ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
مصنوعی ذہانت اور اسکل انڈیا کے اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
27 JUL 2026 3:53PM by PIB Delhi
ہنرمندی اور صنعت کاری کی ترقی (ایم ایس ڈی ای) کی وزارت کے وزیر مملکت ( آزادانہ چارج ) جناب جینت چودھری نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ حکومتِ ہند کے اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم) کے تحت ہنرمندی اور صنعت کاری کی ترقی (ایم ایس ڈی ای) کی وزارت ، ملک بھر کے تمام طبقات کو مختلف اسکیموں کے ذریعے ہنرمندی، ازسرِ نو ہنرمندی اور اعلیٰ ہنرمندی کی تربیت فراہم کرتی ہے۔ ان اسکیموں میں پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی ) ، جن شِکشن سنستھان (جے ایس ایس ) ، قومی اپرنٹس شپ فروغ اسکیم (این اے پی ایس) اور صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کے ذریعے چلائی جانے والی کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) شامل ہیں۔ اسکل انڈیا مشن (ایس آئی ایم ) کا مقصد ، بھارت کے نوجوانوں کو مستقبل کے لیے تیار کرنا اور انہیں صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتوں، بشمول ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے آراستہ کرنا ہے۔
مالی سال 23-2022 ء سے نافذ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 (پی ایم کے وی وائی 4.0 ( میں مستقبل کی مہارتوں اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) ، مشین لرننگ (ایم ایل ) ، روبوٹکس، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی ) ، ڈاٹا اینالیٹکس، سائبر سکیورٹی اور گرین ٹیکنالوجیز شامل ہیں، تاکہ نوجوانوں کو نئی اور ابھرتی ہوئی ملازمتوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
ہنرمندی اور صنعت کاری کی ترقی (ایم ایس ڈی ای) کی وزارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی ) نےہنر مندی میں اہلیت کے قومی فریم ورک (این ایس کیو ایف ( کے مطابق 170 کورسز تیار کیے ہیں، جن میں 32 نئے دور کی ہنر مندیوں /مستقبل کی ہنر مندیوں سے متعلق کورسز کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس ) کے تحت شامل ہیں۔ یہ کورسز مصنوعی ذہانت (اے آئی ) ، صنعتی روبوٹکس، سائبر سکیورٹی، گرین اسکلز اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں پر مشتمل ہیں۔ ان کا مقصد ، ملک بھر کے نوجوانوں کو ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کرنا، ان کے روزگار کے مواقع میں اضافہ کرنا اور مختلف شعبوں میں ہنرمند افرادی قوت کی بدلتی ہوئی مانگ کو پورا کرنا ہے۔ یہ کورسز ملک بھر میں قائم صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز ) اور ہنر مندی میں تربیت کے قومی اداروں (این ایس ٹی آئیز) کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے چلائے جا رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے متعلق ہنر مندی کے پروگراموں کے تحت تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعداد، سال اور ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے، ضمیمہ میں دی گئی ہے۔
مالی سال 16-2015 ء سے 22-2021 ء تک نافذ کی گئی پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) 1.0 سے 3.0 کے تحت مجموعی طور پر 1.11 کروڑ امیدواروں کو تصدیق نامے (سرٹیفکیٹ) جاری کیے گئے، جن میں سے 24.38 لاکھ امیدواروں کو اسکیم کے قلیل مدتی تربیت (ایس ٹی ٹی ) جزو کے تحت روزگار ملنے کی اطلاع دی گئی۔ مزید برآں، پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 (پی ایم کے وی وائی 4.0 ( کے تحت توجہ اس بات پر مرکوز کی گئی ہے کہ تربیت یافتہ امیدواروں کو اپنے مختلف پیشہ ورانہ راستوں کا انتخاب کرنے کے قابل بنایا جاسکے اور انہیں اس مقصد کے لیے مناسب رہنمائی فراہم کی جائے۔ لہٰذا، پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت روزگار سے متعلق اعداد و شمار کی نگرانی نہیں کی جاتی۔
