امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

صارفین کے امور کے محکمے نے 17 سے 31 اگست 2026 تک حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سیز) کے لیے درخواستیں طلب کی ہیں


اب تک حکومت سے منظور شدہ 51 جانچ مراکز (جی اے ٹی سیز) کو منظوری دی جا چکی ہےمزید تصدیقی صلاحیت • تیز تر خدمات • صارفین کا بہتر تحفظ

اس پہل کا مقصد ملک کی توثیقی صلاحیت میں اضافہ، تصدیقی خدمات تک رسائی کو مزید آسان بنانا، صنعتوں کے لیے ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل کو تیز تر بنانا اور صارفین کے لیے درست اور قابلِ اعتماد پیمائش کو یقینی بنانا ہے

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 2:18PM by PIB Delhi

صارفین کے امور، خوراک اور عوامی نظام  تقسیم کے محکمے نے قانونی پیمائش (حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز) قواعد، 2013 کے تحت حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سیز) کے طور پر منظوری حاصل کرنے کے لیے اہل صنعتوں، تجربہ گاہوں، انجینئرنگ کالجوں، پولیٹیکنک اداروں، آئی ٹی آئیز اور جانچ کی سہولیات رکھنے والے اداروں سے آن لائن درخواستیں طلب کی ہیں۔

اس سلسلے میں درخواستیں 17 اگست 2026 سے 31 اگست 2026 تک محکمے کے سرکاری پورٹل emaap.gov.in/gatc کے ذریعے آن لائن جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ مذکورہ  پورٹل پر درخواست جمع کرانے، فیس کی ادائیگی، درخواست کی پیش رفت معلوم کرنے اور درخواست گزاروں سے رابطے کا مکمل ڈیجیٹل نظام موجود ہے، جس سے یہ عمل زیادہ شفاف، مؤثر اور کاروبار کے لیے سازگار بن گیا ہے۔

مذکورہ  اقدام کا مقصد تکنیکی صلاحیت رکھنے والے نجی اداروں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے بھارت میں وزن اور پیمائش کی توثیق کے نظام کو وسعت دینا ہے۔ حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز کے وسیع تر نیٹ ورک سے ملک کی توثیقی صلاحیت مضبوط ہوگی، تصدیقی خدمات تک رسائی بہتر ہوگی، صنعتوں کے لیے ضابطہ جاتی تقاضوں کی تکمیل تیز ہوگی اور صارفین کے لیے درست پیمائش کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز کو تجارت اور کاروبار میں استعمال ہونے والے مخصوص وزن اور پیمائش کے آلات کی ابتدائی توثیق اور دوبارہ توثیق کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ ان مراکز کے نیٹ ورک میں توسیع سے توثیقی خدمات اور  زیادہ آسانی سے دستیاب ہوں گی، خدمات کی فراہمی کے وقت  میں کمی آئے گی اور ملک بھر میں قانونی پیمائش سے متعلق خدمات مزید مؤثر انداز میں فراہم کی جا سکیں گی۔

قانونی پیمائش (حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز) قواعد، 2013 میں حالیہ ترامیم کے بعد، تسلیم شدہ جی اے ٹی سیز اب صحت، توانائی، نقل و حمل، خردہ تجارت، مینوفیکچرنگ اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والے وزن اور پیمائش کے آلات کی 23 اقسام کی توثیق کرنے کے مجاز ہوں گے۔

منظور شدہ زمروں میں درج ذیل آلات شامل ہیں:

  • پانی کے میٹر
  • اسفیگمومینومیٹر (بلڈ پریشر ناپنے والے آلات)
  • طبی تھرمامیٹر
  • خودکار ریل ویبرجز
  •  پیمائشی فیتے
  • درستگی کی درجہ بندی کلاس III کے غیر خودکار وزنی آلات (150 کلوگرام تک)
  • درستگی کلاس IIII کے غیر خودکار وزنی آلات
  • لوڈ سیلز
  • بیم اسکیلز
  • کاؤنٹر مشینیں
  • ہر قسم کے معیاری باٹ
  • گیس میٹر
  • توانائی (بجلی) کے میٹر
  • نمی ناپنے والے آلات
  • گاڑیوں کی رفتار ناپنے کا پیمانا (اسپیڈ میٹر)
  • سانس کے تجزیاتی آلات (بریتھ اینالائزر)
  • کثیر جہتی پیمائش کے آلات
  • فلو میٹرز
  • پیٹرول اور ڈیزل ڈسپنسرز
  • سی این جی ڈسپنسرز
  • ایل پی جی ڈسپنسرز
  • ایل این جی ڈسپنسرز
  • ہائیڈروجن ڈسپنسرز

درخواست دینے کے اہل اداروں میں صنعتیں، مینوفیکچررز، تجربہ گاہیں، انجینئرنگ کالج، پولی ٹیکنک ادارے، صنعتی تربیتی ادارے (آئی ٹی آئیز) اور جانچ کی سہولیات رکھنے والے ادارے شامل ہیں، بشرطیکہ ان کے پاس درج ذیل سہولیات موجود ہوں:

  • قواعد کے مطابق مطلوبہ جانچ اور معیاری پیمائش  کا ایسا سازوسامان، جس کا سراغ قومی معیارات سے منسلک ہو؛
  • قانونی پیمائش کے شعبے میں تجربہ رکھنے والا مستند تکنیکی عملہ؛ اور
  • حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سی) کے قواعد کے مطابق مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ۔

حکومت سے منظور شدہ جانچ مراکز (جی اے ٹی سیز) کے توسیع شدہ نیٹ ورک سے ملک بھر میں توثیقی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جس سے ریاستی قانونی پیمائش کے محکموں کی کوششوں کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔ اس سے وزن اور پیمائش کے آلات کی توثیق اور دوبارہ توثیق کا عمل زیادہ تیز ہوگا، جبکہ ریاستی قانونی پیمائش کے افسران کو مارکیٹ کی نگرانی، قانون کے نفاذ اور صارفین کی شکایات کے ازالے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے  کا موقع ملے گا۔

مذکورہ  اقدام کاروبار میں آسانی، ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی، خود کفیل بھارت (آتم نربھر بھارت) اور صارفین کے تحفظ کے تئیں حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے قانونی پیمائش کا ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی اور شفاف نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

بھارت جیسے جیسے بین الاقوامی تنظیم برائے قانونی پیمائش (او آئی ایم ایل) کے سرٹیفکیشن اتھارٹی کے طور پر اپنی حیثیت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے، اس کے ساتھ ہی جی اے ٹی سی کے توسیع شدہ نظام سے ملک کے معیاری بنیادی ڈھانچے کو تقویت ملنے، عالمی سطح پر تسلیم شدہ پیمائشی طریقوں کو فروغ دینے اور بھارتی صنعت کو بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے میں مدد ملنے کی بھی توقع ہے۔

اہل ادارے تفصیلی اہلیت کی شرائط جاننے اور درخواست جمع کرانے کے لیے دیے گئے لنک پر  emaap.gov.in/gatc رابطہ  کر سکتے ہیں۔

*******

ش ح۔ش م۔ ر ب۔

U-1276


(रिलीज़ आईडी: 2294327) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Kannada , English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil