زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آئی سی اے آر کی جینوم تحقیق میں بڑی کامیابی، اَرہر کی بہتر اقسام کی تیاری کی راہ ہموار


آئی سی اے آر کی تیار کردہ جینوم ترتیب کو اَرہر کا عالمی ریفرنس جینوم منظور کر لیا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی یہ ہندوستان کا پہلا مکمل طور پر ٹیلومیئر سے ٹیلومیئر تشریح شدہ ریفرنس جینوم بن گیا ہے

اس اعلیٰ معیار کے جینیاتی خاکے سے موسمیاتی تبدیلیوں کے مزاحم، زیادہ پیداوار دینے والی اور غذائیت سے بھرپور اَرہر کی نئی اقسام کی تیاری میں تیزی آنے کی توقع ہے، جس سے دالوں کی پیداوار میں ہندوستان کی خود کفالت کو مزید تقویت ملے گی

یہ تازہ کامیابی آئی سی اے آر۔ این آئی پی بی کے اس تاریخی کارنامے کا تسلسل ہے، جس کے تحت 2011 میں دنیا کی کسی بھی دال کی فصل کا پہلا ڈرافٹ جینوم تیار کیا گیا تھا

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 6:02PM by PIB Delhi

زرعی تحقیق کے بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) نے ایک بڑی سائنسی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اَرہر کی قسم 'آشا' کا ہندوستان کا پہلا مکمل طور پر تشریح شدہ ٹیلومیئر سے ٹیلومیئر ریفرنس جینوم تیار کیا ہے۔ اَرہر، جسے عام طور پر تور بھی کہا جاتا ہے، ہندوستان کی اہم ترین دالوں میں سے ایک ہے اور غذائی پروٹین کا بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ یہ ملک کی خوراک اور غذائیت سے متعلق سلامتی کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

 

یہ کامیابی نئی دہلی میں واقع آئی سی اے آر۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار پلانٹ بایوٹیکنالوجی کی اَرہر کے جینوم پر طویل عرصے سے جاری تحقیق کا تسلسل ہے۔ ادارے نے 2011 میں اَرہر کی قسم 'آشا' کا دنیا کا پہلا ڈرافٹ جینوم شائع کیا تھا، جو کسی بھی دال کی فصل کا پہلا ڈرافٹ جینوم تھا اور یہ پہلی فصل بھی تھی جس کا مکمل جینوم ہندوستان میں ہی ترتیب دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2017 میں اس ڈرافٹ جینوم کا بہتر ورژن شائع کیا گیا، جبکہ تازہ کامیابی اس کے مکمل ٹیلومیئر سے ٹیلومیئر جینوم کی ترتیب ہے، جو اب تک اَرہر کا سب سے جامع جینیاتی خاکہ فراہم کرتی ہے۔

نئے تیار کردہ ٹیلومیئر سے ٹیلومیئر جینوم میں 75 کروڑ 26 لاکھ 50 ہزار ڈی این اے بیس پیئرز شامل ہیں، جنہیں 92 کونٹیگز میں ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ اَرہر کے تمام 11 کروموسومز کی مکمل نمائندگی کرتا ہے۔ اس جینوم اسمبلی، جسے این آئی پی بی۔ سی سی ٹی ٹو ٹی۔4 کا نام دیا گیا ہے، کو عالمی ڈیٹا بیس این سی بی آئی میں جی سی ایف 000230855.1 ایکسیشن نمبر کے تحت جمع کرایا گیا تھا اور 20 اپریل 2026 کو جاری کیا گیا۔

اس جینوم اسمبلی میں تمام 11 کروموسومز کے ساتھ 11 سینٹرومیئرز اور 22 ٹیلومیئرز شامل ہیں، جو کروموسوم کی سطح پر اس کی مکمل ساخت کی تصدیق کرتے ہیں۔ جامع جینوم تشریح کے دوران 36 ہزار 557 جینز کی نشاندہی کی گئی، جن سے 48 ہزار 8 میسنجر آر این اے تیار ہونے کی تصدیق ہوئی۔ ٹرانسکرپٹوم یعنی آر این اے سیکوینس کی جانچ میں 99.9 فیصد سے زیادہ ریڈ الائنمنٹ ریکارڈ کی گئی، جس سے جینوم کی اعلیٰ درستگی اور مکمل ہونے کی توثیق ہوتی ہے۔

یہ مکمل طور پر تشریح شدہ ٹیلومیئر سے ٹیلومیئر ریفرنس جینوم ہندوستان میں دالوں پر تحقیق کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ یہ جدید جین اور پین جینوم تجزیے، زرعی اور غذائی اعتبار سے اہم خصوصیات رکھنے والے جینز کی شناخت، سالماتی افزائش نسل اور جینوم ایڈیٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجیوں کے استعمال کے لیے ایک اہم قومی جینیاتی وسیلہ فراہم کرے گا۔ اس پیش رفت سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحم، زیادہ پیداوار دینے والی اور غذائیت سے بھرپور اَرہر کی نئی اقسام کی تیاری میں تیزی آنے کی توقع ہے، جس سے ملک کے دالوں کی بہتری کے پروگرام کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ کامیابی تحقیق اور اختراع کو فروغ دے گی، سائنس دانوں، افزائش نسل کے ماہرین اور کسانوں کو فائدہ پہنچائے گی، زرعی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی میں بہتری اور ملک کی غذائی و غذائیتی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

 

زرعی تحقیق کے بھارتی کونسل (آئی سی اے آر) زیادہ پیداوار دینے والی، کیڑوں سے مزاحم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھلنے والی دالوں کی نئی اقسام تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ بریڈر بیجوں کی پیداوار کی نگرانی، مختلف مقامات پر آزمائشی کاشت، اپنے تحقیقی اداروں اور کرشی وگیان کیندروں کے ذریعے بہتر پیداواری ٹیکنالوجی کا مظاہرہ، نیز ملک بھر کے کسانوں کو صلاحیت سازی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے سائنسی معاونت بھی فراہم کرتا ہے۔

 حکومت ہند نے دالوں کی پیداوار میں خود کفالت، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور بہتر بیج، زیر کاشت رقبے میں توسیع، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، یقینی خریداری اور فصل کے بعد کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنا کر کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے مقصد سے 'دالوں میں آتم نربھرتا مشن' کا آغاز کیا ہے، جو 27-2026 سے 31-2030 تک نافذ رہے گا۔ اس مشن کا مقصد تحقیق، بیجوں کے نظام اور توسیعی خدمات پر مبنی جامع حکمت عملی کے ذریعے 31-2030 تک دالوں کی پیداوار کو تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ ٹن تک پہنچانا ہے۔

 

 

➡️ NCBI URL link for the Reference Genome of the Pigeonpea (Arhar/Tur Dal)

https://www.ncbi.nlm.nih.gov/datasets/genome/GCF_000230855.2/

➡️ REVIEW PAPER Genetic and genomic resources for accelerating marker-assisted ideotype breeding in pigeonpea (Cajanus cajan L. Millsp.)

 

 

************

ش ح ۔   م ع ۔  م  ص

(U : 1332 )


(रिलीज़ आईडी: 2294559) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Kannada , Malayalam