اسکل انڈیا کے مختلف اقدامات کے تحت تربیت یافتہ امیدواروں کی روزگار کے قابل ہونے کی صلاحیت اور صنعت کی مانگ کا جائزہ لینے کے لیے وقتاً فوقتاً ہنر مندی میں خلاء (اسکل گیپ ) سے متعلق مطالعات کیے جاتے ہیں۔ یہ مطالعات حکومت کو ایسے اقدامات وضع کرنے میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں ، جن کے ذریعے صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنرمند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ شعبہ جاتی ہنر مندی سے متعلق کونسلوں (ایس ایس سیز ) نے الیکٹرانکس، لاجسٹکس، جدید مینوفیکچرنگ اور دیگر شعبوں میں ہنر مندی کے خلاء کے مطالعات انجام دیے ہیں، جن میں مانگ و رسد کا جائزہ اور افرادی قوت کی متوقع ضرورت کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ، ملک میں ہنرمندی کی ترقی سے متعلق اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور مختلف خطوں کی ہنر مندی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہنرمندی اور صنعت کاری کی ترقی (ایم ایس ڈی ای) کی وزارت کی اسکیموں کے تحت ، ریاستی مشن برائے ہنرمندی کی ترقی (ایس ایس ڈی ایمز ) اور ضلع سطح کی ہنر مندی سے متعلق کمیٹیوں (ڈی ایس سیز ) کی شراکت سے تربیتی پروگرام نافذ کیے جاتے ہیں۔ ضلع سطح کی ہنر مندی سے متعلق کمیٹیاں (ڈی ایس سیز ) اپنے اضلاع میں روزگار کے امکانات رکھنے والے شعبوں اور ان سے متعلق مطلوبہ ہنر مندیوں کی نشاندہی کرتی ہیں، نیز ہنرمندی کی تربیت کے لیے دستیاب سہولیات کا بھی جائزہ لیتی ہیں۔
مزید براں ، سنکلپ (روزگار کے فروغ کے لیے ہنر مندی اور معلومات سے آگاہی ) اسکیم کے تحت قومی کونسل برائے اطلاقی معاشی تحقیق (این سی اے ای آر ) کی جانب سے ایک قومی ہنر مندی کے خلاء سے متعلق مطالعہ بھی انجام دیا گیا، جس کے ذریعے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں کمپیوٹر پروگرامنگ سمیت تیزی سے ترقی کرنے والے سات شعبوں میں ہنر مندی کے خلاء کا جائزہ لینے کے لیے معیاری اور اعداد و شمار پر مبنی فریم ورک فراہم کیا گیا۔ ہنر مندی کے خلا سے متعلق یہ مطالعات حکومت کو ، ملک بھر میں صنعت کی مانگ اور مستقبل کی افرادی قوت کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی سے متعلق اقدامات کو ہم آہنگ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ حکومت کے ہنرمندی کے فروغ سے متعلق پروگرام مختلف شعبوں میں نشاندہی کیے گئے ہنر مندی کے خلا کو پُر کرنے کے لیے تیار اور نافذ کیے جاتے ہیں۔
ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں کے تحت تربیت یافتہ امیدواروں کی روزگار حاصل کرنے کی صلاحیت میں موجود خلاء کو کم کرنے کے لیے ، ہنرمندی اور صنعت کاری کی ترقی (ایم ایس ڈی ای) کی وزارت کی جانب سے درج ذیل مخصوص اقدامات کیے گئے ہیں:
- پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی قومی کونسل (این سی وی ای ٹی ) کو ایک جامع ضابطہ ساز ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (ٹی وی ای ٹی ) کے شعبے میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط اور معیارات وضع کرتا ہے۔
