کوئلے کی وزارت
تجارتی کوئلہ کانکنی: آتم نربھر بھارت کی جانب بھارت کے سفر کو توانائی فراہم کرنے والا اہم محرک
प्रविष्टि तिथि:
02 AUG 2026 2:33PM by PIB Delhi
کوئلہ بھارت کی توانائی کی ضروریات کا سب سے بڑا حصہ پورا کرتا ہے۔ یہ ملک کی بنیادی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد فراہم کرتا ہے اور پیدا ہونے والی بجلی کے 70 فیصد سے زیادہ حصے کے لیے ایندھن مہیا کرتا ہے۔ بھارت کے پاس دنیا کے پانچویں بڑے کوئلہ ذخائر موجود ہیں، جن کا تخمینہ تقریباً 4,00,715 ملین ٹن (ایم ٹی) ہے، جبکہ کوئلہ پیدا کرنے اور استعمال کرنے والے ممالک میں بھارت دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ملک بھر میں 350 سے زائد کانوں میں تقریباً پانچ لاکھ کان کن اس کوئلے کی پیداوار میں مصروف ہیں۔
ملکی کوئلہ پیداوار مسلسل دوسرے سال بھی ایک ارب ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔ مالی سال 2024-25 میں پیداوار 1047.52 ملین ٹن اور مالی سال 2025-26 میں 1040.08 ملین ٹن رہی، جبکہ مالی سال 2014-15 میں یہ 609.18 ملین ٹن تھی۔ اس نمایاں اضافے کا بڑا حصہ کیپٹیو اور تجارتی کوئلہ بلاکس سے حاصل ہوا، جن کا قومی پیداوار میں حصہ مالی سال 2021-22 کے 10.9 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 20.2 فیصد ہو گیا۔
سن 2014 میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے 1993 سے 2012 کے درمیان الاٹ کیے گئے 218 میں سے 204 کوئلہ بلاکس منسوخ کر دیے، کیونکہ عدالت نے قرار دیا کہ الاٹمنٹ کا عمل یکساں اور معروضی معیار کی عدم موجودگی کے باعث من مانا تھا، اور اس نے واضح کیا کہ شفاف اور نیلامی پر مبنی نظام ناگزیر ہے۔
اس کے جواب میں کوئلہ کانیں (خصوصی دفعات) ایکٹ، 2015 نافذ کیا گیا، جس نے کوئلہ بلاکس کی ازسرِنو الاٹمنٹ کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم کی، جبکہ نیلامی کا پہلا مرحلہ دسمبر 2014 میں شروع کیا گیا۔ 2015 سے 2020 کے درمیان نیلامی کے دس مراحل اور الاٹمنٹ کے نو مراحل کے ذریعے 76 کوئلہ کانوں کو دوبارہ پیداواری عمل میں شامل کیا گیا۔
18 جون 2020 کو وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن اور آتم نربھر بھارت مشن کے تحت تجارتی کوئلہ کان کنی کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، جس کے ذریعے مسابقتی بنیادوں پر کوئلہ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی اور عوامی شعبے سے باہر کے اداروں کے لیے بھی اس شعبے میں شرکت کے دروازے کھول دیے گئے۔ اب کامیاب بولی دہندہ بازار میں طے ہونے والی قیمتوں پر کسی بھی شعبے کے کسی بھی صارف کو کوئلہ فروخت کر سکتا ہے۔ کیپٹیو استعمال کی پابندی ختم کر دی گئی ہے اور کوئلے کے استعمال کے طریقے پر بھی کوئی قدغن باقی نہیں رہی۔
فی ٹن مقررہ سابقہ محصول کے نظام کی جگہ محصول میں شراکت کے ماڈل نے لے لی، جس کے تحت بولی دہندہ حکومت کو ادا کیے جانے والے محصول کے فیصد کا تعین کرتا ہے۔ یہ حصہ قومی کوئلہ اشاریے سے منسلک ہے، تاکہ قوم کو حاصل ہونے والا مالی فائدہ کوئلے کی حقیقی قدر کے مطابق بڑھتا رہے۔ اہلیت کے معیار کو بھی نمایاں طور پر وسعت دی گئی ہے۔ اب کان کنی کا سابقہ تجربہ لازمی نہیں رہا، مشترکہ منصوبے اور کنسورشیم بھی حصہ لے سکتے ہیں، جبکہ خودکار راستے کے ذریعے 100 فیصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
