صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے 16ویں انڈین آرگن ڈونیشن ڈے کے موقع پر اعضا ء عطیہ کرنے کی تحریک کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا
اعضا ء عطیہ کرنا ہمدردی کا اعلیٰ ترین اظہار ہے، جو کسی کو زندگی کا دوسرا موقع فراہم کرتا ہے: محترمہ انوپریا پٹیل
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی اپیل کا اثر پانچ لاکھ سے زیادہ آدھار سے تصدیق شدہ اعضاء کا عطیہ کرنے کے عہد سے ظاہر ہوتا ہے: محترمہ انوپریہ پٹیل
سال 2025 ء میں 20,138 اعضاء کی پیوند کاری کی گئی، جو ایک سال میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے
زندہ عطیہ دہندگان کے ذریعے اعضاء کی پیوند کاری میں بھارت عالمی سطح پر سرفہرست ہے؛ بھارت مجموعی طور پر اعضاء کی پیوند کاری کے معاملے میں دنیا میں تیسرے مقام پر ہے
وفات پا چکے عطیہ دہندگان کے اعضاء کی پیوند کاری 2013 ء میں 837 سے بڑھ کر 2025 ء میں 3,526 ہو گئی یعنی اس میں چار گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہوا
مرکزی وزیر محترمہ انوپریا پٹیل نے ’ جُگ جُگ جیو ابھیان‘ ، ای-پرتیا روپن پلیٹ فارم اور این او ٹی ٹی او ( نوٹّو ) موبائل ایپ کا اجراء کیا
اعضاء کی پیوند کاری کے فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے نیشنل برین اسٹیم ڈیتھ سرٹیفیکیشن گائیڈ لائنز اور سویپ ٹرانسپلانٹیشن سے متعلق قومی گائیڈ لائنز جاری کی گئیں
प्रविष्टि तिथि:
03 AUG 2026 2:28PM by PIB Delhi
آج 16 واں انڈین آرگن ڈونیشن ڈے یعنی اعضاء کے عطیے کا بھارتی دن (آئی او ڈی ڈی) منایا گیا ۔ اس موقع پر نئی دلّی میں صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزارت کے تحت قومی اعضاء و بافت ( ٹیشو ) پیوند کاری تنظیم (این او ٹی ٹی او) کی جانب سے قومی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں بھارت کے اعضاء کے عطیے اور پیوند کاری کے پروگرام کو مستحکم کرنے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا گیا ، جب کہ وفات پا چکے اعضاء عطیہ دہندگان اور ان کے اہلِ خانہ کے گراں قدر تعاون کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اس پروگرام میں صحت اور خاندانی بہبود اور کیمیکل و کھاد کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرکزی صحت سکریٹری محترمہ پُنیا سلیلا سری واستو، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر لو نیش جی کرشنا، این او ٹی ٹی او کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انیل کمار، وزارت کے اعلیٰ حکام، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندگان، عطیہ دہندگان کے اہلِ خانہ، اعضا کی پیوند کاری حاصل کرنے والے افراد، صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین اور دیگر متعلقہ فریق بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے 16ویں بھارتی یومِ اعضاء عطیہ کو خدمت اور انسانیت کے جذبے کا جشن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اعضاء عطیہ کرنا ہمدردی کا اعلیٰ ترین اظہار ہے کیونکہ یہ اعضاء کے آخری درجے کے ناکارہ ہونے سے نبرد آزما افراد کو زندگی کا دوسرا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے وفات پا چکے اعضاء عطیہ کرنے والوں کے اہلِ خانہ کے تئیں گہرے تشکر کا اظہار کیا، جن کے بے لوث فیصلوں نے ملک کو ترغیب دی ہے اور بھارت میں اعضاء عطیہ کی تحریک کو مستحکم بنایا ہے۔ انہوں نے کئی ریاستی حکومتوں کی قابلِ تعریف کوششوں کو بھی سراہا اور ان پر زور دیا کہ وہ بہترین طریقۂ کار کو مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کریں تاکہ ملک بھر میں اعضاء عطیہ اور پیوند کاری کی خدمات کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
