کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

اے پی ای ڈی اے نے بہار سے آسٹریلیا تک سمندری راستے سے جی آئی ٹیگ والے متھلا مکھانہ کی پہلی بار برآمد کی سہولت فراہم کی


در بھنگہ کے کسانوں سے حاصل کردہ 18 میٹرک ٹن کی کھیپ سے تقریباً 18 فیصد زیادہ منافع حاصل ہوا

प्रविष्टि तिथि: 08 AUG 2026 2:53PM by PIB Delhi

زرعی اور پراسیس شدہ غذائی مصنوعات کی برآمدی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) نے بہار کے بِہٹا میں واقع بی آئی اے ڈی اے صنعتی علاقے سے آسٹریلیا کے لیے جی آئی ٹیگ شدہ متھِلا مکھانہ کی 18 میٹرک ٹن کی پہلی تجارتی سمندری کھیپ کی برآمد میں سہولت فراہم کی۔ دربھنگہ ضلع کے مکھانہ کاشت کاروں سے حاصل کی گئی اس کھیپ سے بہار کی اس اہم جی آئی مصنوعات کی بین الاقوامی موجودگی کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ برآمد پر مبنی منڈی تک رسائی کے ذریعے کسانوں کے لیے آمدنی کے بہتر مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

اس برآمدی کھیپ کو حکومت بہار کے وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا نے روانہ کیا۔ اس موقع پر حکومت بہار کے ڈائریکٹر ہارٹیکلچر، اے پی ای ڈی اے کے افسران، برآمد کنندہ کے نمائندے، لاجسٹکس شراکت دار اور خطے کے ترقی پسند مکھانہ کاشت کار بھی موجود تھے۔

اس اقدام کے نتیجے میں کسانوں کو مارکیٹ میں رائج قیمتوں کے مقابلے میں تقریباً 18 فیصد زیادہ منافع حاصل ہوا، جو برآمد پر مرکوز ویلیو چین اور براہ راست مارکیٹ روابط کے فوائد کو اجاگر کرتا ہے۔ توقع ہے کہ اس برآمد سے جی آئی ٹیگ شدہ متھِلا مکھانہ کی بین الاقوامی موجودگی مضبوط ہوگی، بہار کے مکھانہ شعبے کے لیے پائیدار برآمدی مواقع پیدا ہوں گے اور کسانوں کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔

یہ کھیپ میسرز نیاڈ گرین نے برآمد کی، جبکہ لاجسٹکس میں میسرز جِتبن سپلائی چین پرائیویٹ لمیٹڈ نے تعاون کیا، جو اے پی ای ڈی اے کے بھارتی (BHARATI — بھارت ہب فار ایگری ٹیک، ریزیلینس، ایڈوانسمنٹ اینڈ انکیوبیشن فار ایکسپورٹ انوویشن) کے تحت معاونت یافتہ ایک اسٹارٹ اپ ہے۔ اعلیٰ معیار کے خام جی آئی ٹیگ شدہ متھِلا مکھانہ پر مشتمل یہ کھیپ دربھنگہ ضلع کے کسانوں سے براہ راست حاصل کی گئی اور بہار کے بِہٹا میں واقع بی آئی اے ڈی اے صنعتی علاقے میں پیک کی گئی۔

اس موقع پر حکومت بہار کے وزیر زراعت جناب وجے کمار سنہا نے کہا کہ مکھانہ بہار کی شناخت ہے اور بین الاقوامی تجارت میں بہار میں مقیم برآمد کنندگان کی زیادہ سے زیادہ شرکت سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے عالمی منڈی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے معیار کے مقررہ معیارات برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت بہار کاشت کاروں، پرا سیس کرنے والوں اور برآمد کنندگان کی معاونت کے ذریعے مکھانہ کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پھوری برادری کو تمام ضروری تعاون فراہم کیا جاتا رہے گا، کیونکہ مکھانہ کی پراسیس کرنے میں ان کی روایتی مہارتیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جی آئی ٹیگ شدہ متھِلا مکھانہ کی آسٹریلیا کے لیے پہلی سمندری کھیپ بہار کی زرعی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کی عکاسی کرتی ہے اور کسانوں و برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرتی ہے۔

اے پی ای ڈی اے، جو حکومت ہند کی وزارت تجارت و صنعت کے تحت کام کرتی ہے، نے حکومت بہار کے محکمۂ زراعت کے اشتراک سے اس برآمد میں سہولت فراہم کی۔ اے پی ای ڈی اے مسلسل صلاحیت سازی، مارکیٹ ڈیولپمنٹ اقدامات، برآمدی سہولت کاری اور متعلقہ فریقوں کی شمولیت کے ذریعے مکھانہ کی برآمدات کو فروغ دے رہی ہے۔ اتھارٹی نے مارکیٹ تک رسائی کی سہولت اور رابطہ کاری میں بھی برآمد کنندہ کی معاونت کی، جس سے کھیپ کو آسٹریلیا تک بلا رکاوٹ پہنچانے میں مدد ملی۔

بھارت کی مکھانہ پیداوار میں بہار کا حصہ تقریباً 85 فیصد ہے۔ اس شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فنانس بل، 2025 کے تحت جولائی 2025 سے مکھانہ کے لیے ایک علیحدہ ایچ ایس کوڈ نافذ کیا گیا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران بھارت نے امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سمیت 20 سے زائد بین الاقوامی مقامات کو 7,000 میٹرک ٹن سے زیادہ مکھانہ اور اس سے تیار کردہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات برآمد کیں۔

اے پی ای ڈی اے ملک بھر کے کسانوں کے لیے برآمد پر مبنی پائیدار ترقی کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی زرعی مصنوعات کی عالمی مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے ریاستی حکومتوں، برآمد کنندگان، اسٹارٹ اپ، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشن (ایف پی او)، فارمر پروڈیوسر کمپنیوں (ایف پی سی) اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل قریبی تعاون کر رہی ہے۔

***********

ش ح۔ ف ش ع

                                                                                                                                       U: 1653


(रिलीज़ आईडी: 2296576) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Gujarati , Tamil , Telugu