجہ سے ٹی 4 طریقۂ کار یعنی جانچ ، علاج معالجہ   ،بات چیت اور تشخیص اور نگرانی کرنا کی طرف منتقل ہونا۔
  5. ایٹ رائٹ یعنی بہتر غذا کھانے کے طریقۂ کار کے تحت غذائی تنوع کو فروغ دینا اور روزمرہ خوراک میں مقامی طور پر دستیاب  آئرن سے  بھرپور غذاؤں کے استعمال کی ترغیب دینا۔
  6. ضمنی اقدامات کے نفاذ کے لیے پورے حکومتی نظام کے مشترکہ طریقۂ کار کو نافذ کرنا اور مختلف وزارتوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا۔
  7. جن بھاگیداری یعنی عوامی شراکت داری کے ذریعے ایسی ابلاغی حکمتِ عملی اپنانا جس سے انیمیا کو خاموشی سے قبول کرنے کے بجائے اس کی روک تھام اور علاج کی ذمہ داری فعال طور پر قبول کرنے کی سوچ پیدا ہو، تاکہ جانچ، علاج، آگاہی اور نگرانی کو مؤثر بنایا جا سکے۔

انیمیا سے پاک بھارت مہم کے تحت 7×7×7 فریم ورک کی تفصیلات

سات مستفیدین کے گروپ  درج ذیل ہیں:

  1. 6 سے 59 ماہ کی عمر کے بچے
  2. 5 سے 9 سال کی عمر کے بچے
  3. 10 سے 19 سال کی عمر کے نوعمر لڑکے
  4. حاملہ خواتین
  5. دودھ پلانے والی مائیں
  6. تولیدی عمر کی خواتین (20 سے 49 سال)
  7. پیدائش کے وقت کم وزن والے 0 سے 6 ماہ کے بچے

سات اقدامات  درج ذیل  ہیں:

  1. احتیاطی طور پر آئرن اور فولک ایسڈ(آئی ایف اے ) کی فراہمی
  2. انیمیا کی جانچ
  3. انیمیا کا علاج
  4. کیڑوں سے نجات حاصل کرنے کی دوا دینا اور نال کاٹنے میں تاخیر کرنا
  5. جن بھاگیداری کے ذریعے انیمیا کو معمول کی بات سمجھنے کے رجحان کا مقابلہ کرنے اور آئرن و فولک ایسڈ (آئی ایف اے ) پابندی سے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے ابلاغی حکمتِ عملی
  6. انیمیا کے غیر تغذیہ بخش  اسباب کا تدارک
  7. ایٹ رائٹ یعنی صحیح خوراک مقامی طور پر دستیاب آئرن سے  بھرپور غذاؤں اور متنوع خوراک کے استعمال کو فروغ دینا

سات ادارہ جاتی طریقۂ کار یہ ہیں:

  1. وزارت کے اندر مختلف شعبوں کے درمیان باہمی تعاون
  2. انیمیا  سے متعلق  نیشنل سینٹر آف ایکسیلینس  اور جدید تحقیق
  3. قومی انیمیا سے پاک بھارت مہم یونٹ
  4. سپلائی چین اور لاجسٹکس کو مضبوط بنانا
  5. دیگر وزارتوں کے ساتھ باہمی تعاون
  6. انیمیا سے پاک بھارت مہم پورٹل
  7. ٹی4 طریقۂ کار کے ذریعے نگرانی کے لیے ڈیجیٹل فریم ورک

ٹی4 طریقۂ کار میں انیمیا کی جانچ ، انیمیا کا علاج، جن بھاگیداری یعنی عوامی شراکت داری کے ذریعے آگاہی اور علاج پر عمل درآمد کے لیے مکالمہ و آگاہی  اور علاج، ریفرل اور بعد از علاج معائنے کے لیے مستفیدین کی نگرانی  شامل ہے۔

انیمیا مکت بھارت  یعنی انیمیا سے پاک بھارت مہم کے تحت ایک ڈیجیٹل فریم ورک وضع کیا گیا ہے تاکہ انیمیا سے متعلق خدمات کا ریکارڈ رکھنے، ڈیجیٹل نگرانی کو مضبوط بنانے اور خدمات کی مؤثر مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر مستفیدین میں انیمیا کی جانچ کی جائے گی۔ حاملہ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا اندراج جے اے این اے این آئی پورٹل، اسکول جانے والے بچوں کا اندراج آر بی ایس کے  پورٹل اور ویکسینیشن کے لیے بچوں کا اندراج یو –ڈبلیو آئی این پورٹل پر کیا جاتا ہے۔

انیمیا سے پاک بھارت مہم کے تحت انیمیا کو ہلکے، درمیانے اور شدید درجوں میں تقسیم کرنے اور مقررہ طبی پروٹوکول کے مطابق اس کا مناسب علاج فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

 صحت  اور خاندانی بہبود  کی مرکزی وزیر مملکت  محترمہ انوپریا پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کیں۔

***

 (ش ح ۔ م م ع ۔م ذ)                                                                                                                                                                                   

U.No: 1808


(रिलीज़ आईडी: 2297614) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu