وزارت آیوش
ملک میں نئے آیوش اداروں اور اسپتالوں کا قیام
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 3:03PM by PIB Delhi
چونکہ صحتِ عامہ ریاستی موضوع ہے، اس لیے ملک بھر میں، بالخصوص مشرقی بھارت اور اڈیشہ سمیت مختلف ریاستوں میں نئے آیوش اداروں، مربوط (انٹیگریٹڈ) اسپتالوں کے قیام اور آیوش بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔تاہم، آیوش کی وزارت ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تعاون سے قومی آیوش مشن (این اے ایم) کے نام سے ایک مرکزی امدادیافتہ اسکیم نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت آیوش بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس میں ان ریاستوں میں، جہاں سرکاری شعبے میں آیوش تدریسی اداروں کی کمی ہے، نئے آیوش کالجوں کے قیام، 50، 30 اور 10 بستروں پر مشتمل مربوط آیوش اسپتالوں کے قیام، موجودہ آزاد سرکاری آیوش اسپتالوں کے اپ گریڈیشن، موجودہ سرکاری، پنچایت یا سرکاری امداد یافتہ آیوش ڈسپنسریوں کے اپ گریڈیشن یا کرایہ کی یا خستہ حال عمارتوں میں قائم ڈسپنسریوں کے لیے نئی عمارتوں کی تعمیر، ایسے علاقوں میں نئی آیوش ڈسپنسریوں کے قیام کے لیے عمارتوں کی تعمیر جہاں آیوش کی سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور آیوشمان آروگیہ مندر (آیوش) کو فعال بنانے کے لیے مالی مدد شامل ہے۔اڈیشہ سمیت تمام ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے قومی آیوش مشن کے رہنما اصولوں کے مطابق ریاستی سالانہ ایکشن پلان (ایس اے اے پی) کے ذریعے مناسب تجاویز پیش کرکے اس مالی امداد سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
قومی آیوش مشن (این اے ایم) کے تحت ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے ریاستی سالانہ ایکشن پلان کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر، مالی سال 2014-15 سے 2025-26 کے دوران اڈیشہ سمیت مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 6,40,699.24 لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ یہ رقم آیوش بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے سمیت مختلف منظور شدہ سرگرمیوں کے نفاذ کے لیے فراہم کی گئی ہے۔
ضمیمہ
قومی آیوش مشن (این اے ایم) کے تحت مالی سال 2014-15 سے 2025-26 تک ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری کیے گئے فنڈز کی تفصیلات
(رقم: لاکھ روپے میں)
|
نمبر شمار
|
ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نام
|
جاری کردہ فنڈز
|
|
1
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
3409.88
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
12257.56
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
9890.96
|
|
4
|
آسام
|
26133.90
|
|
5
|
بہار
|
8314.14
|
|
6
|
چنڈی گڑھ
|
2491.45
|
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
16256.95
|
|
8
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
2765.32
|
|
9
|
دہلی
|
871.10
|
|
10
|
گوا
|
3738.91
|
|
11
|
گجرات
|
18770.77
|
|
12
|
ہریانہ
|
16484.91
|
|
13
|
ہماچل پردیش
|
21112.90
|
|
14
|
جموں و کشمیر
|
28857.50
|
|
15
|
جھارکھنڈ
|
18371.71
|
|
16
|
کرناٹک
|
28942.03
|
|
17
|
کیرالہ
|
40420.12
|
|
18
|
لکشدیپ
|
2088.33
|
|
19
|
مدھیہ پردیش
|
47884.45
|
|
20
|
مہاراشٹر
|
15379.97
|
|
21
|
منی پور
|
9742.60
|
|
22
|
میزورم
|
7520.62
|
|
23
|
میگھالیہ
|
8753.69
|
|
24
|
ناگالینڈ
|
10053.31
|
|
25
|
اوڈیشہ
|
11941.69
|
|
26
|
پڈوچیری
|
3224.56
|
|
27
|
پنجاب
|
7207.76
|
|
28
|
راجستھان
|
51051.27
|
|
29
|
سکم
|
5191.76
|
|
30
|
تمل ناڈو
|
30890.64
|
|
31
|
تلنگانہ
|
14856.07
|
|
32
|
تریپورہ
|
6144.98
|
|
33
|
اتر پردیش
|
106421.56
|
|
34
|
اتراکھنڈ
|
22814.64
|
|
35
|
مغربی بنگال
|
19736.14
|
|
36
|
لداخ
|
705.11
|
|
|
کل
|
640699.24
|
یہ معلومات آیوش کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
( ش ح ۔ م م ۔ م ا )
Urdu.No-1281
(रिलीज़ आईडी: 2294283)
आगंतुक पटल : 8