عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

لوک سبھا نے عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 منظور کر لیا


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ترامیم امتحانی بدعنوانیوں کو روکنے اور فوری انصاف کو یقینی بنانے کے لیے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط کریں گی

प्रविष्टि तिथि: 29 JUL 2026 6:02PM by PIB Delhi

لوک سبھا نے آج ایک وسیع بحث کے بعد  عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ترمیمی بل، 2026 کو صوتی ووٹ کے ذریعے منظور کر لیا۔ بحث کا جواب دیتے ہوئے، سائنس و ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ ارضیاتی سائنس اور وزیر اعظم کے دفتر کے  وزیر مملکت، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، جوہری توانائی اور خلا، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ ترامیم پبلک ایگزامنیشنز میں غیر منصفانہ ذرائع کو روکنے اور طلبہ و نوجوانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے قانونی ڈھانچے کو مزید مضبوط کریں گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بھارت سرکار عوامی امتحانی نظام کی سالمیت، شفافیت اور اعتبار کو یقینی بنانے کے لیے عہدبستہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ترامیم تعمیری تجاویز کو شامل کرنے، تجربے سے سیکھنے اور منظم امتحانی جرائم سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے قانون کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بھارت سرکار کی کھلے ذہن کی عکاسی کرتی ہیں۔

وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ عوامی امتحانات (غیر منصفانہ ذرائع کی روک تھام) ایکٹ، 2024 کو یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی)، اسٹاف سلیکشن کمیشن (ایس ایس سی)، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز (آر آر بیز)، انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ پرسنل سلیکشن (آئی بی پی ایس) اور اعلیٰ تعلیم کے داخلوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) سمیت بڑی بھرتی ایجنسیوں کے ذریعے منعقد کیے جانے والے پبلک ایگزامنیشنز میں غیر منصفانہ ذرائع کو روکنے کے لیے ایک جامع قانونی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت پہلے ہی جرائم کو قابلِ دست اندازی، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ مصالحت بنایا جا چکا ہے جس میں سخت تعزیری دفعات شامل ہیں۔

ترمیمی بل کی اہم دفعات کو اجاگر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ غیر منصفانہ ذرائع کا سہارا لینے والے افراد کے لیے سزا کو تین سے پانچ سال قید سے بڑھا کر پانچ سے دس سال کر دیا گیا ہے، جب کہ زیادہ سے زیادہ جرمانہ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ ایسے جرائم میں ملوث سروس فراہم کرنے والوں کے لیے، زیادہ سے زیادہ جرمانہ 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے اور پبلک ایگزامنیشنز منعقد کرنے سے روکنے کی مدت چار سال سے بڑھا کر آٹھ سال کر دی گئی ہے۔ سروس فراہم کرنے والوں کے ڈائریکٹرز اور سینئر انتظامیہ کے لیے بھی سزا کو تین سے دس سال قید سے بڑھا کر پانچ سے دس سال کر دیا گیا ہے، جس میں زیادہ سے زیادہ جرمانہ 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 5 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ یہ بل منظم جرائم کے لیے سزا کو پانچ سے دس سال قید سے بڑھا کر سات سے دس سال کرتا ہے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ 1 کروڑ روپے سے بڑھا کر 10 کروڑ روپے کرتا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ترمیمی بل پبلک ایگزامنیشنز سے متعلق جرائم کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا انتظام کرتا ہے اور چارج شیٹ داخل کرنے کی تاریخ سے دو ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرنے اور تین ماہ کے اندر مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کا تصور کرتا ہے۔ یہ بل خصوصی پبلک پراسیکیوٹرز کی تقرری کا بھی انتظام کرتا ہے اور بھارت سرکار کو قانون کے تحت جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا اختیار دیتا ہے، جس سے منظم امتحانی جرائم کے خلاف تیز اور مؤثر کارروائی یقینی ہوتی ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم کے اس اعلان کا بھی حوالہ دیا جس میں ایک اعلیٰ سطحی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا کہا گیا تھا جس میں ممتاز ماہرین شامل ہوں گے تاکہ عوامی امتحانی نظام کو ”لیک پروف“ بنایا جا سکے اور کہا کہ امتحانی ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے مقصد سے سفارشات پر عمل درآمد میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔

2024 کے ایکٹ کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر موصوف نے کہا کہ اس کی دفعات کے تحت پہلے ہی 52 ایف آئی آر درج کی جا چکی ہیں، جو امتحانی جرائم کے خلاف سخت نفاذ اور فوری کارروائی کے لیے بھارت سرکار کے عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ترامیم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایمان دار اور مستحق طلبہ کو ان کی حقیقی کوششوں کا صلہ ملے جب کہ منظم امتحانی جرائم سے سخت قانونی دفعات اور فوری انصاف کے ذریعے نمٹا جائے۔

گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ترمیمی بل کی منظوری ملک کے عوامی امتحانی نظام کی غیر جانب داری، شفافیت اور اعتبار میں عوامی اعتماد کو مضبوط کرنے کی سمت میں ایک اور اہم قدم ہے جب کہ لاکھوں طلبہ اور ملازمت کے خواہشمندوں کی امنگوں کا تحفظ بھی کیا جا رہا ہے۔

***

(ش ح - ع ا)

U.No. 890


(रिलीज़ आईडी: 2291379) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: Marathi , English , हिन्दी , Gujarati , Tamil