بھارت کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے ، مرکزی وزیر نے بتایا کہ ملک نے 2023 ء میں قومی ڈیجیٹل عطیہ عہد پورٹل کے آغاز کے بعد سے آدھار سے تصدیق شدہ پانچ لاکھ سے زائد اعضاء عطیہ کرنے کے عہد کا ہدف عبور کر لیا ہے۔ انہوں نے عوامی شرکت میں اس اضافے کو حکومت کی مسلسل بیداری مہموں اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی متاثر کن اپیل کا نتیجہ قرار دیا، جس نے شہریوں کو اعضاء عطیہ کرنے کی خاطر آگے آنے کی ترغیب دی ہے، ساتھ ہی اعضاء کو ضرورت مند مریضوں تک بروقت اور محفوظ طریقے سے پہنچانے کے عمل کو بھی فروغ دیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اعضاء کی پیوند کاری کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ملک میں اعضاء کی پیوند کاری کی تعداد 2013 ء میں 4,990 سے بڑھ کر 2025 ء میں 20,000 سے زائد ہو گئی ہے، جو ایک سال میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ بھارت اب مجموعی اعضاء کی پیوند کاری کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد دنیا میں تیسرے مقام پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وفات پا چکے عطیہ دہندگان کے اعضاء کی پیوند کاری 2013 ء میں 837 سے بڑھ کر 2025 ء میں 3,500 سے زیادہ ہو گئی ہے، تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اعضاء کی مانگ اور دستیابی کے درمیان اب بھی ایک بڑا فرق موجود ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس فرق کو کم کرنا قومی ترجیح ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ اعضاء کے عطیہ سے متعلق غلط فہمیاں اب بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی بڑا مذہب اعضاء عطیہ کرنے سے منع نہیں کرتا، بلکہ تمام مذاہب ہمدردی، خدمت اور زندگی بچانے کی اقدار کو فروغ دیتے ہیں، جو اعضاء کے عطیہ کو ایک عظیم انسانی عمل بناتے ہیں۔
اس موقع پر شروع کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ دماغی موت کی تصدیق سے متعلق قومی رہنما خطوط اور باہمی تبادلے کے ذریعے پیوند کاری سے متعلق قومی رہنما خطوط ملک بھر میں طریقۂ کار کو یکساں بنانے اور پالیسیوں کے مؤثر نفاذ کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ’جُگ جُگ جیو ابھیان‘ کے آغاز کو بھی نمایاں کیا، جو ایک سال تک چلنے والی ملک گیر بیداری مہم ہے۔ اس کا مقصد ، اعضاء کے عطیہ کا پیغام ہر برادری تک پہنچانا اور اس بات کو اجاگر کرنا ہے کہ اعضاء کا عطیہ زندگی کا سب سے بڑا تحفہ ہے، جس کے ذریعے عطیہ دہندگان کی میراث اعضاء حاصل کرنے والوں کے ذریعے زندہ رہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ایک مضبوط ادارہ جاتی نظام قائم کیا ہے، جس میں قومی اعضاء و بافت ( ٹیشو ) پیوند کاری تنظیم (این او ٹی ٹی او)، پانچ علاقائی اعضاء و بافت پیوند کاری تنظیمیں (آر او ٹی ٹی اوز)، 26 ریاستی اعضاء و بافت پیوند کاری تنظیمیں (ایس او ٹی ٹی اوز) اور تقریباً 1,200 رجسٹرڈ اسپتال شامل ہیں۔ ان تمام متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر تال میل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے ’ای-پرتیا روپَن ‘ کے نام سے ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم شروع کیا ہے، جو اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری کے نظام کو مربوط، شفاف اور مؤثر بنائے گا، جب کہ شہریوں کا اعتماد بھی مزید مضبوط کرے گا۔
قومی اعضاء پیوند کاری پروگرام (این او ٹی پی) کے تحت حکومت کی مسلسل معاونت کو اجاگر کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ ریاستوں کو بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، عطیہ دہندگان کی دیکھ بھال، اعضاء کے حصول اور ان کی منتقلی کے لیے مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت گردے کی پیوند کاری کو صحت سے متعلق فوائد کے پیکیج میں شامل کیا گیا ہے، جب کہ معاشی طور پر کمزور مریضوں کے لیے راشٹریہ آروگیہ ندھی کے تحت مالی امداد