نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
کابینہ نے نئی کھیلو انڈیا اسکیم اور نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز (اے این ایس ایف) کی امداد میں اضافے کو منظوری دی
प्रविष्टि तिथि:
31 JUL 2026 4:30PM by PIB Delhi
وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے کھیلو انڈیا اسکیم کے توسیع شدہ ورژن اور قومی کھیل فیڈریشنوں(اے این ایس ایف) کی امداد میں اضافے کو منظوری دی ہے۔ 27-2026 سے31-2030 کی مدت کے لیے ان دونوں منصوبوں پر مجموعی طور پر 36,441 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ منظوری حکومت کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ نوجوانوں کی ترقی اور قوم کی تعمیر کے لیے کھیلوں کی طاقت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔
یہ آزادی کے بعد ملک کا سب سے بڑا کھیلوں کی ترقی کا پروگرام ہے۔ ملک کے نوجوانوں کی کھیلوں سے وابستہ امنگوں کو اس سے زبردست فروغ ملے گا اور آنے والی دہائی میں اس کے دور رس اور تبدیلی لانے والے اثرات مرتب ہوں گے۔
منظور شدہ بجٹ گزشتہ کھیلو انڈیا اسکیم کے مقابلے میں تقریباً آٹھ گنا زیادہ ہے، جو حکومت کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ کھیلوں کو نوجوانوں کی ترقی، قوم کی تعمیر اور ہندوستان کو عالمی کھیلوں کی طاقت بنانے کا ایک اہم ستون بنایا جائے۔
نظرثانی شدہ اسکیم کا مقصد ہر باصلاحیت نوجوان ہندوستانی کھلاڑی کے لیے ایک مربوط راستہ فراہم کرنا ہے، جو اسکول کے میدانوں اور گاؤں کے کھیل کے میدانوں سے شروع ہو کر اولمپک تمغے کے حصول تک پہنچے۔ اس اسکیم کے ذریعے یہ یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی کہ جغرافیائی حدود، معاشی پس منظر یا مواقع کی کمی کی وجہ سے کوئی بھی کھیلوں کا ہنر پوشیدہ نہ رہ جائے۔
کھیلو بھارت نیتی 2025 اور قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے وژن کے مطابق یہ اسکیم کھیلوں کو تعلیم، فٹنس، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ کارکردگی کی تربیت کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔ اس کے ذریعے ہندوستان کے طویل مدتی کھیلوں کے عزائم کے لیے مضبوط بنیاد رکھی جائے گی، جن میں 2030 دولت مشترکہ کھیلوں اور اولمپک و پیرا لمپک کھیلوں کی میزبانی کے لیے ملک کی کوششیں بھی شامل ہیں۔
ہر باصلاحیت نوجوان کے لیے بہترین کارکردگی تک پہنچنے کا راستہ
پہلی بار ایک جامع کھلاڑی ترقیاتی نظام تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو ہر مرحلے پر مدد فراہم کی جائے گی، جس میں صلاحیتوں کی شناخت، سائنسی تربیت، بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت اور اولمپک کی تیاری شامل ہیں۔
اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں ایک مربوط کھیلوں کا نظام قائم کیا جائے گا، جس میں قومی مراکز برائے عمدگی ( نیشنل سینٹرز آف ایکسیلینس -این سی او ای)، کھیلو انڈیا مراکز برائے عمدگی (کھیلو انڈیا سینٹرز آف ایکسیلینس -کے آئی سی او ای)، ایس اے آئی ٹریننگ سینٹر (ایس ٹی سی)، کھیلو انڈیا ایکریڈیٹیڈ اکیڈمیاں (کے آئی اے ای)، کھیلو انڈیا سینٹر (کے آئی سی) اور یوتھ اسپورٹس کمپنیز (وائی ایس سی) شامل ہوں گی۔ یہ تمام ادارے مل کر ملک بھر میں عالمی معیار کی کوچنگ، کھیلوں کی سائنسی معاونت اور جدید بنیادی سہولیات فراہم کریں گے۔
