وزارت آیوش
آیوش کی خدمات کا آیوشمان آروگیہ مندر میں انضمام
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 3:04PM by PIB Delhi
مرکزی معاونت یافتہ اسکیم قومی آیوش مشن (این اے ایم) کے تحت، ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کی جانب سے اپنے ریاستی سالانہ ایکشن پلان (ایس اے اے پی) کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کے مطابق، موجودہ 12,500 آیوش ڈسپنسریوں اور ذیلی صحت مراکز (ایس سی) کو اپ گریڈ کرکے آیوش ہیلتھ اینڈ ویلنیس سینٹر کے طور پر فعال کیا گیا ہے، جنہیں اب آیوشمان آروگیہ مندر (آیوش) [اے اے ایم (آیوش)] کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے لحاظ سے منظور شدہ اور فعال اے اے ایم (آیوش) کی تفصیلات ضمیمہ-I میں فراہم کی گئی ہیں۔ مزید برآں، ملک میں ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے لحاظ سے آیوش او پی ڈی خدمات فراہم کرنے والی عوامی صحت سہولیات کی تفصیلات ضمیمہ-II میں دی گئی ہیں۔
عملی رہنما اصولوں کے مطابق، اے اے ایم (آیوش) کے قیام کا مقصد آیوش کے اصولوں اور طریقۂ علاج (یوگا تھراپی، آیورویدک نسخہ، نیچروپیتھی علاج وغیرہ) پر مبنی جامع تندرستی کا ماڈل قائم کرنا ہے، جس میں احتیاطی، فروغی، معالجاتی اور بحالی پر مبنی صحت خدمات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ اس مقصد سے موجودہ عوامی صحت نظام کے ساتھ ان مراکز کا انضمام کیا گیا ہے، تاکہ ضرورت مند عوام کو باخبر انتخاب کا موقع فراہم کی جا سکے۔ اس کے لیے فیلڈ سطح کے کارکنوں، خصوصاً آشا کارکنوں کی شمولیت سے ٹیم پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے آیوش کی خدمات دستیاب کرائی جا رہی ہیں۔
ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، آیوش ڈسپنسریوں اور ذیلی صحت مراکز کو اے اے ایم (آیوش) میں اپ گریڈ کیے جانے کے بعد یہاں آنے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ او پی ڈی خدمات کے علاوہ یہ مراکز دیگر مختلف خدمات بھی فراہم کر رہے ہیں، جن میں پراکرتی پریکشن، مراکز اور برادری کی سطح پر یوگا سے متعلق سرگرمیاں، اور عام جڑی بوٹیوں کے استعمال کے بارے میں بیداری شامل ہیں۔
مختلف ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں این اے بی ایچ کے ذریعے جائزہ، تیسرے فریق کی جانچ اور مرکزی ٹیموں کے دوروں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ ان مراکز میں تعینات آیوش کے معالجین کے معیار، منظوری، تربیت اور فعال اے اے ایم (آیوش) کے ذریعے فراہم کی جانے والی مختلف سرگرمیوں اور خدمات کے نفاذ کی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، دورہ کرنے والی مرکزی ٹیموں نے ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو اے اے ایم (آیوش) کی ٹیم کی مناسب تربیت اور صلاحیت سازی، دیگر عوامی صحت کی سہولیات کے ساتھ مؤثر ریفرل نظام کو مضبوط بنانے اور فیلڈ سطح کے کارکنوں، خصوصاً آشا کارکنوں کی مؤثر شمولیت کے لیے تجاویز دی ہیں، تاکہ ان مراکز کے ذریعے انجام دی جانے والی سرگرمیوں کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
قومی آیوش مشن (این اے ایم) کے تحت، این اے ایم کے رہنما اصولوں کی دفعات کے مطابق، ریاستی سالانہ ایکشن پلان (ایس اے اے پی) کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر ریاستی اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کو مجموعی فنڈ جاری کیے جاتے ہیں۔
آیوش ڈسپنسریوں کو اے اے ایم (آیوش) میں تبدیل کرنے کے لیے فی یونٹ 16.22 لاکھ روپے اور ذیلی صحت مراکز کو اپ گریڈ کرنے کے لیے فی یونٹ 15.744 لاکھ روپے کے حساب سے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