بھی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20,000 سے زائد جن اوشدھی مراکز کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کے ذریعے پیوند کاری کے بعد استعمال ہونے والی ادویات سمیت سستی دواؤں تک عوام کی رسائی بہتر ہو رہی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر محترمہ پٹیل نے ، اس بات پر زور دیا کہ جہاں اعضاء کی پیوند کاری کی خدمات کو وسعت دینا ضروری ہے، وہیں بڑا مقصد بیماریوں سے بچاؤ اور صحت مند طرزِ زندگی کے فروغ کے ذریعے اعضاء کی پیوند کاری کی ضرورت کو کم کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے یوگا، فٹ انڈیا تحریک اور دیگر عوامی صحت پروگراموں کے ذریعے احتیاطی، صحت کے فروغ اور علاج معالجے کی خدمات کو یکجا کرتے ہوئے صحت کے شعبے میں ایک نئی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے حال ہی میں شروع کی گئی ’ نشہ مکت بھارت مہم ‘ کا ذکر کرتے ہوئے ، انہوں نے شہریوں، بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ نشہ آور اشیاء کے استعمال سے دور رہیں اور صحت مند طرزِ زندگی اپنائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بیماریوں سے بچاؤ ہی صحت کے تحفظ کا سب سے مؤثر طریقہ ہے اور اس سے ان دائمی بیماریوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے ، جو اکثر اعضاء کے ناکارہ ہونے کا سبب بنتی ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ، مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی سکریٹری محترمہ پُنیہ سلیلا سری واستو نے عطیہ دہندگان کے اہلِ خانہ، اعضاء کی پیوند کاری حاصل کرنے والے افراد، صحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین، اسپتالوں، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، این او ٹی ٹی او، آر او ٹی ٹی اوز، ایس او ٹی ٹی اوز اور تمام متعلقہ فریقوں کا شکریہ ادا کیا، جن کی مشترکہ کوششوں سے بھارت میں اعضاء کے عطیہ کی تحریک مزید مضبوط اور مؤثر بنی ہے۔
اس موقع پر شروع کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ ’ای-پرتیاروپَن‘ پلیٹ فارم، این او ٹی ٹی او موبائل ایپ، دماغی موت کی تصدیق سے متعلق قومی رہنما خطوط اور باہمی تبادلے کے ذریعے پیوند کاری سے متعلق قومی رہنما خطوط طریقۂ کار کو آسان بنانے، شفافیت اور تال میل کو بہتر بنانے اور اعضاء کے عطیہ و پیوند کاری کے نظام کو مزید مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
پروگرام کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے ، انہوں نے بتایا کہ این او ٹی ٹی او-آر او ٹی ٹی او-ایس او ٹی ٹی او نیٹ ورک اب 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پھیل چکا ہے، جس سے اسپتالوں کے درمیان بہتر تال میل قائم ہوا ہے اور اعضاء کے حصول اور تقسیم کا عمل زیادہ مؤثر بن سکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت نے اپیلوں کی سماعت کا اختیار نچلی سطح پر منتقل کر دیا ہے، جس سے نظام کو مزید مؤثر اور مقررہ وقت کے اندر مکمل ہونے والا بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نئی دلّی کے ایمس کے علاوہ ، اب دس نئے ایمس اداروں میں بھی گردے کی پیوند کاری کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ ان میں سے ایمس جودھ پور، ایمس بھونیشور، ایمس پٹنہ اور ایمس رشی کیش نے جگر کی پیوند کاری بھی شروع کر دی ہے، جب کہ ایمس بھوپال میں دل کی پیوند کاری کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس طرح ملک بھر میں پیوند کاری کی جدید سہولیات تک رسائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ’من کی بات‘ کے 131ویں ایپی سوڈ میں دیے گئے اس بیان کو یاد کرتے ہوئے کہ ’’ اعضاء کے عطیہ کے بارے میں بیداری مسلسل بڑھ رہی ہے ‘‘ ، محترمہ سری واستو نے کہا کہ آج شروع کیا گیا ’جُگ جُگ جیو ابھیان‘ اسی تصور کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے بیداری اور عوامی شرکت کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ وہ قومی اعضاء پیوند کاری پروگرام (این او ٹی پی) کے تحت دستیاب سہولیات اور تعاون کا مکمل استعمال کریں، تاکہ اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری کی خدمات کو مزید وسعت دی جا سکے۔