اسکولوں میں کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت نے دو نئی پہل شروع کی ہے، جن میں کھیلو انڈیا فیڈر اسکول (کے آئی ایف ایس) اور کھیلو انڈیا اتکرشٹ ودیالیہ (کے آئی یو وی) شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے کھیلوں کو روایتی تعلیمی نظام کے ساتھ مربوط کیا جائے گا اور بچوں میں ابتدائی عمر سے ہی صلاحیتوں کی شناخت کرکے ان کی منظم تربیت اور پرورش ممکن ہو سکے گی۔
ہندوستان میں کھلاڑیوں کا پول تقریباً دس گنا تک بڑھے گا
اس اسکیم کے تحت ایک بڑی اصلاح کے طور پر موجودہ کھیلو انڈیا ایتھلیٹس پروگرام کے ساتھ ابھرتے ہوئے کھیلو انڈیا ایتھلیٹس (ای-کے آئی ای) کا نیا زمرہ تشکیل دیا گیا ہے۔ اس سے کھلاڑیوں کی منظم ترقی کے نظام میں تقریباً دس گنا اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں ہزاروں مزید نوجوان کھلاڑی پیشہ ورانہ کوچنگ، سائنسی معاونت اور طویل مدتی رہنمائی سے مستفید ہو سکیں گے۔
ملک بھر میں صلاحیتوں کی شناخت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صلاحیت شناخت و ترقیاتی کمیٹیاں، زونل کمیٹیاں، ٹیلنٹ اسکاؤٹس، اعلیٰ کارکردگی کے ڈائریکٹروںاور اعلیٰ کارکردگی کے مینیجروں پر مشتمل ایک جامع نظام قائم کیا جائے گا جو باصلاحیت کھلاڑیوں کی مسلسل شناخت، نگرانی اور ترقی کو یقینی بنائے گا۔
اس اسکیم کے ذریعے نچلی سطح کے مقابلوں سے کھیلو انڈیا اور اس کے بعد ٹارگٹ اولمپک پوڈیم اسکیم (ٹی او پی ایس -ٹاپس) تک کھلاڑیوں کے لیے ترقی کا واضح راستہ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ مستحق کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی تربیت، بین الاقوامی تجربہ اور جامع معاونت حاصل ہو سکے اور وہ اعلیٰ ترین سطح پر تمغوں کے لیے مقابلہ کر سکیں۔
مزید مقابلے، زیادہ مواقع
اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ کھیلوں میں عمدگی کا انحصار باقاعدہ مقابلوں پر ہوتا ہے، نظرثانی شدہ اسکیم کے تحت ہندوستان کے داخلی کھیلوں کے مقابلہ جاتی نظام کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے قومی چیمپئن شپ کے ساتھ ساتھ اسکول، یونیورسٹی، علاقائی اور کھیلوں سے متعلق مخصوص لیگز کی بھی معاونت کی جائے گی تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل مقابلہ جاتی تجربہ حاصل ہو سکے۔
اسکیم میں خواتین کھلاڑیوں، پیرا ایتھلیٹس، مقامی و روایتی کھیلوں اور امن، شمولیت و برادری کی ترقی کے ایک ذریعہ کے طور پر کھیلوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت قومی کھیلوں کے انعقاد اور ہندوستان میں بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کے لیے بھی معاونت فراہم کی جائے گی۔
زیادہ فٹ اور صحت مند ہندوستان کی تعمیر
فٹ انڈیا مہم کو نمایاں طور پر وسعت دی جائے گی تاکہ فٹنس کو خاص طور پر نوجوانوں میں ملک گیر تحریک کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔ اس کے تحت فعال طرزِ زندگی، خواتین کی کھیلوں میں شرکت، سرحدی اور دور دراز علاقوں تک رسائی اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے خلاف کھیلوں پر مبنی اقدامات کو فروغ دینے کے لیے مہمات چلائی جائیں گی، جس سے کھیلوں کو سماجی تبدیلی کا ایک مؤثر ذریعہ بنایا جائے گا۔
