دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وی بی-گرام-جی کے تحت روزگار

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 4:25PM by PIB Delhi

دیہی ترقی کے وزیر مملکت جناب  کاملیش پاسوان نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں  بتایا کہ وکست بھارت- روزگار اور آجیویکا کی ضمانت مشن (گرامین) (وی بی-گرام-جی) ایکٹ، 2025 کے نافذ ہونے کے بعد، یہ اسکیم یکم جولائی 2026 سے  ملک کے تمام دیہی علاقوں میں کامیابی کے ساتھ نافذ کر دی گئی ہے۔وی بی-گرام-جی کے تحت ہر ایسے دیہی کنبے کو، جس کے بالغ افراد غیر ہنرمند دستی کام کرنے کے لیے تیار ہوں، ایک مالی سال میں 125 دن کے اجرتی روزگار کی قانونی ضمانت فراہم کی گئی ہے۔ یہ سہولت مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت اسکیم (منریگا) کے تحت دستیاب 100 دن کے ضمانتی اجرتی روزگار کے مقابلے میں زیادہ ہے۔یہ نئی اسکیم مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش ریاستوں میں بھی یکم جولائی2026 سے کامیابی کے ساتھ نافذ کی جا چکی ہے۔

مہاراشٹر کے معاملے میں ریاست کے لیے 4,420.32 کروڑ روپے کی عبوری رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے بعد ریاست کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر مختلف اجزا کے تحت مرکزی حصے کی پہلی قسط کے طور پر 1,459.92 کروڑ روپے کی مدر منظوری جاری کی گئی ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے لیے 6,252.03 کروڑ روپے کی عبوری رقم مختص کی گئی ہے۔ بعد  میں ریاست کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر مختلف اجزا کے تحت مرکزی حصے کی پہلی قسط کے طور پر 630.76 کروڑ روپے کی مدر منظوری جاری کی گئی ہے۔

یہ بھی کہا  گیا ہے کہ ایکٹ کی دفعہ 5(4) کے تحت ریاستی حکومتیں اپنے وسائل سے ایکٹ کے تحت دی گئی ضمانتی مدت سے زیادہ اضافی دنوں کے روزگار کی فراہمی کا انتظام کر سکتی ہیں۔ اس  ایکٹ  کا مقصدپائیدار اثاثوں کی تخلیق اور ایکٹ کے شیڈولI میں درج قابلِ اجازت کاموں کے نفاذ کے ذریعے پائیدار دیہی روزگار کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ ان کاموں میں آبی وسائل سے متعلق کام، بنیادی دیہی ڈھانچہ، روزی روٹی سے متعلق بنیادی ڈھانچہ اور شدید موسم سے متعلق حالات کے اثرات کو کم کرنے کے لیے خصوصی کام شامل ہیں۔ ان دفعات کا مقصد روزگار کے تحفظ کو بڑھانا، دیہی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور پائیدار دیہی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

دین دیال انتودیا یوجنا-قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی-این آر ایل ایم)، جو دیہی ترقی  کی وزارت کا غربت کے خاتمے کا ایک اہم پروگرام ہے، ریاستی دیہی روزی روٹی مشنز (ایس آر ایل ایمز) کے ذریعے 34 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے 760 اضلاع اور 7,246 بلاکس میں نافذ کیا جا رہا ہے، جن میں مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش بھی شامل ہیں۔جون 2026 تک اس مشن کے تحت تقریباً 10.08 کروڑ دیہی خاندانوں کو تقریباً 92 لاکھ اپنی مدد آپ  گروپوں (ایس ایچ جیز) میں شامل کیا جا چکا ہے۔ ڈی اے وائی-این آر ایل ایم کی موجودہ دفعات کے تحت اہل اپنی مدد آپ  گروپوں کو آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمیوں اور روزگار سے متعلق کاموں، بشمول کاروباری منصوبوں، کی معاونت کے لیے سرمایہ جاتی امداد فراہم کی جاتی ہے۔

اس کے تحت ہر اہل اپنی مدد آپ  گروپ (ایس ایچ جی) کو 20,000 روپے سے 30,000 روپے تکریوالونگ فنڈ  ( آر ایف) اور 2.50 لاکھ روپے تک کمیونٹی انویسٹمنٹ فنڈ (سی آئی ایف) فراہم کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ، اہل اپنی مدد آپ گروپوں کو بینک قرضوں پر شرحِ سود میں رعایت (انٹرسٹ سب وینشن)کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ 3 لاکھ روپے تک کے قرضوں پر بینک سالانہ 7 فیصد کی رعایتی شرحِ سود پر قرض فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ 3 لاکھ روپے سے زیادہ اور 5 لاکھ روپے تک کے قرضوں کے لیے بینک ایک سالہ ایم سی ایل آر یا کسی دیگر بیرونی معیار پر مبنی قرض کی شرح یا سالانہ 10 فیصد (جو بھی کم ہو) کے مطابق قرض فراہم کرتے ہیں۔

اس مشن کے تحت اب تک مجموعی طور پر 13.41 لاکھ کروڑ روپے کے قرضے اپنی مدد آپ گروپوں کو فراہم کیے جا چکے ہیں۔ یہ سہولیات مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش سمیت تمام اہل اپنی مدد آپ گروپوں کو اسکیم کے رہنما اصولوں کے مطابق دستیاب ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔ش م۔ ر ب۔

U-1298


(रिलीज़ आईडी: 2294469) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Telugu