ٹیکسٹائلز کی وزارت
ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر جناب گری راج سنگھ نے 'سی سی آئی' (دی کاٹن کارپوریشن آف انڈیا) کے 56ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ہندوستان کے کاٹن (کپاس) ایکو سسٹم کی یکسر تبدیلی کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا
کپاس کے کسانوں کو بروقت ہدایات کی فراہمی کے لیے 'کپاس درشن' بلیٹن کا اجرا
سائنسی اور آلودگی و ملاوٹ سے پاک کپاس کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے کسانوں اور 'ایف پی اوز' (فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز) میں جدید زرعی آلات کی تقسیم
معیار کی پاسداری، مارکیٹ تک رسائی اور ماحول دوست کپاس کی کاشت کے طریقوں کو مضبوط بنانے کے لیے چار مفاہمت ناموں پر دستخط
प्रविष्टि तिथि:
01 AUG 2026 7:13PM by PIB Delhi
حکومتِ ہند کی ٹیکسٹائل کی وزارت کے تحت ایک سرکاری شعبے کے ادارے (پی ایس یو)، دی کاٹن کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (سی سی آئی) نے آج چھترپتی سمبھاجی نگر، مہاراشٹر میں مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل جناب گری راج سنگھ کی موجودگی میں اپنا 56 واں یومِ تاسیس منایا۔
اس پروگرام میں مہاراشٹر حکومت کے وزیر برائے سماجی انصاف جناب سنجے شرساٹ، مہاراشٹر حکومت کے وزیر برائے ٹیکسٹائل جناب سنجے ساؤکارے، مہاراشٹر حکومت کے وزیر برائے او بی سی، ڈیری ڈیولپمنٹ، قابلِ تجدید توانائی و معذورں کی فلاح و بہبود جناب اتل ساوے، جوائنٹ سکریٹری (فائبر)، ٹیکسٹائل کمشنر، حکومتِ ہند اور حکومتِ مہاراشٹر کے دیگر سینئر حکام، آئی سی اے سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، محققین، سائنسدانوں، ٹیکسٹائل انڈسٹری کے نمائندوں، فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز ( ایف پی اوز ) اور کپاس کے کسانوں نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مرکزی وزیر برائے ٹیکسٹائل جناب گیری راج سنگھ نے کپاس کو ہندوستان کی دیہی معیشت، خود انحصاری اور زرعی خوشحالی کا سنگِ بنیاد قرار دیا، اور کپاس کے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ سی سی آئی (دی کاٹن کارپوریشن آف انڈیا) کی کاٹن سیزن 2025-26 کے دوران حاصل کردہ کامیابیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، مرکزی وزیر نے بتایا کہ سی سی آئی نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ایم ایس پی خرید کی کارروائیوں میں سے ایک کو انجام دیا، جس کے تحت تقریباً 24 لاکھ کسانوں سے 522 لاکھ کوئنٹل سے زائد بیج والی کپاس خریدی گئی، جبکہ 41530 کروڑ روپے براہِ راست کسانوں کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے۔


وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ کپاس کے سیزن 2026-27 کے لیے بیج والی کپاس کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) میں تقریباً 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ملک بھر کے کپاس پیدا کرنے والے کسانوں کو ان کی فصل کا منافع بخش معاوضہ اور آمدنی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔ حال ہی میں منظور شدہ 'کاٹن پروڈکٹیوٹی مشن – کپاس کانتی' کا حوالہ دیتے ہوئے، جناب گری راج سنگھ نے کہا کہ پانچ سالوں میں 5659 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ یہ مشن ایک انقلابی اقدام ہے، جس کا مقصد کپاس کی پیداوار اور معیار کو بہتر بنانا، کپاس کی پروسیسنگ کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانا، "کستوری کاٹن بھارت" کے ذریعے برانڈنگ اور پیداواری شفافیت (ٹریسیبلٹی) کو فروغ دینا، اور پائیدار نیز موسم کے اثرات کا مقابلہ کرنے والی کپاس کی کاشت کے طریقوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ "کستوری کاٹن بھارت" بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفکیشن، شفافیت اور پائیداری کے معیار کے ذریعے اعلیٰ درجے کی ہندوستانی کپاس کو "فارم سے فیشن اور عالمی منڈی" تک لے جانے کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
کپاس کی عالمی منڈی میں ہندوستان کے قائدانہ کردار کو مضبوط کرنے اور "وکست بھارت 2047@" (ترقی یافتہ ہندوستان 2047) کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے، جناب گیری راج سنگھ نے دی کاٹن کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ ( سی سی آئی ) کو قوم کے لیے 56 سالہ شاندار خدمات مکمل کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت، کسانوں، صنعت اور تحقیقاتی اداروں کی مشترکہ کوششیں ہندوستان کے کاٹن سیکٹر کی ترقی کو تیز کریں گی۔