کوچز، ٹیکنالوجی اور اختراع میں سرمایہ کاری
اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کھلاڑی عالمی معیار کی معاونت کے بغیر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکتے، حکومت قومی کوچ ایکریڈیٹیشن بورڈ (این سی اے بی) قائم کرے گی، جو کوچنگ کی اہلیت کو معیاری بنانے، پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے اور ملک بھر میں کوچوں و معاون عملے کی صلاحیت میں اضافہ کرنے کا کام کرے گا۔
اس اسکیم کے تحت ایک متحدہ ڈیجیٹل اسپورٹس پلیٹ فارم بھی تیار کیا جائے گا، جس میں کھلاڑیوں کے ڈیٹا بیس، کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ، مقابلے، کوچنگ وسائل، صلاحیتوں کا جائزہ، فنڈنگ اور فٹ انڈیا میں شرکت کو مربوط کیا جائے گا۔ یہ پلیٹ فارم اعداد و شمار پر مبنی منصوبہ بندی، شفاف حکمرانی اور کھلاڑیوں کی ذاتی نوعیت کی ترقی کو ممکن بنائے گا۔
کھیلوں میں عمدگی کے لیے مضبوط شراکت داری
حکومت نجی اکیڈمیوں، کارپوریٹ شراکت داروں اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کرے گی تاکہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے، صلاحیتوں کی نشوونما اور کھلاڑیوں کی معاونت کے شعبوں میں سرمایہ کاری، اختراع اور مہارت سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ اس طرح عوامی اور نجی شراکت داری کے ذریعے ایک حقیقی قومی کھیلوں کا نظام تشکیل دیا جائے گا۔
ہندوستان کے عالمی کھیلوں کے عزائم کی حمایت
نظرثانی شدہ کھیلو انڈیا اسکیم کی تکمیل کے لیے حکومت نے 31-2026 کی مدت کے لیے قومی کھیل فیڈریشن کو معاونت (اسسٹینس ٹو نیشنل اسپورٹس فیڈریشنز -اے این ایس ایف) اسکیم کو بھی مزید مضبوط بنانے کو منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ہندوستانی کھلاڑیوں اور ٹیموں کو کوچنگ، کھیلوں کی سائنس، جدید آلات، بین الاقوامی تجربے، تربیتی کیمپوں، غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے اور بڑے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
یہ اسکیم گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ساتھ کھیلوں کے تعاون کو بھی فروغ دے گی اور ہندوستان کے مقامی و روایتی کھیلوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد فراہم کرے گی۔
وکست بھارت کے لیے قومی مشن
نظرثانی شدہ کھیلو انڈیا اسکیم ہندوستان کے کھیلوں کے مستقبل میں کی جانے والی سب سے بڑی سرمایہ کاری میں سے ایک ہے۔ یہ محض ایک کھیلوں کا پروگرام نہیں بلکہ نوجوان ہندوستانیوں کو مواقع، اعتماد اور بہترین کارکردگی کے لیے بااختیار بنانے کا ایک قومی مشن ہے۔
زمینی سطح کی صلاحیتوں سے لے کر عالمی کھیلوں میں کامیابی تک ایک مربوط راستہ فراہم کرتے ہوئے، اس اسکیم کا مقصد چیمپئن کھلاڑی تیار کرنا، فٹنس کے کلچر کو فروغ دینا، ہندوستان کے کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانا اور وکست بھارت@2047 کے وژن کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے ملک کو دنیا کی سرکردہ کھیلوں کی طاقتوں میں شامل کرنا ہے۔
********
ش ح۔ م م۔ ش ب ن
U-NO-1043
(रिलीज़ आईडी: 2292524)
आगंतुक पटल : 11