- این سی وی ای ٹی سے منظور شدہ تصدیق کنندہ اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صنعت کی ضروریات کے مطابق اہلیتیں تیار کریں، انہیں پیشہ سے متعلق قومی درجہ بندی ، 2015 کے مطابق شناخت شدہ پیشوں سے ہم آہنگ کریں اور صنعت سے ان کی توثیق حاصل کریں۔
- مختلف شعبوں کے صنعتی رہنماؤں کی قیادت میں 36 شعبہ جاتی ہنر مندی سےمتعلق کونسلیں (ایس ایس سیز ) قائم کی گئی ہیں، جو متعلقہ شعبوں کی ہنرمندی سے متعلق ضروریات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ مطلوبہ ہنر مندی کے معیار کا تعین بھی کرتی ہیں۔
- ہنرمندی اور صنعت کاری کی ترقی (ایم ایس ڈی ای) کی وزارت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی ) ، مفاہمتی یادداشت کی فلیکسی اسکیم (فلیکسی ایم او یو اسکیم) اور دوہرا نظامِ تربیت (ڈی ایس ٹی ) نافذ کر رہا ہے، جن کا مقصد صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز ) کے طلباء کو صنعت کی ضروریات کے مطابق صنعتی ماحول میں تربیت فراہم کرنا ہے۔
- پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی ) کے تحت نئے دور اور مستقبل کی ہنر مندیوں سے متعلق ملازمتوں کو صنعت 4.0 کی ضروریات کے مطابق مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ (اے آئی/ایم ایل ) ، روبوٹکس، میکاٹرونکس، ڈرون ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں مستقبل کی مارکیٹ اور صنعت کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی طور پر ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
- ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی ) نے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس ) کے تحت نئے دور اور مستقبل کی مہارتوں سے متعلق کورسز متعارف کرائے ہیں، تاکہ فائیو جی نیٹ ورک ٹیکنیشن، مصنوعی ذہانت پروگرامنگ اسسٹنٹ، سائبر سکیورٹی اسسٹنٹ، ڈرون ٹیکنیشن اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
- ڈی جی ٹی نے آئی بی ایم، سسکو، مائیکروسافٹ، اے ڈبلیو ایس اور دیگر انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں تاکہ ریاستی اور علاقائی سطح پر اداروں کے لیے صنعت سے مضبوط روابط قائم کیے جا سکیں۔ ان شراکت داریوں کے ذریعے جدید ٹیکنالوجیوں میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ ہنر مندیوں کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
- انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز (آئی آئی ایس ) ، جو احمد آباد اور ممبئی میں سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی ) کے تحت قائم کیے گئے ہیں، صنعت کے لیے ایسی افرادی قوت تیار کرنے کی تربیت فراہم کرتے ہیں ، جو جدید ترین ٹیکنالوجی اور عملی تربیت سے آراستہ ہو اور صنعت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیار ہو۔
- کوشل میلوں اور پردھان منتری قومی اپرنٹس شپ میلوں (پی ایم این اے ایم ) کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ تصدیق شدہ امید واروں کو روزگار اور اپرنٹس شپ کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
- حکومت نے پی ایم سیتو (پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبیلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز ) کے نام سے 60,000 کروڑ روپے کی لاگت والی مرکزی امداد یافتہ اسکیم شروع کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت ملک بھر میں 1,000 سرکاری صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کو ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے مطابق جدید بنایا جائے گا، جس میں 200 ہب آئی ٹی آئیز اور 800 اسپوک آئی ٹی آئیز شامل ہوں گے۔ پی ایم سیتو کا مقصد ، صنعت کی زیرِ قیادت حکمرانی کے ذریعے روزگار کے بہتر نتائج حاصل کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اسکیم سیکھنے والوں (بشمول ابتدائی مرحلے کے کاروباری اداروں اور پہلی بار کاروبار شروع کرنے والے افراد) کو صنعت سے متعلق مہارتیں، حقیقی کام کے ماحول کا تجربہ، پیشہ ورانہ رہنمائی، روزگار میں معاونت اور خود روزگار کے لیے سہولت فراہم کر کے، مضبوط ادارہ جاتی نظام اور صنعت سے روابط کے ذریعے بالواسطہ طور پر خود روزگار اور صنعت کاری کو بھی فروغ دیتی ہے۔