اس موقع پر کسانوں کو موسم، منڈیوں، سائنسی کاشت کاری، معیار کی دیکھ بھال اور مختلف حکومتی اقدامات کے بارے میں بروقت معلومات کی فراہم کے لیے 'کپاس درشن' بلیٹن کا اجرا بھی کیا گیا۔ ملاوٹ سے پاک کپاس کی پیداوار، 'کپاس کسان موبائل ایپ' اور 'کاٹن پروڈکٹیوٹی مشن – کپاس کانتی' پر معلومات سے بھرپور آڈیو ویژوئل پریزنٹیشنز بھی دکھائی گئیں۔
سائنسی، پائیدار اور ملاوٹ سے پاک کپاس کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے کسانوں اور 'فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز' ( ایف پی اوز ) میں جدید زرعی آلات تقسیم کیے گئے، جن میں 'کپاس پلکر' (روئی چننے والی) مشینیں، 'کاٹن اسٹالک شریڈر' (کپاس کے پودوں کی کٹائی اور باریک کرنے والی) مشینیں اور 'کنٹامینیشن کنٹرول کٹس' (آلودگی و ملاوٹ سے بچاؤ کے سامان) شامل تھے۔


پروگرام کی ایک اہم پیش رفت چار مفاہمت ناموں پر دستخط تھے جن کا مقصد ہندوستان کے کپاس کے ایکو سسٹم کو مضبوط بنانا تھا:
- سی سی آئی اور آئی سی اے آر – سی آئی آرسی اوٹی نے گننگ اور پریسنگ کے شعبے میں صلاحیتوں کو بڑھانے اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے گئے۔
- سی سی آئی اور جی آئی زیڈکے درمیان پائیداری، معیار کی ضمانت، اور شفافیت (ٹریسیبلٹی) کو فروغ دے کر "کستوری کاٹن بھارت" کے ذریعے کپاس کے کسانوں کی مارکیٹ تک رسائی بڑھانے کی شراکت داری طے پائی۔
- سی آئی ٹی آئی ، آئی سی اے سی اور میراگو / جیوکلارا نے ماحول دوست اور پائیدار کپاس کی کاشت کے طریقوں کے ذریعے کاربن کریڈٹ پیدا کرنے کو فروغ دینے کے لیے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کیے۔
- ٹیکس پروسل اور منجیت کاٹن پرائیویٹ لمیٹڈ نے "کستوری کاٹن بھارت" پروگرام کے تحت 30000 کپاس کی گانٹھوں (20000 لمبے ریشے والی اور 10000 انتہائی لمبے ریشے والی کپاس) کی پیداوار اور تصدیق کے لیے تعاون کا معاہدہ کیا، جس کا مقصد پیداوار کی سچائی کی تصدیق (ٹریسیبلٹی)، معیاری ضوابط کی پاسداری، اور ایک اعلیٰ معیار کی شفاف کاٹن سپلائی چین تیار کرنا ہے۔
تقریبات کا آغاز کسانوں کے معلوماتی و تربیتی پروگرام سے ہوا، جس میں 'کاٹن اسٹالک شریڈر' (کپاس کے پودوں کی کٹائی اور باریک کرنے والی) مشینوں، 'کپاس پلکر' (روئی چننے والی) مشینوں کے استعمال، آلودگی اور ملاوٹ سے بچاؤ کے طریقوں پر مبنی فلمیں دکھائی گئیں، اور 'کاٹن پروڈکٹیوٹی مشن – کپاس کانتّی' سے متعلق آگاہی نشستیں منعقد کی گئیں۔ کسانوں میں فصل کی دیکھ بھال کے سائنسی طریقوں کو فروغ دینے کے لیے 'پنک بال ورم' (گلابی سنڈی) کے انسداد پر ایک موسیقانہ پیشکش (نغمہ) بھی پیش کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وزارتِ ٹیکسٹائل (وزارتِ پارچہ بافی) کی جوائنٹ سکریٹری (فائبر) محترمہ پدمِنی سنگلا (آئی اے ایس) نے کہا کہ ہندوستان کا کاٹن (کپاس) سیکٹر اختراع، پائیداری اور پیداوار میں اضافے کی بدولت ایک انقلابی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'کاٹن پروڈکٹیوٹی مشن – کپاس کانتّی' سے پیداواری صلاحیت تیز ہوگی، 'کستوری کاٹن بھارت' کے ذریعے عالمی سطح پر مقابلے کی صلاحیت مضبوط ہوگی، اور کپاس کی پوری ویلیو چین میں پائیدار قدرتی ریشوں کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ ٹیکسٹائل پوری کاٹن ویلیو چین— یعنی فارم (کھیت) سے فائبر (ریشے)، فائبر سے فیبرک (کپڑے) اور فیبرک سے فیشن— کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسان دوست ایم ایس پی کی کارروائیوں اور ڈیجیٹل اقدامات نے کپاس کی خریداری میں شفافیت، رسائی اور کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنایا ہے، جبکہ پیداوار میں اضافہ، معیار کی ضمانت اور عالمی سطح پر برانڈنگ ہندوستان کی کاٹن کی نمو کی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ رہیں گے۔
معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے، سی سی آئی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر، جناب للت کمار گپتا نے شفاف، ٹیکنالوجی سے لیس اور کسان دوست اقدامات کے ذریعے گزشتہ 56 سالوں کے دوران کپاس کے کسانوں کے مفادات کی حفاظت میں کارپوریشن کے شاندار سفر پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کسانوں کو ان کی فصل کی منافع بخش قیمتیں یقینی بنانے، معیاری کپاس کی پیداوار کو فروغ دینے اور "وکست بھارت 2047@" کے وژن میں اپنا تعاون دینے کے لیے سی سی آئی کے عزم کا اعادہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ ف ا۔ن م۔
U-1120
(रिलीज़ आईडी: 2293110)
आगंतुक पटल : 8