بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ملکی سطح پر کنٹینروں کی تیاری

प्रविष्टि तिथि: 31 JUL 2026 3:39PM by PIB Delhi

ایک عالمی شپنگ لائن نے ایک  ہندوستانی کنٹینر ساز ادارے کو شپنگ کنٹینروں کی تیاری کا آرڈر دیا۔ ملک میں تیار کیے گئے نمونہ(پروٹو ٹائپ) کنٹینر کی رونمائی 03 جولائی2026 کو اتر پردیش کے دادری میں کی گئی۔ یہ شپنگ کنٹینر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیار اور حفاظتی ضوابط کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، جن میں بین الاقوامی تنظیم برائے معیارات (آئی ایس او) کی وضاحتیں اور محفوظ کنٹینروں سے متعلق بین الاقوامی کنونشن (سی ایس سی) کے معیارات شامل ہیں۔

حکومت نے بجٹ تقریر27-2026 میں  ہندوستان میں کنٹینر سازی کے لیے 10,000 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ ایک اسکیم کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ملک میں عالمی معیار کا مسابقتی کنٹینر سازی کا ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے۔

مرکزی بجٹ 2026 میں آئندہ پانچ برسوں کے دوران مزید 19 نئی قومی آبی گزرگاہوں کو فعال بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جو اعلان کردہ 111 قومی آبی گزرگاہوں کے مجموعی نیٹ ورک میں شامل ہوں گی۔ ان میں سے 32 قومی آبی گزرگاہیں پہلے ہی مال برداری اور مسافر برداری کے لیے فعال ہیں۔

حکومت نے ملکی جہاز سازی کی صلاحیت، بحری مالیات، شپ یارڈز کی ترقی، مہارتوں کے فروغ اور اصلاحات کو مضبوط بنانے کے لیے 69,725 کروڑ روپے کے ایک جامع پیکیج کو منظوری دی ہے۔ اس پیکیج کے اہم اجزاء درج ذیل ہیں:

جہاز سازی مالی معاونت اسکیم (ایس بی ایف اے ایس)یہ جہاز سازی مالی معاونت پالیسی (ایس بی ایف اے پی) کی توسیع ہے، جس کے لیے 24,736 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ  ہندوستانی شپ یارڈز کو عالمی شپ یارڈز کے مقابلے میں لاگت کے فرق سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

بحری ترقیاتی فنڈ (ایم ڈی ایف)25,000 کروڑ روپے کے اس فنڈ کے ذریعے جہاز سازی اور بحری شعبے کو طویل مدتی مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جس میں 20,000 کروڑ روپے کا بحری سرمایہ کاری فنڈ (ایم آئی ایف) اور 5,000 کروڑ روپے کا شرحِ سود ترغیبی فنڈ (آئی آئی ایف) شامل ہے۔

جہاز سازی ترقیاتی اسکیم (ایس بی ڈی ایس)19,989 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کا مقصد نئے گرین فیلڈ شپ بلڈنگ کلسٹرز قائم کرنا اور موجودہ شپ یارڈز کی استعداد میں اضافہ کرکے  ہندوستان کی جہاز سازی کی پیداواری صلاحیت کو وسعت دینا ہے۔

مزید برآں، چونکہ جہاز سازی کی صنعت میں روزگار پیدا کرنے کا ضرب(ملٹی پلائر) 6.4 ہے، اس لیے ان اسکیموں کے ذریعے براہِ راست اور بالواسطہ روزگار سمیت تقریباً 22 لاکھ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر  جناب سربانند سونووال نے لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

********

ش ح۔  م م۔ ش ب ن

U-NO-1034


(रिलीज़ आईडी: 2292486) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Assamese , Assamese , Telugu