ضمیمہ
سال اور ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے 2019 ء سے اب تک مصنوعی ذہانت اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے متعلق تربیتی پروگراموں کے تحت تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعداد
(i) پی ایم کے وی وائی 4.0 :
|
ریاست / مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کا نام
|
2022-23 ء
|
2023-24 ء
|
2024-25 ء
|
2025-26 ء
|
2026-27 ء ( 30 جون ، 2026 ء تک )
|
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
-
|
-
|
-
|
30
|
-
|
|
آندھرا پردیش
|
-
|
418
|
7,569
|
841
|
1,308
|
|
اروناچل پردیش
|
-
|
-
|
1,441
|
-
|
49
|
|
آسام
|
-
|
685
|
6,015
|
189
|
1,789
|
|
بہار
|
-
|
846
|
28,590
|
1,049
|
341
|
|
چنڈی گڑھ
|
-
|
19
|
-
|
-
|
70
|
|
چھتیس گڑھ
|
-
|
64
|
2,922
|
102
|
-
|
|
دلّی
|
-
|
180
|
1,432
|
563
|
253
|
|
گوا
|
-
|
-
|
-
|
12
|
-
|
|
گجرات
|
-
|
465
|
6,377
|
327
|
371
|
|
ہریانہ
|
-
|
275
|
14,047
|
1,030
|
704
|
|
ہماچل پردیش
|
-
|
105
|
3,672
|
1,813
|
295
|
|
جموں و کشمیر
|
-
|
1,383
|
11,854
|
1,375
|
281
|
|
جھارکھنڈ
|
-
|
525
|
3,202
|
-
|
73
|
|
کرناٹک
|
-
|
694
|
24,280
|
4,259
|
681
|
|
کیرالہ
|
-
|
194
|
3,925
|
142
|
67
|
|
مدھیہ پردیش
|
-
|
3,229
|
67,064
|
5,260
|
2,588
|
|
مہاراشٹر
|
-
|
954
|
15,425
|
1,659
|
106
|
|
منی پور
|
-
|
30
|
153
|
30
|
100
|
|
میگھالیہ
|
-
|
30
|
525
|
52
|
130
|
|
میزورم
|
-
|
244
|
763
|
90
|
136
|
|
ناگالینڈ
|
-
|
72
|
454
|
50
|
115
|
|
اڈیشہ
|
-
|
407
|
4,729
|
371
|
40
|
|
پڈوچیری
|
-
|
-
|
475
|
272
|
486
|
|
پنجاب
|
-
|
630
|
22,290
|
3,356
|
12,296
|
|
راجستھان
|
-
|
1,106
|
84,144
|
2,707
|
329
|
|
سکم
|
-
|
39
|
603
|
-
|
50
|
|
تمل ناڈو
|
-
|
2,717
|
22,645
|
7,086
|
280
|
|
تلنگانہ
|
-
|
1,016
|
10,646
|
3,831
|
1,257
|
|
دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو
|
-
|
-
|
309
|
75
|
54
|
|
تری پورہ
|
-
|
13
|
1,370
|
933
|
645
|
|
اتر پردیش
|
-
|
2,079
|
88,868
|
6,672
|
5,563
|
|
اتراکھنڈ
|
-
|
351
|
7,697
|
616
|
146
|
|
مغربی بنگال
|
-
|
771
|
4,855
|
301
|
805
|
(ii) سی ٹی ایس / آئی ٹی آئیز :
|
ریاست / مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کا نام
|
2019 ء
|
2020 ء
|
2021 ء
|
2022 ء
|
2023 ء
|
2024 ء
|
2025 ء
|
|
انڈمان و نکوبار جزائر
|
10
|
5
|
8
|
5
|
24
|
41
|
40
|
|
آندھرا پردیش
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
5
|
|
اروناچل پردیش
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
21
|
|
آسام
|
0
|
0
|
0
|
20
|
112
|
70
|
99
|
|
بہار
|
32
|
111
|
17
|
143
|
209
|
434
|
491
|
|
چنڈی گڑھ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
24
|
24
|
68
|
|
چھتیس گڑھ
|
11
|
54
|
41
|
78
|
75
|
98
|
119
|
|
دلّی
|
16
|
0
|
14
|
0
|
23
|
175
|
269
|
|
گوا
|
0
|
12
|
18
|
19
|
23
|
44
|
58
|
|
گجرات
|
28
|
156
|
