ریلوے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گزشتہ تین برسوں کے دوران خوراک کے معیار اور صفائی کے ضوابط کی خلاف ورزی پر ہندوستانی ریلوے نے 5.13 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا، 54 وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے، 6 معاہدے منسوخ کیے اور خلاف ورزی کرنے والے لائسنس یافتہ اداروں کو بلیک لسٹ کر دیا


جدید بنیادی باورچی خانوں(ماڈرن بیس کیچنس)، پیکنگ پر کیو آر کوڈ، بنیادی باورچی خانوں میں سی سی ٹی وی کیمروں، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے ضوابط کی پابندی اور کثیر سطحی معائنہ نظام کے ذریعے ہندوستانی ریلوے نے خوراک کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

प्रविष्टि तिथि: 07 AUG 2026 3:06PM by PIB Delhi

ہندوستانی ریلوے ہر سال اوسطاً 58 کروڑ کھانے مسافروں کو فراہم کرتی ہے۔ ان میں خوراک کے معیار سے متعلق شکایات کی اوسط شرح صرف 0.0008 فیصد ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر انڈین ریلوے کیٹرنگ اینڈ ٹورزم کارپوریشن (آئی آر سی ٹی سی) نے مناسب تادیبی کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں 5.13 کروڑ روپے کے جرمانے، 54 وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا جانا ، 6 معاہدوں کی منسوخی اور خوراک کے معیار و صفائی کے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے لائسنس یافتہ اداروں کو بلیک لسٹ کرنا شامل ہے۔ بلیک لسٹ کیے گئے لائسنس یافتہ اداروں کی فہرست آئی آر سی ٹی سی کی ویب سائٹ پر بھی شائع کی جاتی ہے۔

خوراک کے معیار، صفائی، حفاظت اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ریلوے اور آئی آر سی ٹی سی کے افسران، جن میں فوڈ سیفٹی افسران بھی شامل ہیں، باقاعدہ اور اچانک معائنے کرتے ہیں۔ ان معائنوں کے دوران خوراک کی حفاظت، عملے کی تعیناتی، آلات کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی اور مقررہ معیار پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے، جبکہ خوراک کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور پیش کرنے کے بہترین طریقوں کو بھی فروغ دیا جاتا ہے۔

ہندوستانی ریلوے مقررہ ضابطوں کے مطابق مسافروں کو معیاری اور صاف ستھرا کھانا فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ اسی مقصد کے تحت وقتاً فوقتاً ضروری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ خوراک کے معیار، صفائی اور غذائی تحفظ کو مزید بہتر بنانے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے ہیں:

  • کھانے کی فراہمی نامزد بنیادی باورچی خانوں (ماڈرن بیس کیچنس)سے کی جاتی ہے۔
  • منتخب مقامات پر جدید بنیادی باورچی(ماڈرن بیس کیچنس) خانے قائم کیے گئے ہیں۔
  • کھانے کی تیاری کی فوری اور مؤثر نگرانی کے لیے بنیادی باورچی خانوں (ماڈرن بیس کیچنس)میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔
  • کھانا تیار کرنے کے لیے معیاری، معروف اور برانڈڈ خام اشیا کا انتخاب اور استعمال کیا جاتا ہے۔
  • خوراک کی حفاظت اور صفائی کے اصولوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے بنیادی باورچی خانوں(ماڈرن بیس کیچنس) میں فوڈ سیفٹی سپروائزرز تعینات کیے گئے ہیں۔
  • ٹرینوں میں آئی آر سی ٹی سی کے سپروائزرز بھی تعینات کیے جاتے ہیں۔
  • خوراک کی حفاظت، شفافیت اور مسافروں کی آگاہی بڑھانے کے لیے ٹرینوں میں فراہم کیے جانے والے کھانے کے پیکٹوں پر کیو آر کوڈ متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے مسافر پیکنگ کی تاریخ، لائسنس یافتہ ادارے کا نام اور ایف ایس ایس اے آئی لائسنس نمبر جیسی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
  • بنیادی باورچی خانوں(ماڈرن بیس کیچنس) اور پینٹری کاروں میں باقاعدگی سے گہری صفائی اور وقفے وقفے سے کیڑوں کے خاتمے (پیسٹ کنٹرول) کا انتظام کیا جاتا ہے۔
  • خوراک کی حفاظت کے مقررہ معیار پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کا تصدیقی سند (سرٹیفکیشن) لازمی قرار دیا گیا ہے۔
  • نگرانی کے نظام کے تحت ٹرینوں میں فراہم کیے جانے والے کھانے کے نمونوں کی باقاعدہ جانچ کی جاتی ہے تاکہ معیار برقرار رہے۔
  • آئی آر سی ٹی سی کی جانب سے کیٹرنگ عملے کو باقاعدگی سے تربیت دی جاتی ہے، جس میں مؤثر ابلاغ، خوش اخلاقی، معیاری خدمات، ذاتی صفائی اور بہترین اندازِ پیشکش جیسے امور پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
  • پینٹری کاروں اور بنیادی باورچی خانوں(ماڈرن بیس کیچنس) میں صفائی اور خوراک کے معیار کا جائزہ لینے کے لیے آزاد اداروں سے معائنہ (تھرڈ پارٹی آڈٹ) کرایا جاتا ہے، جبکہ مسافروں کے اطمینان کا باقاعدہ سروے بھی کیا جاتا ہے۔

خوراک کے معیار، صفائی، حفاظت اور ضابطہ جاتی تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے ریلوے اور آئی آر سی ٹی سی کے افسران، جن میں فوڈ سیفٹی افسران بھی شامل ہیں، باقاعدہ اور اچانک معائنے کرتے ہیں۔

یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر جناب اشونی ویشنو نے فراہم کیں۔

********

ش ح۔   م م۔ ش ب ن

U-NO-1561


(रिलीज़ आईडी: 2296061) आगंतुक पटल : 14
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Gujarati , Tamil , Telugu , Kannada