سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
حکومت: ایم ایس ایکٹ 2013 کے تحت تازہ سروے میں کسی بھی دستی صفائی کارکن کی نشاندہی نہیں ہوئی
نمستے اسکیم کے تحت ملک بھر میں 89,915 سیور اور سیپٹک ٹینک کارکنوں کی توثیق کی گئی
प्रविष्टि तिथि:
02 AUG 2026 4:42PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے دستی صفائی کے عمل کے مکمل خاتمے اور سیور و سیپٹک ٹینک کارکنوں (ایس ایس ڈبلیوز) کی حفاظت، وقار اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ دستی صفائی کارکنوں کے روزگار پر پابندی اور ان کی بازآبادکاری ایکٹ، 2013 (ایم ایس ایکٹ، 2013) کے تحت ملک کے تمام اضلاع میں کیے گئے تازہ سروے میں کسی بھی دستی صفائی کارکن کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت کے وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے راجیہ سبھا میں رکن پارلیمنٹ ڈیرک اوبرائن کے سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ نمستے اسکیم (نیشنل ایکشن فار میکانائزڈ سینی ٹیشن ایکو سسٹم)، جو 2023-24 میں شروع کی گئی، کا مقصد میکانائزیشن اور جامع فلاحی اقدامات کے ذریعے سیور اور سیپٹک ٹینک کارکنوں کی حفاظت اور وقار کو یقینی بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں 89,915 سیور اور سیپٹک ٹینک کارکنوں کی توثیق کی جا چکی ہے، جبکہ ریاست وار تفصیلات ایوان کی میز پر رکھ دی گئی ہیں۔
تحریری جواب میں مزید بتایا گیا کہ حکومت نمستے اسکیم کے تحت پیشہ ورانہ تحفظ کو بہتر بنانے اور میکانائزڈ صفائی کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ ان میں ذاتی حفاظتی ساز و سامان (پی پی ای) کٹس کی تقسیم، پیشہ ورانہ تحفظ کی تربیت، ایمرجنسی ریسپانس سینی ٹیشن یونٹس (ای آر ایس یوز) کو حفاظتی آلات کی فراہمی، صفائی سے متعلق مشینری کی خریداری کے لیے صفائی کارکنوں، ان کے گروپوں اور نجی صفائی خدمات فراہم کرنے والے اداروں (پی ایس ایس اوز) کو ابتدائی سرمایہ جاتی سبسڈی، صحت بیمہ کی سہولت، اور سیور و سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک صفائی کی روک تھام سے متعلق ورکشاپس شامل ہیں۔

ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ یکم اکتوبر 2021 کو شروع کیے گئے سوچھ بھارت مشن–اربن (ایس بی ایم-یو) 2.0 میں استعمال شدہ پانی کے انتظام (یوزڈ واٹر مینجمنٹ) کو ایک اہم جزو کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کو مکمل طور پر میکانائزڈ بنا کر ان میں انسانی داخلے کے خطرناک عمل کا خاتمہ کرنا ہے۔
دستی صفائی کے عمل کے اب بھی موجود ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ دستی صفائی کارکنوں کے روزگار پر پابندی اور ان کی بازآبادکاری ایکٹ، 2013 (ایم ایس ایکٹ، 2013) کے تحت غیر صحت بخش بیت الخلاؤں کی تعمیر اور دیکھ بھال ممنوع ہے، جبکہ سیور اور سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک دستی صفائی کے لیے کسی بھی شخص کو ملازمت پر رکھنا یا اس کام میں لگانا بھی قانوناً ممنوع ہے۔ حکومت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اس قانون کی دفعات پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کو کہا ہے۔
************
ش ح ۔ م د ۔ م ص
(U : 1162 )
(रिलीज़ आईडी: 2293500)
आगंतुक पटल : 4