بھاری صنعتوں کی وزارت
عالمی سطح پر صاف توانائی کی جانب منتقلی میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے ہندوستان کو مضبوط اور پائیدار سپلائی چین قائم کرنے ہوں گے: ایچ ڈی کمارسوامی
گرین اسٹیل، ہندوستان کے توانائی کے تحفظ کے وژن کی جدید مینوفیکچرنگ کلید: ایچ ڈی کمارسوامی
آج توانائی کے تحفظ کی تعریف مینوفیکچرنگ کی صلاحیت سے ہوتی ہے، نہ کہ صرف وسائل سے: ایچ ڈی کمارسوامی
ہندوستان کو ماحولیات کے لیے موزوں توانائی کے ٹیکنالوجی کے پیداوار میں عالمی حیثیت حاصل کرنی چاہیے: سی آئی آئی انرجی کانفرنس میں ایچ ڈی کمارسوامی
ہندوستان کے ماحولیات کے لے موزوں توانائی کے مستقبل کے فروغ کے لیے اسٹیل، سپلائی چینز اور خود انحصاری ناگزیر ہے: ایچ ڈی کمارسوامی
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2026 3:07PM by PIB Delhi
اسٹیل اور بھاری صنعتوں کے مرکزی وزیر بناب ایچ ڈی کمارسوامی نے جمعرات کو کہا کہ توانائی کے تحفظ کا تصور بنیادی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں کسی بھی ملک کی طاقت کا انحصار صرف توانائی کے وسائل تک رسائی پر نہیں رہا، بلکہ اس بات پر ہے کہ وہ مستقبل کی توانائی فراہم کرنے والی ٹیکنالوجیز کی تیاری، اختراع اور ان کے لیے مضبوط و پائیدار رسدی سلسلے (سپلائی چین) قائم کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔

نئی دہلی میں کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کی جانب سے منعقدہ ساتویں بین الاقوامی توانائی کانفرنس و نمائش کے دوران ‘‘توانائی کا تحفظ اور سپلائی چین ’’ کے موضوع پر خصوصی مکمل اجلاس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائےاسٹیل اور بھاری صنعتیں جناب ایچ ڈی کمارسوامی نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ماحولیات کے لیے موزوں توانائی کی ٹیکنالوجیز کی تیاری کے عالمی مرکز کے طور پر ہندوستان کو ابھارنے کی حکمتِ عملی پیش کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی صلاحیت اور توانائی کا تحفظ اب ایک دوسرے سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔
وزیر نے کہاکہ ‘‘آج وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں ہندوستان کے لیے توانائی کے تحفظ کا مفہوم صرف توانائی کے وسائل تک رسائی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم مستقبل کی توانائی فراہم کرنے والی ٹیکنالوجیز کی تیاری، اختراع اور ان کے لیے مضبوط اور پائیدار رسدی سلسلے قائم کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں۔’’
انہوں نے کہا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں، سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور اہم معدنی وسائل کے حصول کے لیے بڑھتے ہوئے عالمی مقابلے نے دنیا بھر کی صنعتی ترجیحات کو نئی شکل دے دی ہے۔ اس کے نتیجے میں مضبوط صنعتی پیداواری نظام اور جدید تکنیکی صلاحیت کسی بھی ملک کی اقتصادی سلامتی کے بنیادی ستون بن گئے ہیں۔
جناب کمارسوامی نے کہا کہ ہندوستان ان عالمی تبدیلیوں کا جواب آتم نربھر بھارت کے وژن کے ذریعے دے رہا ہے، جس کے تحت ملک عالمی معیار کی مقامی پیداواری صلاحیتیں فروغ دے رہا ہے، جبکہ قابلِ اعتماد بین الاقوامی قدراتی سلسلوں (ویلیو چینز) کے ساتھ اپنی مضبوط شراکت بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

وزیر موصوف نے کہاکہ ‘‘ہندوستان کو صرف صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز کا دنیا کے سب سے بڑے صارفین میں شامل ہونے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ایسے آلات، مواد اور جدید ٹیکنالوجیز کا دنیا کے صفِ اول کا پیداواری ملک بننا ہوگا، جو عالمی سطح پر صاف توانائی کی جانب منتقلی کی رفتار کو آگے بڑھائیں۔’’
اس تبدیلی میں اسٹیل اور بھاری صنعتوں کی وزارتِ کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے توانائی سے متعلق بلند عزائم اسی وقت حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں جب اسٹیل، بھاری انجینئرنگ، بیٹریوں، برقی ترسیلی آلات (ٹرانسفارمرز)، بجلی کے سازوسامان، برقی نقل و حمل، تعمیراتی مشینری اور جدید صنعتی ٹیکنالوجیز پر مشتمل ایک مضبوط پیداواری ماحولیاتی نظام قائم ہو۔
جناب کمارسوامی نے اسٹیل کو صاف توانائی کی جانب منتقلی کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی ہر بڑی سرمایہ کاری، خواہ وہ شمسی توانائی کے پارک ہوں، ہوائی بجلی کے ٹربائن، بجلی کی ترسیلی لائنوں کے جال، بیٹری سازی کے کارخانے، بندرگاہیں یا سبز ہائیڈروجن کے منصوبے، سب کی بنیاد فولاد پر استوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے دوسرے سب سے بڑے اسٹیل پیدا کرنے والے ملک کی حیثیت سے ہندوستان نہ صرف اپنے تیزی سے بڑھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی ضروریات کو پورا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ماحول دوست فولاد کی عالمی طلب میں اضافے کو پورا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیرموصوف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہندوستان 2030 تک اسٹیل سازی کی سالانہ صلاحیت 30 کروڑ ٹن تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ ترقی ماحول دوست اور پائیدار پیداواری طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے حاصل کی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ‘‘فولاد عالمی سطح پر صاف توانائی کی جانب منتقلی کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ مستقبل میں اسٹیل کے شعبے کی کامیابی کا انحصار صرف پیداواری صلاحیت پر نہیں ہوگا، بلکہ پائیداری، عالمی مسابقت اور تکنیکی ترقی اس کے اصل پیمانے ہوں گے۔’’
ماحولیات کے لیے موزوں اسٹیل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے جناب کمارسوامی نے کہا کہ کم کاربن اخراج کے ساتھ اسٹیل کی پیداوار کی جانب منتقلی اب صرف ماحولیاتی ضرورت ہی نہیں بلکہ ایک اہم معاشی تقاضا بھی بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اسٹیل سازی کے شعبے میں قابلِ تجدید توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال، توانائی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجیز کو اپنانے، وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے اور اسٹیل کی پوری قدراتی زنجیر میں کاربن کے اخراج میں تیزی سے کمی لانے کے اقدامات کو فروغ دے رہی ہے، تاکہ بھارتی اسٹیل عالمی سطح پر اپنی مسابقت برقرار رکھ سکے۔
بھاری صنعتوں کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ہندوستان کی صاف توانائی کی جانب پیش رفت صرف قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار میں اضافے سے ممکن نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے مضبوط صنعتی بنیاد اور جدید پیداواری صلاحیتوں کا فروغ بھی ناگزیر ہے۔

