کامرس اور صنعت کی وزارتہ
حکومت نے فارن ٹریڈ پالیسی 2023 کے تحت ذخیرہ (انوینٹری) پر مبنی سرحد پار ای۔کامرس برآمدی فریم ورک کو نوٹیفائی کر دیاہے
مذکورہ فریم ورک محض برآمدات کے لیےرجسٹرڈ ایکسپورٹرز آن ریکارڈ کے ذریعے انوینٹری پر مبنی کارروائیوں کی اجازت دیتا ہے
اس فریم ورک میں شفافیت، سراغ رسانی اور مؤثر ضابطہ جاتی نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط حفاظتی انتظامات شامل کیے گئے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 2:36PM by PIB Delhi
بھارتی حکومت نے 5 اگست 2026 کے نوٹیفکیشن نمبر 27/27-2026 اور اسی تاریخ کے عوامی نوٹس نمبر 25/27-2026 کے ذریعے فارن ٹریڈ پالیسی (ایف ٹی پی)، 2023 کے تحت انوینٹری پر مبنی سرحد پار ای-کامرس برآمدی فریم ورک کو نافذ کر دیا ہے۔ یہ فریم ورک بھارت میں تیار یا پیدا کی جانے والی اشیا کی انوینٹری پر مبنی سرحد پار ای-کامرس برآمدات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک جامع پالیسی اور طریقۂ کار پر مبنی ڈھانچہ مہیا کرتا ہے۔
سرحد پار ای-کامرس میں تیزی سے ہونے والی ترقی بھارتی صنعت کاروں، دستکاروں اور چھوٹی،بہت چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ایز) کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی پالیسی میں پریس نوٹ نمبر 3 (2026 سیریز) کے ذریعے کی گئی ترمیم کے بعد ، جس کے تحت صرف برآمدات کے لیے انوینٹری پر مبنی ای-کامرس سرگرمیوں کی اجازت دی گئی،حکومت نے اب فارن ٹریڈ پالیسی کے تحت اس سے متعلق ضابطہ جاتی فریم ورک کو بھی نافذ کر دیا ہے۔ یہ فریم ورک بھارتی فروخت کنندگان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے اس نوعیت کی برآمدات کو ممکن بناتا ہے۔
مذکورہ فریم ورک کے تحت اہل ای-کامرس ادارے رجسٹرڈ ایکسپورٹر آن ریکارڈ (ای او آر) کے ذریعے صرف برآمدات کے لیے انوینٹری پر مبنی سرگرمیاں انجام دے سکیں گے۔ ایکسپورٹر آن ریکارڈ (ای او آر) بھارتی سیلرز آن ریکارڈ (ایس او آرز) سے بیرونِ ملک کے تصدیق شدہ آرڈرز کے خلاف اشیا خریدتا ہے، اپنے نام سے برآمدات انجام دیتا ہے اور برآمدی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ درآمد کنندہ ملک کے ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل کی ذمہ داری بھی سنبھالتا ہے۔
رجسٹرڈ ایکسپورٹر آن ریکارڈ (ای او آر) کے ذریعے بھارتی فروخت کنندگان بیرونِ ملک منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جبکہ برآمدی دستاویزات، کسٹم کارروائیاں، درآمد کنندہ ملک کے ضابطوں کی تعمیل، مصنوعات کی جانچ اور تصدیق، پیکیجنگ، لیبلنگ، آرڈر کی تکمیل، لاجسٹکس اور ریورس لاجسٹکس کی ذمہ داری ای او آر کے سپرد ہوگی۔ یہ فریم ورک فروخت کنندگان کو بروقت ادائیگی، بیرونِ ملک فروخت میں شفافیت اور برآمدی ضابطوں کی واضح جواب دہی کو بھی یقینی بناتا ہے، جس سے ضابطہ جاتی اخراجات میں کمی آئے گی اور بھارتی ادارے اپنی توجہ پیداوار، اختراع اور عالمی منڈیوں میں توسیع پر مرکوز کر سکیں گے۔
فریم ورک میں متعدد حفاظتی انتظامات شامل کیے گئے ہیں تاکہ ای-کامرس برآمدات کے فوائد بھارتی صنعت کاروں اور ایم ایس ایم ایز تک پہنچ سکیں اور ساتھ ہی ضابطہ جاتی نگرانی بھی برقرار رہے۔ برآمدی انوینٹری صرف تصدیق شدہ برآمدی آرڈرز کے خلاف ہی حاصل کی جا سکے گی اور برآمدات کی غرض سے قیاس کی بنیاد پر انوینٹری جمع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ برآمدی انوینٹری کو واضح طور پر شناخت، علیحدہ اور ایک ڈیجیٹل ذخیرے کے ذریعے محفوظ رکھا جائے گا تاکہ مکمل سراغ رسانی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید یہ کہ برآمدی انوینٹری کو ملکی منڈی میں فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
مذکورہ فریم ورک کے تحت بھارتی فروخت کنندگان کو مقررہ مدت کے اندر ادائیگی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے، خواہ بیرونِ ملک خریدار سے ادائیگی موصول ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ برآمدات پر ملنے والی رعایتیں اور رقم کی واپسی متعلقہ اشیا کی ایف او بی (فری آن بورڈ) مالیت کے تناسب سے سیلرز آن ریکارڈ (ایس او آرز) کو منتقل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ فروخت کنندگان کو اپنی مصنوعات کی آخری فروختی قیمت، آرڈر کی صورتحال اور کھیپ کی ترسیل کی نگرانی سے متعلق معلومات بھی دستیاب ہوں گی۔
واپس آنے یا مسترد ہونے والی کھیپ کو مقررہ طریقۂ کار کے مطابق دوبارہ برآمد، فروخت کنندہ کو واپس یا مناسب انداز میں نمٹایا جائے گا۔ شفافیت اور مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعلقہ فریم ورک کے تحت سالانہ تعمیل کی تصدیق اور ڈیجیٹل ریکارڈ محفوظ رکھنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
توقع ہے کہ یہ فریم ورک منظم تکمیلی نیٹ ورکس تک رسائی فراہم کرتے ہوئے بھارتی صنعت کاروں، تاجروں اور ایم ایس ایم ایز کی عالمی ای-کامرس سپلائی چینز میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کو فروغ دے گا، جبکہ شفافیت، بروقت ادائیگی، برآمدی مراعات کی مؤثر منتقلی اور مضبوط ضابطہ جاتی نگرانی کو بھی یقینی بنائے گا۔
******
ش ح ۔ ش م ۔ م ا
Urdu No-1371
(रिलीज़ आईडी: 2294880)
आगंतुक पटल : 10