ضمیمہ- I
ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے منظور شدہ اور فعال اے اے ایم (آیوش) کی صورتحال
|
نمبر شمار
|
ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نام
|
منظور شدہ اے اے ایم(آیوش)
|
فنکشنل اے اے ایم )آیوش)
|
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
6
|
6
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
126
|
126
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
89
|
89
|
|
4
|
آسام
|
500
|
500
|
|
5
|
بہار
|
294
|
294
|
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
12
|
12
|
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
400
|
400
|
|
8
|
دہلی
|
0
|
0
|
|
9
|
دادرنگر حویلی اور دامن دیو
|
1
|
1
|
|
10
|
گوا
|
100
|
100
|
|
11
|
گجرات
|
365
|
365
|
|
12
|
ہریانہ
|
538
|
538
|
|
13
|
ہماچل پردیش
|
761
|
761
|
|
14
|
جموں و کشمیر
|
523
|
523
|
|
15
|
جھارکھنڈ
|
745
|
745
|
|
16
|
کرناٹک
|
376
|
376
|
|
17
|
کیرالہ
|
700
|
700
|
|
18
|
لداخ
|
0
|
0
|
|
19
|
لکشدیپ
|
7
|
7
|
|
20
|
مدھیہ پردیش
|
800
|
800
|
|
21
|
مہاراشٹر
|
390
|
390
|
|
22
|
منی پور
|
15
|
15
|
|
23
|
میگھالیہ
|
24
|
24
|
|
24
|
میزورم
|
41
|
41
|
|
25
|
ناگالینڈ
|
49
|
49
|
|
26
|
اڈیشہ
|
422
|
422
|
|
27
|
پڈوچیری
|
4
|
4
|
|
28
|
پنجاب
|
158
|
158
|
|
29
|
راجستھان
|
2019
|
2019
|
|
30
|
سکم
|
18
|
18
|
|
31
|
تمل ناڈو
|
650
|
650
|
|
32
|
تلنگانہ
|
421
|
421
|
|
33
|
تریپورہ
|
72
|
72
|
|
34
|
اتر پردیش
|
1034
|
1034
|
|
35
|
اتراکھنڈ
|
300
|
300
|
|
36
|
مغربی بنگال
|
540
|
540
|
|
کل
|
12500
|
12500
|
ضمیمہ II
ریاست/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے ملک میں آیوش او پی ڈی خدمات پیش کرنے والی صحت عامہ کی سہولیات کی صورتحال*
|
نمبر شمار
|
ریاست /مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
اسپتال
|
ڈسپنسریاں
|
|
1
|
آندھرا پردیش
|
8
|
737
|
|
2
|
اروناچل پردیش
|
11
|
174
|
|
3
|
آسام
|
4
|
573
|
|
4
|
بہار
|
8
|
1590
|
|
5
|
چھتیس گڑھ
|
16
|
1094
|
|
6
|
دہلی
|
6
|
204
|
|
7
|
گوا
|
2
|
207
|
|
8
|
گجرات
|
40
|
852
|
|
9
|
ہریانہ
|
17
|
830
|
|
10
|
ہماچل پردیش
|
35
|
1206
|
|
11
|
جموں و کشمیر
|
10
|
999
|
|
12
|
جھارکھنڈ
|
1
|
781
|
|
13
|
کرناٹک
|
274
|
7641
|
|
14
|
کیرالہ
|
165
|
2210
|
|
15
|
مدھیہ پردیش
|
77
|
1773
|
|
16
|
مہاراشٹر
|
174
|
486
|
|
17
|
منی پور
|
25
|
12
|
|
18
|
میگھالیہ
|
14
|
95
|
|
19
|
میزورم
|
10
|
21
|
|
20
|
ناگالینڈ
|
6
|
46
|
|
21
|
اڈیشہ
|
9
|
2676
|
|
22
|
پنجاب
|
26
|
1032
|
|
23
|
راجستھان
|
141
|
4443
|
|
24
|
سکم
|
6
|
13
|
|
25
|
تمل ناڈو
|
34
|
1514
|
|
26
|
تریپورہ
|
7
|
101
|
|
27
|
اتر پردیش
|
1982
|
3761
|
|
28
|
اتراکھنڈ
|
433
|
562
|
|
29
|
مغربی بنگال
|
21
|
2668
|
|
30
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
3
|
37
|
|
31
|
چنڈی گڑھ
|
2
|
30
|
|
32
|
دادر اور نگرحویلی اور دمن اور دیو
|
4
|
20
|
|
33
|
لداخ
|
0
|
48
|
|
34
|
لکشدیپ
|
2
|
18
|
|
35
|
پڈوچیری
|
6
|
81
|
|
36
|
تلنگانہ
|
11
|
834
|
|
37
|
سی جی ایچ ایس اور مرکزی حکومت کے ادارے
|
58
|
900
|
|
کل
|
3648
|
40269
|
یہ معلومات آیوش اِن انڈیا ڈیٹا میں 01.04.2024 تک دستیاب اعداد و شمار کے مطابق فراہم کی گئی ہیں۔
یہ معلومات آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی ہیں۔
***
ش ح۔ م ش ع۔ ا ک م
U. No. 1282
(रिलीज़ आईडी: 2294319)
आगंतुक पटल : 5