جناب کمارسوامی کے مطابق، ہندوستان کو توانائی کی تبدیلی کے اس سفر کے ساتھ ساتھ پوری صنعتی ماحولیاتی نظام میں مقامی پیداواری صلاحیت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا، جس میں جدید بیٹریاں، بھاری برقی آلات، تعمیراتی مشینری، موٹر گاڑیوں کی تیاری اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت جدید تعمیراتی مشینری کی مقامی تیاری کو فروغ دینے اور مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے ملک کی صنعتی صلاحیت کو مستحکم بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
ہندوستان میں تیزی سے فروغ پاتے برقی نقل و حمل کے نظام کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ پی ایم ای-ڈرائیو اسکیم، جس کے لیے 10,900 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اس بات کی عکاس ہے کہ حکومت صرف الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی تک محدود نہیں، بلکہ ایک مکمل صنعتی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے لیے جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعے ایک جانب الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، تو دوسری جانب مقامی پیداواری صلاحیت، اندرونِ ملک تیاری کے تناسب (لوکلائزیشن) اور رسدی سلسلوں کی مضبوطی کو بھی فروغ مل رہا ہے۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ جدید کیمیائی خلیاتی بیٹریوں کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم (پی ایل آئی) کے تحت حکومت نے 18,100 کروڑ روپے مختص کیے ہیں، تاکہ ملک میں 50 گیگا واٹ فی گھنٹہ بیٹری سازی کی مقامی پیداواری صلاحیت قائم کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ہندوستان کے طویل مدتی توانائی کے تحفظ کی مضبوط بنیاد رکھ رہی ہے، کیونکہ اس سے درآمد شدہ بیٹری ٹیکنالوجی پر انحصار کم ہوگا اور ملک میں عالمی معیار کی مسابقتی پیداواری صلاحیتیں فروغ پائیں گی۔
اہم معدنی وسائل تک رسائی کو موجودہ دور کی ایک اسٹریٹجک ضرورت قرار دیتے ہوئے جناب کمارسوامی نے کہا کہ ہندوستان ایک جانب اپنی مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب نایاب ارضی عناصر، جدید مواد اور معدنیات کی پراسیسنگ جیسے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو بھی وسعت دے رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کی 7,280 کروڑ روپے کی سنٹرڈ نایاب ارضی مستقل مقناطیسوں کی تیاری کے فروغ کی اسکیم کا بھی ذکر کیا اور اسے درآمدات پر انحصار کم کرنے اور موٹر گاڑیوں، دفاع، قابلِ تجدید توانائی اور ہوابازی جیسے اہم شعبوں کے لیے ضروری رسدی سلسلوں کو محفوظ بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیر موصوف نے حکومت، صنعت، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں اور مالیاتی تنظیموں کے درمیان مزید گہرے تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط اور پائیدار رسدی سلسلے صرف سرکاری پالیسیوں کے ذریعے قائم نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہاکہ ‘‘ہمارا مقصد ایسا مکمل مقامی پیداواری ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے جو نہ صرف قدر میں اضافہ کرے بلکہ روزگار کے وسیع مواقع بھی پیدا کرے۔ اکیسویں صدی میں مضبوط اور پائیدار سپلائی چین کا یہی حقیقی تصور ہے۔’’
صنعتی اداروں سے ہندوستان کی صنعتی تبدیلی کے سفر میں بھرپور شراکت کی اپیل کرتے ہوئے جناب کمارسوامی نے اعتماد ظاہر کیا کہ اس کانفرنس میں ہونے والے تبادلۂ خیال سے بامعنی شراکت داریاں قائم ہوں گی، جو ہندوستان کے پیداواری ماحولیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے اور صاف توانائی سے متعلق قومی اہداف کو تیز رفتاری سے حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیرموصوف نے کہا،کہ ‘‘میں صنعتی اداروں اور تمام متعلقہ فریقوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر بھارت کو آتم نربھر بنانے اور 2047 تک ‘وکست بھارت’کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔’’
*****
ش ح۔ ع و –ت ع
U.No. 1483
(रिलीज़ आईडी: 2295504)
आगंतुक पटल : 7