خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے راجیہ سبھا کو گگن یان مشن اور ہندوستان کے انسانی خلائی دریافت کے روڈ میپ کی پیش رفت سے آگاہ کیا

ہندوستان کا پہلا انسان بردار خلائی مشن گگن یان حقیقت بننے کے قریب ترہے کیونکہ ہیومن ریٹنگ کا اہم سنگ میل حاصل ہوچکا ہے:  ڈاکٹر جتیندر سنگھ

‘‘ویوم متر کو لے جانے والے پہلے بغیر پائلٹ والے گگن یان مشن کو 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں روانہ کرنے کے لیےہدف بند کیا گیاہے ؛ بھارتیہ انترکش اسٹیشن 2035 کے ٹریک پر ہے’’

प्रविष्टि तिथि: 06 AUG 2026 5:00PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم، وزیراعظم کے دفتر، عملے، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا کو بتایا کہ ہندوستان کے پہلے انسانی خلائی مشن ‘‘گگن یان’’ نے انسانی پرواز کے لیے درکار اہم نظاموں کی تیاری اور توثیق میں نمایاں سنگ میل عبور کر لیے ہیں، جس سے ملک کے پہلے مکمل طور پر مقامی انسانی خلائی مشن کی جانب مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔

راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ انسانی پرواز کے لیے موزوں لانچ وہیکل (ایچ ایل وی ایم-3) کے تمام مراحل اور ڈھانچوں کی تیاری اور زمینی تجربے مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عملے کے کیپسول اور خدماتی کیپسول کے پروپلزن نظام تیار، آزمودہ اور منظور شدہ ہیں، جبکہ ماحولیاتی کنٹرول اور لائف سپورٹ سسٹم (ای سی ایل ایس ایس) کے انجینئرنگ ماڈل، حرارتی تحفظ کے نظام، رفتار میں کمی کا نظام، کریو ماڈیول آپراٹنگ سسٹم اور مکمل برقی و الیکٹرانک نظام بھی کامیابی سے تیار اور آزمائے جا چکے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ خلانوردوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے سلسلے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ عملے کے ہنگامی اخراج کے نظام (سی ای ایس) کے لیے درکار پانچوں اقسام کے راکٹ موٹرز تیار کیے جا چکے ہیں اور ان کے تجربے کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ اس سے متعلق تمام ساختی پرزے بھی تیار اور منظور کیے جا چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ مشنوں کی تیاری کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ بھی قائم کر دیا گیا ہے، جس میں آربٹ کیپسول کی تیاری کی سہولت، گگن یان کنٹرول مرکز، خلانوردوں کی تربیتی سہولت اور دوسرے لانچ پیڈ میں ضروری تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہ تمام سہولیات آئندہ خلائی مشنوں کی سرگرمیوں میں معاون ثابت ہوں گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ عملے کے ہنگامی اخراج کے نظام کی دوران پرواز توثیق کے لیے انجام دیا گیا ٹیسٹ وہیکل مشن (ٹی وی-ڈی 1) کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ، سیمیولیٹڈ کریو ماڈیول  کا استعمال کرکےانٹیگریٹڈ ایئر ڈراپ ٹیسٹ-01 اور انٹیگریٹڈ ایئر ڈراپ ٹیسٹ-02 بھی کامیابی سے انجام دیے گئے، جن کے ذریعے رفتار میں کمی کے نظام کی توثیق کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے ٹیسٹ وہیکل مشن (ٹی وی-ڈی 2) کی تیاریاں جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ زمینی مواصلاتی نیٹ ورک کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، آئی ڈی آر ایس ایس-1 کے سرفش اسٹیشن اور زمینی مواصلاتی روابط قائم کر دیے گئے ہیں، عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے ضروری وسائل کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور بازیابی کا جامع منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نئے تیار کردہ مختلف نظاموں کی زمینی معیار بندی کے تجربے بھی بیک وقت جاری ہیں۔

مشن کے آئندہ لائحۂ عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ویوم متر نامی نیم انسانی روبوٹ کے ساتھ گگن یان کے پہلے بغیر انسانی پائلٹ تجرباتی مشن کا ہدف 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں مقرر کیا گیا ہے۔ اس مشن کے ذریعے پروگرام کے تحت پہلی بار تیار کی جانے والی مختلف ٹیکنالوجیوں کی جانچ اور توثیق کی جائے گی۔ اس کے بعد 2027 تک پہلے انسانی خلائی مشن کی ترتیب کے مطابق مزید دو بغیر انسان بردار مشن روانہ کیے جائیں گے، جن کے بعد ہندوستان کا پہلا انسانی خلائی مشن انجام دیا جائے گا۔

انسانی خلائی تحقیق کے لیے حکومت کے طویل مدتی وژن کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارتیہ انترکش اسٹیشن (بی اے ایس) کو 2035 تک فعال بنانے کا منصوبہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہندوستان خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) نے پانچ حصوں پر مشتمل خلائی اسٹیشن کا مجموعی خاکہ تیار کر لیا ہے، جبکہ حکومت نے اس کے پہلے حصے بی اے ایس-01 کی تیاری اور آغاز کی منظوری بھی دے دی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس حصے سے متعلق مجموعی ساختیاتی انجینئرنگ اور ضروری ٹیکنالوجی کی تیاری کا کام اسرو کے مختلف مراکز اور اکائیوں میں تیزی سے جاری ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مزید بتایا کہ ستمبر 2024 میں مرکزی کابینہ نے ہندوستان کے انسان بردار خلائی پروگرام کے تحت آٹھ مشنوں پر عمل درآمد کے لیے20 ہزار 193 کروڑ روپے کے بجٹ کو منظوری دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرو نے دنیا کی سرکردہ خلائی ایجنسیوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں تال میل قائم کیا ہے۔ ان میں یورپی خلائی ایجنسی (ای ایس اے) کے ساتھ نیٹ ورک آپریشن میں معاونت، آسٹریلیائی خلائی ایجنسی (اے ایس اے) کے ساتھ خلانوردوں اور عملہ کے ماڈیول کی بازیابی، فرانس کی خلائی ایجنسی (سی این ای ایس) کے ساتھ فلائٹ  سرجن اور زمینی معاون عملے کی خصوصی تربیت اور روس کی خلائی ایجنسی (روسکوسموس) کے ساتھ خلانوردوں کی تربیت اور انسانی خلائی پرواز کے لیے ضروری اہم نظاموں کی فراہمی کے شعبوں میں تعاون شامل ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گگن یان مشن کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت اور بھارتیہ انترکش اسٹیشن کے لیے وضع کیے گئے لائحۂ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ہندوستان کی مقامی انسانی خلائی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے خلائی تحقیقاتی پروگرام کے لیے جدید تکنیکی بنیادیں استوار کرنے کے اپنے عزم پر مسلسل عمل پیرا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001E3VU.png

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002YTNZ.png

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003H9U5.png

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004N79O.png

 

*********

 

 

 

 ش ح۔م ش ع۔ش ت

Urdu No-1542


(रिलीज़ आईडी: 2295863) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Telugu