ریلوے کی وزارت
ڈی ایف سی کی مکمل فعالیت اور جی سی ٹی کے فروغ سے مال برداری میں تیز رفتار اضافہ؛ مال برداری میں 15-2014 کے 1,098 ملین ٹن سے 26-2025 میں 1,670 ملین ٹن کا اضافہ
ہندوستانی ریلوے نے ٹرمینلز کی ترقی، ویگن سرمایہ کاری کی اسکیموں، تیز رفتار مال برداری خدمات اور ابتدائی و آخری مرحلے کی بہتر رابطہ سہولت کے ذریعے مال برداری کے نظام کو مزید مضبوط بنایا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 AUG 2026 3:04PM by PIB Delhi
مال برداری کی رسد، علاقائی رابطے کو مضبوط بنانے اور ریلوے کے ذریعے سامان کی نقل و حمل میں حصہ بڑھانے کے لیے ہندوستانی ریلوے نے ایک جامع حکمتِ عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت مال برداری کی استعداد میں اضافہ، ہموار علاقائی رابطے اور ابتدائی و آخری مرحلے (فرسٹ اینڈ لاسٹ مائل) کی مؤثر سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
(i) ٹرمینلوں کی ترقی:ریلوے کے مال برداری ٹرمینلوں پر سامان کی نقل و حمل کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے ہندوستانی ریلوے نے دو رخی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ اس کے تحت ایک جانب گتی شکتی کثیر جہتی مال برداری ٹرمینل (جی سی ٹی) پالیسی کے ذریعے جدید ریل مال برداری ٹرمینلوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ریلوے کی ملکیت والے مال گوداموں کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت اور جدید سہولتوں سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔
نجی سرمایہ کاری کے ذریعے مال برداری ٹرمینل قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کے لیے گتی شکتی کثیر جہتی مال برداری ٹرمینل (جی سی ٹی) پالیسی نافذ کی گئی ہے۔ ان ٹرمینلوں کے مقامات کا تعین صنعت کی مانگ، مال برداری کی صلاحیت، دستیاب ریلوے بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ علاقے کی مجموعی رسدی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
اب تک 142 گتی شکتی مال برداری ٹرمینل (جی سی ٹی) قائم کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی متوقع مال برداری صلاحیت 224 ملین ٹن سالانہ ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے ان ٹرمینلوں میں تقریباً 10 ہزار کروڑ روپے کی نجی سرمایہ کاری حاصل ہوئی ہے۔ مالی سال 26-2025 کے دوران ان ٹرمینلوں کے ذریعے 146 ملین ٹن سامان کی نقل و حمل کی گئی۔
(ii) ویگن سرمایہ کاری کی اسکیمیں:ہندوستانی ریلوے نے نجی شعبے کی جانب سے ویگنوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اسکیمیں نافذ کی ہیں، جن میں مخصوص اشیا کے لیے خصوصی ویگن، مثلاً سیمنٹ، تیل، فولاد اور فلائی ایش کی نقل و حمل کے لیے تیار کیے گئے ویگن شامل ہیں۔
اب تک تقریباً 275 ریک خصوصی مقصد کے ویگنوں اور 397 ریک عمومی استعمال کے ویگنوں پر مشتمل خدمات فعال ہو چکی ہیں۔ ان سے سیمنٹ، فلائی ایش، فولادی مصنوعات، لوہے کی کانوں سے حاصل شدہ معدنیات اور کوئلے جیسی بڑی مقدار میں منتقل ہونے والی اشیا کی ریلوے کے ذریعے نقل و حمل میں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی نقل و حمل کے لیے ایک علیحدہ اسکیم بھی نافذ ہے، جس کے تحت صنعت کی ملکیت والے تقریباً 54 ریک خدمات انجام دے رہے ہیں۔
(iii) مشترکہ پارسل مصنوعات – تیز رفتار مال برداری خدمت (جے پی پی – آر سی ایس) اسکیم:یہ اسکیم صارفین کی مخصوص ضروریات کے مطابق رسدی خدمات فراہم کرتی ہے اور گھر سے گھر تک پارسل پہنچانے کی سہولت مہیا کرتی ہے۔ اس کے تحت ورچوئل ایگریگیشن پلیٹ فارم (وی اے پی) کے ذریعے، انڈیا پوسٹ کے علاوہ مجاز ایگریگیٹرز کے ذریعے بھی پارسل کی جگہ کی آن لائن بکنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
(iv) کونکور:وزارتِ ریلوے کے تحت سرکاری شعبے کا ادارہ کونکور بھی جے پی پی – آر سی ایس اسکیم کے ذریعے دہلی–کولکاتا اور ممبئی–کولکاتا راستوں پر گھر سے گھر تک پارسل خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ سونِک مال گودام میں ایک آزمائشی منصوبے کے تحت بھی گھر سے گھر تک رسدی خدمات مہیا کی جا رہی ہیں۔
بجٹ میں مختص رقم اور ریلوے نیٹ ورک کی توسیع:گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ہندوستانی ریلوے نے اپنے نیٹ ورک کی گنجائش میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا ہے۔ اس مدت میں نئے ریلوے ٹریک بچھانے اور انہیں کمیشن کرنے کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
