وزارتِ تعلیم
azadi ka amrit mahotsav

مصنوعی ذہانت کے ممتاز مراکز

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 5:53PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے "ہندوستان میں مصنوعی ذہانت تیار کریں اور مصنوعی ذہانت کو ہندوستان کے لیے کارآمد بنائیں" کے وژن کے تحت مرکزی بجٹ 24-2023 کے اعلان کے مطابق زراعت، پائیدار شہر اور صحت کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے تین ممتاز مراکز قائم کیے ہیں۔ ان مراکز کی قیادت بالترتیب آئی آئی ٹی روپر، آئی آئی ٹی کانپور اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کر رہے ہیں۔ ان تینوں مراکز کے لیے مجموعی طور پر 990 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس وژن کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی بجٹ 26-2025 میں تعلیم کے لیے مصنوعی ذہانت کے مرکزِ امتیاز کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس کے لیے 500 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ مرکز آئی آئی ٹی مدراس میں قائم کیا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ممتاز مراکز کے لیے جاری مالی معاونت کے تحت 2023-24 اور 2024-25 کے دوران اداروں کے مسابقتی انتخاب کے ابتدائی مرحلے میں مختلف اداروں کے کنسورشیم کو 27 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ اس کے بعد 2025-26 اور 2026-27 کے دوران اب تک آئی آئی ٹی کانپور کو 74.39 کروڑ روپے، آئی آئی ٹی روپر کو 62.64 کروڑ روپے، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کو 69.07 کروڑ روپے اور آئی آئی ٹی مدراس کو 43 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔

چاروں ممتاز مراکز نے تعلیمی اداروں، صنعتوں اور سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے تحقیق کی ہے اور تعلیم، صحت، زراعت اور پائیدار شہروں سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی مختلف ماڈلز تیار کیے ہیں۔

تعلیم کے لیے قائم مرکزِ امتیاز نے ہندوستانی زبانوں کی معاونت کے لیے خودکار تقریر کی شناخت، آپٹیکل کریکٹر ریکگنیشن، مشین ترجمہ اور متن سے آواز کے ماڈلز تیار کیے ہیں۔ زراعت کے مرکزِ امتیاز نے فصلوں، کیڑوں اور بیماریوں کی شناخت کے لیے ماڈلز تیار کیے ہیں، جبکہ پائیدار شہروں کے مرکزِ امتیاز نے فضائی آلودگی کے اسباب کی نشاندہی اور شہری سیلاب کی پیش گوئی کے لیے ماڈلز تیار کیے ہیں۔

ان ممتاز مراکز کی پیش رفت کی نگرانی کثیر سطحی انتظامی اور مالیاتی نظام کے ذریعے کی جاتی ہے، جس میں صنعت کے سرکردہ ماہرین اور سینئر منتظمین پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی کی نگرانی بھی شامل ہے۔ ہر مرکزِ امتیاز نے انفرادی منصوبوں کی پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے ایک آزاد پروجیکٹ نگرانی اور جائزہ کمیٹی بھی قائم کی ہے۔ اس کے علاوہ مرکزی پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ وقتاً فوقتاً بیرونی ماہرین کے ذریعے جائزہ اجلاس منعقد کرتا ہے، جن میں منظور شدہ اہداف کے مطابق ٹیکنالوجی کی ترقی اور مالی وسائل کے استعمال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم ڈاکٹر سکانت مجمدار نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  1435)


(रिलीज़ आईडी: 2295171) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Marathi , हिन्दी , Tamil