وزارت سیاحت
’’ایئر انڈیا کے ساتھ شراکت داری بھارتی سیاحت کو نئی رفتار دے گی اور سیاحوں کو مزید ہموار اور بہتر سفری تجربہ فراہم کرے گی‘‘: جناب گجیندر سنگھ شیخاوت
وزارتِ سیاحت نے بھارت کو عالمی سطح پر پسندیدہ سیاحتی منزل کے طور پر فروغ دینے کے لیے ایئر انڈیا کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کیے
اس اشتراک کا مقصد ’ناقابلِ یقین بھارت‘ (اِنکریڈیبل انڈیا) برانڈ کے تحت سیاحتی مقامات کے فروغ، سیاحت کی تشہیر اور سیاحوں کی مؤثر شمولیت کو مزید مضبوط بنانا ہے
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 6:01PM by PIB Delhi

وزارتِ سیاحت نے آج نئی دہلی میں ایئر انڈیا لمیٹڈ کے ساتھ ایک مفاہمت نامے (ایم او یو) پر دستخط کیے، جس کا مقصد ’ناقابلِ یقین بھارت‘ (اِنکریڈیبل انڈیا) برانڈ کے تحت بھارت کو عالمی سطح پر ایک پسندیدہ سیاحتی منزل کے طور پر فروغ دینے کے لیے ایک اسٹریٹجک فریم ورک قائم کرنا ہے۔
اس موقع پر منعقدہ تقریب میں سیاحت و ثقافت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے شرکت کی۔ تقریب میں وزارتِ سیاحت کے سکریٹری جناب بھونیش کمار، ایڈیشنل سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل (سیاحت) جناب سمن بلا، جوائنٹ سکریٹری جناب ہری کشور ایس، ایئر انڈیا کے چیف کمرشل آفیسر جناب نپن اگروال، ایئر انڈیا کے گروپ ہیڈ (گورننس، رسک، کمپلائنس اور کارپوریٹ امور) جناب پی بالاجی، نیز وزارتِ سیاحت اور ایئر انڈیا کے دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔
اس اشتراک کا مقصد وزارتِ سیاحت کی سیاحتی مقامات کے فروغ سے متعلق سرگرمیوں اور ایئر انڈیا کے وسیع ملکی و بین الاقوامی فضائی نیٹ ورک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عالمی سطح پر بھارت کی سیاحتی شناخت کو مزید مستحکم کرنا، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ کرنا اور بھارت کو عالمی ٹرانزٹ اور سفری مرکز کے طور پر فروغ دینا ہے۔ یہ شراکت داری غیر تجارتی، غیر پابند اور غیر انحصاری نوعیت کی ہے اور اس کے تحت کسی بھی فریق پر کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیاحت و ثقافت کے مرکزی وزیر جناب گجیندر سنگھ شیخاوت نے کہا، ’’اس شراکت داری کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایئر انڈیا کی پروازوں کے ذریعے بھارت آنے والے مسافروں کو ملک کے متنوع سیاحتی مقامات اور امکانات کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں، تاکہ وہ اپنے سفر کے دوران بھارت کو بہتر انداز میں جان سکیں اور اسے دریافت کرنے کے مزید مواقع حاصل کریں۔ اس نوعیت کے اقدامات بھارتی سیاحت کو نئی رفتار دیں گے اور سیاحوں کو مزید آسان، ہموار اور خوشگوار سفری تجربہ فراہم کریں گے‘‘۔

اس مفاہمت نامے کے تحت وزارتِ سیاحت اور ایئر انڈیا کے درمیان سیاحت کے فروغ، سیاحتی مقامات کی برانڈنگ، معلوماتی مواد کی تیاری، بین الاقوامی تشہیر اور متعلقہ شراکت داروں کی مؤثر شمولیت جیسے شعبوں میں تعاون کا ایک جامع فریم ورک وضع کیا گیا ہے۔ دونوں ادارے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارموں، عالمی نیٹ ورک اور تشہیری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو عالمی معیار کی سیاحتی منزل کے طور پر فروغ دیں گے اور بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں اضافے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں گے۔
اس اشتراک کے تحت وزارتِ سیاحت اور ایئر انڈیا، ’ناقابلِ یقین بھارت‘ (اِنکریڈیبل انڈیا) برانڈ کے تحت عالمی سطح پر مشترکہ تشہیری مہمات چلائیں گے اور ڈیجیٹل و روایتی ذرائع ابلاغ پر مشترکہ برانڈنگ اور سیاحتی مقامات کی مؤثر انداز میں پیش کش کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ ایئر انڈیا کے مسافروں سے رابطے کے مختلف ذرائع، بشمول پرواز کے دوران تفریحی پلیٹ فارم، کے ذریعے سیاحت سے متعلق معلوماتی مواد بھی تیار اور نشر کیا جائے گا۔
اس شراکت داری کے تحت بین الاقوامی مسافروں کے لیے مشترکہ برانڈنگ پر مبنی ’’وزٹ انڈیا پاس‘‘ متعارف کرانے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹرانزٹ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ایسے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا جن کے ذریعے بھارت سے گزرنے والے بین الاقوامی مسافروں کو ملک کے مختلف سیاحتی مقامات کو دیکھنے کی ترغیب دی جا سکے۔ دونوں ادارے بین الاقوامی سیاحتی میلوں، روڈ شوز، تعارفی مطالعاتی دوروں اور سیاحتی تجارتی تقریبات میں بھی مشترکہ طور پر شرکت کریں گے۔
وزارتِ سیاحت اور ایئر انڈیا ملک بھر کے سیاحتی مقامات کے فروغ کے لیے مختلف ریاستوں کے سیاحتی بورڈوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی تعاون کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ، باہمی اتفاقِ رائے اور عملی امکانات کی بنیاد پر ایئر انڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں، جن میں طیاروں کی بیرونی آرائش (لیوری)، بورڈنگ پاس اور پرواز کے دوران دستیاب ذرائع ابلاغ شامل ہیں، پر برانڈنگ کے مواقع کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
وزارتِ سیاحت اور ایئر انڈیا کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ ورکنگ گروپ اس مفاہمت نامے پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گا، تعاون کے مزید ممکنہ شعبوں کی نشاندہی کرے گا اور مجوزہ سرگرمیوں کی پیش رفت کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتا رہے گا۔

اس مفاہمت نامے کے تحت کسی بھی فریق پر کوئی مالی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ ہر ادارہ اپنے اخراجات خود برداشت کرے گا، جبکہ ضرورت کے مطابق مشترکہ سرگرمیوں پر عمل درآمد کے لیے علیحدہ منظوری اور انتظامات کیے جائیں گے۔
یہ مفاہمت نامہ نفاذ کی تاریخ سے ابتدائی طور پر دو برس تک مؤثر رہے گا، جس میں دونوں فریقوں کی باہمی رضامندی سے مزید ایک سال کی توسیع کی جا سکے گی۔
اس شراکت داری سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ عالمی سطح پر بھارت کی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک منظم اور مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرے گی، سیاحتی مقامات کی بین الاقوامی سطح پر شناخت کو مزید مستحکم بنائے گی اور مربوط تشہیری سرگرمیوں کے ذریعے بین الاقوامی سیاحوں کو بھارت کو بہتر انداز میں جاننے اور اس کے متنوع سیاحتی مقامات کی سیر کے مزید مواقع فراہم کرے گی۔
********
ش ح ۔ م م ۔ م ا
Urdu No-673
(रिलीज़ आईडी: 2290087)
आगंतुक पटल : 10