وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ساحلی ماہی گیری سے وابستہ خواتین کے لیے نیلگوں معیشت کی حکمت عملی

प्रविष्टि तिथि: 30 JUL 2026 3:05PM by PIB Delhi

ماہی گیری، مویشی پروری اور دودھ کی صنعت کی وزارت کی جانب سے چلائی جانے والی پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت نیلگوں معیشت کی پالیسی کے دائرہ کار میں خواتین کے روزگار اور معاش کے تقاضوں کو واضح طور پر شامل کیا گیا ہے، جس میں آندھرا پردیش سمیت ساحلی علاقوں کی خواتین پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس اسکیم میں خواتین کو ترجیحی مستفید ہونے والے گروپ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور ماہی گیری و آبی زراعت کے شعبے میں ان کی شمولیت اور بااختیاری کے لیے زیادہ مالی امداد اور مخصوص اقدامات فراہم کیے جاتے ہیں۔ خواتین مستفیدین کو انفرادی فائدہ پر مبنی سرگرمیوں کے لیے حکومت کی جانب سے 60 فیصد تک مالی امداد حاصل کرنے کا حق ہے، جبکہ عام زمرے کے لیے یہ امداد 40 فیصد تک ہے۔ یہ سہولت انفرادی اور اجتماعی دونوں سرگرمیوں پر لاگو ہوتی ہے، جس سے خواتین کے لیے ماہی گیری سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

آندھرا پردیش حکومت نے بتایا ہے کہ آندھرا پردیش فشرمین کوآپریٹو فیڈریشن (اے ایف سی او ایف) نے کوآپریٹو اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ایک حکمت عملی پر مبنی اقدام شروع کیا ہے، جس میں خواتین کی قیادت والی کوآپریٹو تنظیموں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ اس کے تحت آندھرا پردیش کے مختلف علاقوں بشمول نیلور میں فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی او) کے قیام میں سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد اجتماعی کوششوں اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے ماہی کسانوں کو بااختیار بنانا ہے، جبکہ ایف ایف پی اوز کو حکومت ہند کی پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا اور پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) کے تحت دستیاب مالی امداد، بنیادی ڈھانچے، صلاحیت سازی اور دیگر سہولیات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

محکمہ ماہی گیری کی پالیسیاں اور اسکیمیں، جن میں پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) بھی شامل ہے، مچھلی کی پیداوار، پیداواری صلاحیت اور ویلیو چین کو جدید بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کے تحت گہرے سمندر میں ماہی گیری اور مشینی ماہی گیری کے فروغ کو اعلی ترجیح دیتی ہیں۔ روایتی ماہی گیر خواتین کے روزگار کے تحفظ اور استحکام کے لیے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں۔ خواتین مستفیدین کو ماہی گیری کی مختلف سرگرمیوں کے لیے 60 فیصد تک مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس میں گہرے سمندر میں ماہی گیری کے جہازوں کی خریداری بھی شامل ہے، جبکہ عام زمرے کے لیے یہ امداد 40 فیصد تک ہے۔ اس کے علاوہ یہ سبسڈی ماہی گیر خواتین کو آمدنی میں اضافے والی متنوع سرگرمیوں جیسے سمندری گھاس کی کاشت، آرائشی مچھلیوں کی پرورش، دھان کے ساتھ مچھلی کی پرورش، کیج کلچر، مچھلی کی پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کے لیے بھی فراہم کی جاتی ہے، جس سے روزگار کے ذرائع میں تنوع اور مضبوطی کو فروغ ملتا ہے۔

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت محکمہ ماہی گیری تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں بشمول آندھرا پردیش میں ماہی گیری کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے تعاون فراہم کرتا ہے۔ آندھرا پردیش حکومت نے بتایا ہے کہ ریاست میں 66 خواتین ماہی گیر کارکنوں کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کو رجسٹر کیا گیا ہے یا انہیں فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی او) میں تبدیل کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 10 ایف ایف پی اوز کو انتظامی اخراجات اور ایکویٹی گرانٹ کے لیے 69,11,452 روپے جاری کیے گئے ہیں، جس سے وہ دفتری بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، کاروباری ترقی کی سرگرمیاں انجام دینے اور اپنے مالی وسائل کو مضبوط بنانے کے قابل ہو سکیں گی۔ نیلور ضلع میں 6 ماہی گیر خواتین کی کوآپریٹو سوسائٹیوں کو ایف ایف پی اوز میں تبدیل کیا گیا ہے اور اب تک ایک ایف ایف پی او کو ایک مرتبہ دی جانے والی گرانٹ کے طور پر 90,000 روپے منظور کیے گئے ہیں۔

یہ معلومات ماہی گیری،  مویشی پروری اور دودھ کی صنعت کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی۔

 

*****

ش ح۔ ع و۔ ص ج

U.No. 943

 


(रिलीज़ आईडी: 2291725) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , Bengali , Tamil , Telugu