جون 2020 سے اب تک تجارتی بنیادوں پر 14 مراحل میں 141 کوئلہ کانوں کی نیلامی کی جا چکی ہے، جن کی مجموعی اعلیٰ درجہ بندی شدہ پیداواری صلاحیت 366.35 ملین ٹن سالانہ ہے۔ ان نیلامیوں میں اوسط محصولی شراکت 24.17 فیصد طے ہوئی، جو مقررہ کم از کم 4 فیصد شرح سے تقریباً چھ گنا زیادہ ہے۔ ان میں سے 123 کوئلہ کانیں نجی شعبے کے اداروں کو الاٹ کی گئی ہیں، جبکہ کامیاب بولی دہندگان میں 44 ایسے ادارے بھی شامل ہیں جنہوں نے اس سے قبل کبھی کوئلہ کان کنی نہیں کی تھی۔
مالی سال 2025-26 میں کیپٹیو اور تجارتی کوئلہ بلاکس کی مشترکہ پیداوار تقریباً 210.46 ملین ٹن رہی، جو پہلی مرتبہ 200 ملین ٹن کی حد سے تجاوز کر گئی۔ ایک دہائی قبل یہ پیداوار 28.83 ملین ٹن تھی، جو اس مدت کے دوران تقریباً 22 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو کو ظاہر کرتی ہے۔ ان میں سے تجارتی کوئلہ کانوں کی پیداوار مالی سال 2025-26 میں تقریباً 26.12 ملین ٹن رہی، جبکہ 23 کانیں عملی طور پر پیداواری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں (جنہیں کان کھولنے کی اجازت حاصل ہو چکی ہے)۔ مکمل پیداواری صلاحیت حاصل ہونے پر اب تک نیلام کیے گئے بلاکس سے سالانہ تقریباً 47,000 کروڑ روپے کی آمدنی، تقریباً 48,756 کروڑ روپے کے سرمایہ جاتی اخراجات اور تقریباً 4,75,000 افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
سرکاری خزانے کو حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی اسی نوعیت کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ پریمیم سے حاصل ہونے والی آمدنی مالی سال 2014-15 کے 461 کروڑ روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں 5,553 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جو تقریباً 26 فیصد کی مرکب سالانہ شرحِ نمو کی عکاسی کرتی ہے۔ اس آمدنی سے مرکزی خزانے کے ساتھ ساتھ کوئلہ پیدا کرنے والی ریاستوں کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔
اس وقت بنیادی توجہ اس امر پر مرکوز ہے کہ نیلام کی گئی ہر کوئلہ کان کو جلد از جلد پیداواری مرحلے میں لایا جائے۔ کاروبار میں آسانی کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اقدامات کے نتیجے میں کوئلہ بلاکس کو فعال بنانے کے لیے درکار منظوریوں کے عمل کو سادہ اور مختصر بنایا گیا ہے، جس کے باعث پیداواری عمل شروع کرنے کی مقررہ مدت کم کر دی گئی ہے۔ مکمل طور پر دریافت شدہ بلاکس کے لیے یہ مدت 51 ماہ سے کم کر کے 40 ماہ اور جزوی طور پر دریافت شدہ بلاکس کے لیے 66 ماہ سے کم کر کے 52 ماہ کر دی گئی ہے (یہ ترمیم اس وقت جاری 15ویں مرحلے سے نافذ العمل ہے)۔
جون 2020 سے اب تک ہر تجارتی کوئلہ بلاک کھلی نیلامی کے ذریعے الاٹ کیا گیا ہے۔ یہ اصلاحات شفافیت، مسابقت اور سرکاری و نجی شعبے کے درمیان مساوی مواقع کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ ان اصلاحات کے ذریعے ملک کی توانائی کی سلامتی کو مضبوط بنایا جا رہا ہے، بجلی اور فولاد کی صنعتوں کو تقویت مل رہی ہے، اور بھارت کو آتم نربھر بھارت کے ہدف کی جانب مزید تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
******
ش ح۔ ش ا ر۔ ول
Uno-1155
(रिलीज़ आईडी: 2293418)
आगंतुक पटल : 11