مدت
|
شروع کیا گیا نیا ٹریک
|
نئے ٹریکس کی اوسط کمیشننگ
|
|
2009-14
|
7,599 کلومیٹر
|
4.2 کلومیٹر یومیہ
|
|
2014-26
|
36,429 کلومیٹر
|
8.32 کلومیٹر یومیہ (تقریباً 2 بار)
|
یکم اپریل 2026 تک ہندوستانی ریلوے میں مجموعی طور پر 514 ریلوے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 169 نئی ریلوے لائنیں، 29 گیج تبدیلی کے منصوبے اور 316 دوہری لائن (ڈبلنگ) کے منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی لمبائی 40 ہزار کلومیٹر ہے، جبکہ ان پر تقریباً 8.31 لاکھ کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ ان منصوبوں کا خلاصہ درج ذیل ہے:
|
زمرہ
|
منصوبوں کی تعداد
|
کل لمبائی
این ایل/ جی سی/ ڈی ایل(کلومیٹر)
|
مارچ 26 تک کمیشن کی گئی لمبائی
(کلومیٹر)
|
مارچ26 تک کل خرچ
(کروڑ روپے میں)
|
|
نئی لائنیں
|
169
|
16,634
|
3,361
|
1,57,572
|
|
گیج کی تبدیلی
|
29
|
3,987
|
3,045
|
24,227
|
|
دوگنا کرنا (ڈبلنگ)
|
316
|
19,379
|
6,177
|
1,23,454
|
|
کل
|
514
|
40,000
|
12,583
|
3,05,253
|
وقف(مخصوص) مال برداری راہداری (ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور – ڈی ایف سی):وزارتِ ریلوے نے دو وقف مال برداری راہداریوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا تھا، جن میں مشرقی وقف مال برداری راہداری (ای ڈی ایف سی) لدھیانہ سے سون نگر تک 1,337 کلومیٹر اور مغربی وقف مال برداری راہداری (ڈبلیو ڈی ایف سی) دادری سے جواہر لال نہرو پورٹ ٹرمینل (جے این پی ٹی) تک 1,506 کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ اب دونوں راہداریاں، یعنی مشرقی ڈی ایف سی (1,337 کلومیٹر) اور مغربی ڈی ایف سی (1,506 کلومیٹر) مکمل طور پر فعال ہو چکی ہیں۔
ڈی ایف سی پر اوسطاً روزانہ تقریباً 443 مال گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔ ان راہداریوں نے عملی کارکردگی کے لحاظ سے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ مال برداری کے حجم میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، اوسط رفتار بہتر ہوئی ہے، ریک کی آمد و رفت کا دورانیہ کم ہوا ہے اور خدمات کی بھروسہ مندی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ مشرقی اور مغربی وقف مال برداری راہداریوں پر مال برداری کی منتقلی کے باعث روایتی ریلوے نیٹ ورک پر اضافی گنجائش پیدا ہوئی ہے، جس سے ہندوستانی ریلوے اپنے نیٹ ورک پر مزید مال گاڑیاں اور مسافر ٹرینیں چلانے کے قابل ہوئی ہے۔
وقف(مخصوص) مال برداری راہداری منصوبے سے نقل و حمل اور رسد کے شعبے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، کیونکہ اس کے ذریعے دو منزلہ کنٹینر ٹرینوں کی زیادہ تعداد میں آمد و رفت، زیادہ محوری بوجھ (ایکسل لوڈ) والی ٹرینوں کی نقل و حرکت، مغربی بندرگاہوں سے شمالی اندرونی علاقوں تک تیز تر رسائی اور راہداری کے ساتھ واقع صنعتوں کے لیے نئے ٹرمینلوں اور رابطہ سہولتوں کی ترقی ممکن ہوگی۔
مرکز کے عام بجٹ 2026 میں مشرق میں دنکونی سے مغرب میں سورت تک ایک نئی وقف(مخصوص) مال برداری راہداری قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ اس راہداری کے لیے تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) کی تیاری اور تازہ کاری کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
ان تمام اقدامات کی بدولت گزشتہ چند برسوں کے دوران مال برداری کے حجم اور ریلوے کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ سال 2014 سے اب تک مال برداری کے اعداد و شمار درج ذیل ہیں:
|
سال
|
فریٹ لوڈنگ (ملین ٹن میں)
|
|
2014-15
|
1098
|
|
2015-16
|
1104
|
|
2016-17
|
1109
|
|
2017-18
|
1162
|
|
2018-19
|
1223
|
|
20-2019
|
1210
|
|
21-2020
|
1233
|
|
22-2021
|
1418
|
|
2022-23
|
1512
|
|
2023-24
|
1591
|
|
2024-25
|
1617
|
|
2025-26
|
1670
|
ہندوستانی ریلوے کی مال برداری مالی سال 26-2025 میں بڑھ کر 1,670 ملین ٹن تک پہنچ گئی، جس کے ساتھ ہی ہندوستانی ریلوے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مال بردار ریلوے نظام بن گیا ہے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں ریلوے، اطلاعات و نشریات، اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے فراہم کیں۔
********
ش ح۔ م م ۔ ش ب ن
U-NO-1560
(ریلیز آئی ڈی: 2296070)
وزیٹر کاؤنٹر : 39