صحت خدمات کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر لو نیش جی کرشنا نے کہا کہ 16واں انڈین آرگن ڈونیشن ڈے ، اعضاء عطیہ کرنے والوں اور ان کے اہلِ خانہ کے تئیں تشکر کے اظہار اور زندگی کے تحفے کو منانے کا دن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دن 3 اگست ، 1994 ء کو ، بھارت میں کی جانے والی پہلی کامیاب وفات پا چکے عطیہ دہندہ کے اعضاء کی پیوند کاری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس موقع پر شروع کیے گئے اقدامات زیادہ بیداری، بہتر تال میل اور شفافیت میں اضافے کے ذریعے اعضاء کے عطیہ کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ وفات پا چکے افراد کے اعضاء کے عطیہ کو فروغ دیں، اپنے اعضاء اور بافتوں کے عطیہ کا عہد کریں اور زندگی بچانے والی اس تحریک کا حصہ بنیں۔

اس موقع پر ، عوامی بیداری میں اضافے، ڈیجیٹل تبدیلی اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے بھارت میں اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری کے نظام کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کئی اہم اقدامات کا آغاز کیا گیا۔
ان اقدامات کی قیادت کرتے ہوئے ، صحت و خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے ’جُگ جُگ جیو ابھیان‘ کا آغاز کیا۔ یہ ملک گیر عوامی بیداری مہم ہے، جس کا مقصد اعضاء کے عطیہ کو زندگی بچانے والے عمل کے طور پر فروغ دینا اور اس پیغام کو عام کرنا ہے کہ عطیہ دہندگان کی میراث ، ان کے عطیہ کردہ اعضاء اور بافتیں حاصل کرنے والوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ اس مہم کا مقصد ، مسلسل عوامی رابطے اور برادری کی شمولیت کے ذریعے ملک کے ہر گاؤں تک اعضاء کے عطیہ کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہے۔
مرکزی وزیر نے ’ای-پرتیاروپَن‘ کا بھی آغاز کیا، جو ایک متحدہ، محفوظ، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی قومی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ یہ پلیٹ فارم اسپتالوں، ڈاکٹروں، عطیہ دہندگان، اعضاء حاصل کرنے والوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک مربوط اور آسان نیٹ ورک کے ذریعے ڈیجیٹل طور پر جوڑتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے رجسٹریشن، ویٹ لسٹ مینجمنٹ ، اعضاء کی تقسیم، نگرانی اور عوامی معلومات سے متعلق خدمات کو ایک ہی مربوط ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام زیادہ مؤثر، شفاف اور ٹیکنالوجی سے تقویت یافتہ اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری پروگرام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ، نئی این او ٹی ٹی او موبائل ایپ کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد شہریوں، پیوند کاری کے ماہرین، اسپتالوں اور منتظمین کو اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری سے متعلق خدمات اور معلومات تک آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔
ایک اہم پالیسی اقدام کے طور پر دماغی موت کی تصدیق سے متعلق قومی رہنما خطوط اور باہمی تبادلے کے ذریعے پیوند کاری (سویپ ٹرانسپلانٹیشن) سے متعلق قومی رہنما خطوط بھی جاری کیے گئے۔ یہ رہنما خطوط پیوند کاری سے وابستہ ماہرین کے لیے عملی طریقۂ کار فراہم کرتے ہیں اور ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک مضبوط، اخلاقی اور اعضاء کے عطیہ و پیوند کاری کے مؤثر پروگرام نافذ کرنے میں مدد فراہم کریں گے۔ ان رہنما خطوط سے قومی پیوند کاری کے نظام کو مزید مستحکم بنانے اور ملک بھر میں محفوظ، مساوی اور اعلیٰ معیار کی پیوند کاری کی سہولیات تک وسیع تر رسائی کو ممکن بنانے کی توقع ہے۔

