کامرس اور صنعت کی وزارتہ
کامرس اور صنعت کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے کھلونا سیکٹر کی ترقی کے لیے ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے 2032 تک عالمی مارکیٹ میں 5 فیصد حصہ حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا
جناب پیوش گوئل نے کھلونا صنعت کی مینوفیکچرنگ، اختراع اور برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ’’ٹوائے سیکٹر پلے بُک‘‘ کا اجرا کیا
بھارت کی کھلونا صنعت میں مینوفیکچرنگ، اختراع اور برآمدات کو وسعت دینے کے روڈ میپ پر متعلقہ فریقین نے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 9:51PM by PIB Delhi
کامرس اور صنعت کے مر کزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج کھلونا شعبہ کو فروغ دینے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان کیا، جو 2032 تک عالمی کھلونا مارکیٹ میں بھارت کا حصہ 5 فیصد تک پہنچانے کے ہدف کے حصول کے لیے ضروری اقدامات کی نشاندہی کرے گی۔ یہ اعلان نئی دہلی کے ونیجیہ بھون میں صنعت اور داخلی تجارت کے فروغ کے محکمے (ڈی پی آئی آئی ٹی) کے زیر اہتمام اسٹیک ہولڈرز میٹنگ "ٹیم اپ فار ٹوئیز: ڈرائیونگ اسکیل ، انوویشن اینڈ ایکسپورٹس" میں کیا گیا ۔
یہ ٹاسک فورس چھ اہم مقاصد کے حصول کے لیے کام کرے گی، جن میں عالمی ویلیو چین سے انضمام، مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، ویلیو چین میں موجود رکاوٹوں کو دور کرنا، ہنرمند افرادی قوت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا، ڈیزائن اور اختراع کو فروغ دینا، اور کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانا شامل ہیں۔
اس اجلاس میں پالیسی سازوں، صنعتی رہنماؤں، کھلونہ ساز اداروں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، دستکاروں، ڈیزائنرز اور کھلونا صنعت سے وابستہ دیگر اہم فریقین نے شرکت کی۔ اجلاس میں بھارت کی کھلونا صنعت کی مستقبل کی ترقی کی سمت پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اور اسی موقع پر ٹوائے سیکٹر پلے بُک کا بھی اجرا کیا گیا۔
اپنے خطاب میں جناب پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت کی کھلونا صنعت کی نمایاں ترقی دراصل وکست بھارت کی جانب ملک کے وسیع تر سفر کی عکاس ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شعبہ اعلیٰ معیار کی مینوفیکچرنگ، تخلیقی صلاحیت، اختراع اور بھارت کے بھرپور ثقافتی ورثے کو یکجا کرنے کی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں تیار ہونے والے کھلونے اب دنیا بھر کی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے صنعت سے وابستہ تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، عالمی معیار کے معیارات، مقامی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال، مضبوط برانڈ سازی اور عالمی ویلیو چین سے بہتر انضمام کے ذریعے ملک میں کھلونوں کی مکمل مقامی مینوفیکچرنگ کا مضبوط نظام قائم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں۔
اس کے بعد جناب پیوش گوئل نے ٹوائے سیکٹر پلے بُک کا اجرا کیا۔ یہ رہنما دستاویز مینوفیکچررز، اسٹارٹ اپس، ایم ایس ایم ای، سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل کے طور پر تیار کی گئی ہے۔ اس میں مینوفیکچرنگ کے نظام، ویلیو چین، معیار اور ضابطہ جاتی تقاضوں، مہارتوں کی ترقی، مصنوعات میں اختراع، دانشورانہ املاک کے حقوق، برآمدات اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کے مواقع سے متعلق قابل عمل رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔ اس کا مقصد صنعت سے وابستہ تمام فریقین کو ملکی اور بین الاقوامی بازاروں میں اپنی مسابقت بڑھانے اور اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے میں عملی مدد فراہم کرنا ہے۔