اس موقع پر این او ٹی ٹی او کی سالانہ رپورٹ 26-2025 ء بھی جاری کی گئی، جس میں بھارت کے اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری پروگرام کے تحت حاصل کی گئی پیش رفت کا جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 ء میں 20,138 اعضاء کی پیوند کاری کی گئی، جو ایک سال میں اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ تعداد 2013 ء میں کی گئی 4,990 پیوند کاریوں کے مقابلے میں چار گنا زیادہ ہے، جب کہ 2024 ء میں کی گئی 18,911 پیوند کاریوں کے مقابلے میں ، اس میں 6.5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ بھارت مجموعی اعضاء کی پیوند کاری کے معاملے میں دنیا میں تیسرے مقام پر برقرار ہے، جب کہ زندہ عطیہ دہندگان کے اعضاء کی پیوند کاری میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن پر ہے۔وفات پا چکے عطیہ دہندگان کے اعضاء کی پیوند کاری میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2013 ء میں 837 سے بڑھ کر 2025 ء میں 3,526 ہو گئی، یعنی اس میں چار گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔سال کے دوران 2.58 لاکھ سے زائد شہریوں نے اپنے اعضاء اور بافتوں کے عطیہ کا عہد کیا، جو قومی تحریک میں بڑھتی ہوئی عوامی بیداری اور شرکت کی عکاسی کرتا ہے۔ سال 2025 ء کے اہم اعداد و شمار ذیل میں دیئے گئے ہیں۔

اس موقع پر این او ٹی ٹی او ای-نیوز لیٹر کے تازہ ترین شمارے کا بھی اجراء کیا گیا، جس میں سال کے دوران ، این او ٹی ٹی او، علاقائی اعضاء و بافت پیوند کاری تنظیموں (آر او ٹی ٹی اوز) اور ریاستی اعضاء و بافت پیوند کاری تنظیموں (ایس او ٹی ٹی اوز) کی سرگرمیوں، کامیابیوں اور بہترین طریقۂ کار کو اجاگر کیا گیا ہے۔

تقریبات کے ایک حصے کے طور پر، ملک میں اعضاء کے عطیہ اور پیوند کاری کی خدمات کو مضبوط بنانے میں نمایاں تعاون کے لیے ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، علاقائی اعضاء و بافت پیوند کاری تنظیموں (آر او ٹی ٹی اوز)، اسپتالوں، پیوند کاری کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقین کو قومی اعضاء عطیہ ایوارڈز پیش کیے گئے۔ پی جی آئی ایم ای آر، چنڈی گڑھ کو شمالی خطے کی بہترین علاقائی اعضاء و بافت پیوند کاری تنظیم (آر او ٹی ٹی او) کا ایوارڈ دیا گیا۔ تمل ناڈو کو سب سے زیادہ وفات پا چکے اعضاء کے عطیہ دہندگان کا ریکارڈ درج کرنے پر بہترین ریاست کے طور پر تسلیم کیا گیا، جب کہ آسام کو شمال مشرقی خطے کی بہترین ریاست کا ایوارڈ دیا گیا۔ دلّی کو بہترین مرکز کے زیر انتظام علاقے کا اعزاز دیا گیا۔ قومی اعضاء کے عطیہ پروگرام کو آگے بڑھانے میں مثالی کوششوں کے اعتراف میں اعضاء کی پیوند کاری اور اعضاء کے حصول میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اسپتالوں، پیوند کاری کے ماہرین اور دیگر متعلقہ فریقوں کو بھی ایوارڈز پیش کیے گئے۔
اس تقریب میں وفات پا چکے اعضاء کے عطیہ دہندگان کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا گیا اور ان کے اہلِ خانہ کی غیر معمولی سخاوت کو تسلیم کیا گیا، جن کے بے لوث فیصلوں نے ہزاروں مریضوں کو زندگی کا نیا موقع فراہم کیا ہے۔ ملک بھر سے تعلق رکھنے والے عطیہ دہندگان کے اہلِ خانہ کو انسانیت کے لیے ، ان کے گراں قدر تعاون کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔

پس منظر
اعضاء کے عطیہ کا بھارتی دن ہر سال 3 اگست ، 1994 ء کو نئی دلّی کے ایمس میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری قانون (ٹی ایچ او اے) 1994 کے نفاذ کے بعد ، بھارت میں کی گئی دل کی پہلی کامیاب پیوند کاری کی یاد میں منایا جاتا ہے۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – م م - ع ا )
U.No. 1195
(रिलीज़ आईडी: 2293816)
आगंतुक पटल : 14