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ حکومت کی مختلف پہل قدمیوں، جن میں بی آئی ایس سرٹیفکیشن کے ذریعے معیار کو یقینی بنانا، کلسٹر ترقیاتی پروگرام، اور ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپس کے لیے امدادی اقدامات شامل ہیں، نے کھلونا صنعت کی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے صنعت سے وابستہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اختراع، بہترین ڈیزائن، پائیداری، بڑے پیمانے پر پیداوار اور برآمدات پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ عالمی سطح پر پہچانے جانے والے بھارتی کھلونوں کے برانڈز قائم کیے جا سکیں اور بھارت کو کھلونوں کے ڈیزائن، تیاری اور برآمدات کا ایک نمایاں عالمی مرکز بنایا جا سکے۔
اجلاس کے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈی پی آئی آئی ٹی میں جوائنٹ سیکریٹری (اسکیل) ڈاکٹر کاجل نے اسٹیئرنگ کمیٹی فار ایڈوانسنگ لوکل ویلیو ایڈ اینڈ ایمپلائمنٹ ( اسکیل(ایس سی اے ایل ای) اور ریپڈ یونٹ کے کردار پر روشنی ڈالی، جو آتم نربھر بھارت کے وژن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھلونا صنعت ان اولین شعبوں میں شامل تھی جنہیں مقامی ویلیو ایڈیشن، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور برآمدات میں اضافے کی غیر معمولی صلاحیت کے باعث خصوصی توجہ کے لیے منتخب کیا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت کا کھلونا شعبہ تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور آج اس میں 21 ہزار سے زائد ایم ایس ایم ای، ڈی پی آئی آئی ٹی سے تسلیم شدہ 770 سے زیادہ کھلونا اسٹارٹ اپس، تقریباً 50 کھلونا کلسٹرز اور بی آئی ایس کے 1,800 سے زائد لائسنس یافتہ ادارے شامل ہیں۔
مباحثے کا پس منظر بیان کرتے ہوئے اسکیل کے چیئرمین ڈاکٹر پون گوئنکا نے بھارت کو کھلونوں کی تیاری کا عالمی مرکز بنانے کے وژن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کھلونا صنعت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے، جس سے بھارت کے لیے غیر معمولی مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی سپلائی چین میں تبدیلی کے موجودہ رجحان کے باعث بھارت ایک قابل اعتماد مینوفیکچرنگ اور برآمدی مرکز کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ملک کی مقامی کھلونامارکیٹ کی تیز رفتار ترقی کا بھی ذکر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ پیداوار کے حجم، اختراع، ڈیزائن کی صلاحیتوں اور برآمدی مسابقت میں اضافے کے ذریعے 2032 تک عالمی کھلونا منڈی میں بھارت کا حصہ 5 فیصد تک پہنچایا جائے گا۔
ٹوائے سیکٹر پلے بُک کے اجرا کے بعد صنعت سے وابستہ مختلف فریقین نے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ مذاکرات میں کھلونوں کی پیداوار میں وسعت، مقامی سپلائی چین کو مضبوط بنانے، ڈیزائن اور اختراع کی صلاحیتوں کو فروغ دینے، معیار کو مزید بہتر بنانے، ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے، برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور عالمی کھلونا ویلیو چین میں بھارت کی شمولیت کو بڑھانے جیسے اہم موضوعات پر غور کیا گیا۔
تقریب کا اختتام ڈی پی آئی آئی ٹی کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر سمیت جرانگل کے اظہارتشکر کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر حکومت اور صنعت دونوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مستقبل کے کھلونے صرف میڈ اِن انڈیا ہی نہیں ہوں گے بلکہ ڈیزائن اِن انڈیا، انوویٹڈ اِن انڈیا اور برانڈڈ اِن انڈیا بھی ہوں گے اور دنیا بھر میں انہیں پذیرائی حاصل ہوگی۔
******
ش ح۔ ش آ۔ ص ج
U.NO. 712
(रिलीज़ आईडी: 2290250)
आगंतुक पटल : 9