121
|
117
|
170
|
226
|
304
|
|
ہریانہ
|
186
|
98
|
55
|
85
|
125
|
82
|
86
|
|
ہماچل پردیش
|
64
|
131
|
62
|
174
|
139
|
168
|
116
|
|
جموں و کشمیر
|
24
|
24
|
46
|
47
|
48
|
170
|
202
|
|
جھارکھنڈ
|
8
|
19
|
46
|
34
|
391
|
368
|
587
|
|
کرناٹک
|
35
|
21
|
3282
|
5552
|
5956
|
4052
|
5826
|
|
کیرالہ
|
224
|
162
|
171
|
163
|
249
|
269
|
318
|
|
لداخ
|
0
|
0
|
10
|
19
|
20
|
16
|
18
|
|
مدھیہ پردیش
|
13
|
1
|
4
|
0
|
118
|
219
|
431
|
|
مہاراشٹر
|
195
|
145
|
210
|
322
|
650
|
785
|
3113
|
|
منی پور
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
20
|
|
میگھالیہ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
12
|
29
|
|
اڈیشہ
|
134
|
243
|
216
|
735
|
1323
|
1385
|
1876
|
|
پڈوچیری
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
27
|
|
پنجاب
|
7
|
0
|
0
|
0
|
27
|
27
|
133
|
|
راجستھان
|
82
|
33
|
67
|
82
|
194
|
329
|
385
|
|
تمل ناڈو
|
175
|
189
|
235
|
470
|
7470
|
6047
|
7082
|
|
تلنگانہ
|
64
|
8
|
36
|
134
|
566
|
3134
|
11629
|
|
دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو
|
0
|
0
|
0
|
0
|
14
|
6
|
1
|
|
تری پورہ
|
0
|
25
|
0
|
31
|
0
|
24
|
0
|
|
اتر پردیش
|
239
|
152
|
156
|
172
|
398
|
6048
|
8139
|
|
اتراکھنڈ
|
54
|
12
|
25
|
33
|
33
|
31
|
156
|
|
مغربی بنگال
|
163
|
94
|
178
|
176
|
785
|
607
|
690
|
(iii)این اے پی ایس ( شامل کئے گئے اپرنٹسز )
|
ریاست / مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کا نام
|
2019-20 ء
|
2020-21 ء
|
2021-22 ء
|
2022-23 ء
|
2023-24 ء
|
2024-25 ء
|
2025-26 ء
|
2026-27 ء
|
|
آندھرا پردیش
|
0
|
0
|
0
|
0
|
1
|
9
|
79
|
36
|
|
آسام
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
1
|
|
بہار
|
0
|
0
|
0
|
1
|
0
|
3
|
37
|
14
|
|
چنڈی گڑھ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
1
|
5
|
0
|
|
چھتیس گڑھ
|
0
|
0
|
4
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
|
دلّی
|
0
|
0
|
0
|
40
|
1
|
26
|
79
|
46
|
|
گوا
|
0
|
0
|
0
|
2
|
2
|
2
|
5
|
0
|
|
گجرات
|
0
|
7
|
56
|
120
|
514
|
892
|
1,205
|
175
|
|
ہریانہ
|
0
|
5
|
0
|
5
|
299
|
373
|
530
|
97
|
|
ہماچل پردیش
|
0
|
0
|
0
|
0
|
57
|
57
|
25
|
1
|
|
جموں و کشمیر
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
2
|
3
|
|
جھارکھنڈ
|
0
|
0
|
0
|
1
|
2
|
5
|
2
|
0
|
|
کرناٹک
|
0
|
3
|
0
|
144
|
152
|
324
|
1,895
|
181
|
|
کیرالہ
|
0
|
0
|
0
|
7
|
11
|
2
|
14
|
3
|
|
مدھیہ پردیش
|
0
|
0
|
0
|
16
|
47
|
44
|
674
|
65
|
|
مہاراشٹر
|
0
|
0
|
10
|
859
|
4,163
|
2,073
|
1,713
|
203
|
|
اڈیشہ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
2
|
4
|
119
|
28
|
|
پڈوچیری
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
6
|
0
|
0
|
|
پنجاب
|
0
|
0
|
0
|
8
|
41
|
19
|
31
|
5
|
|
راجستھان
|
0
|
0
|
0
|
0
|
20
|
213
|
726
|
49
|
|
سکم
|
0
|
0
|
0
|
0
|
0
|
1
|
1
|
0
|
|
تمل ناڈو
|
0
|
0
|
4
|
322
|
471
|
361
|
448
|
75
|
|
تلنگانہ
|
1
|
|
1
|
12
|
24
|
323
|
735
|
55
|
|
دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو
|
0
|
0
|
0
|
0
|
1
|
0
|
4
|
0
|
|
تری پورہ
|
0
|
0
|
0
|
0
|
2
|
10
|
0
|
0
|
|
اتر پردیش
|
0
|
0
|
1
|
83
|
29
|
95
|
866
|
150
|
|
اتراکھنڈ
|
0
|
0
|
1
|
6
|
162
|
148
|
244
|
44
|
|
مغربی بنگال
|
0
|
0
|
1
|
7
|
6
|
6
|
21
|
1
|
*******
( ش ح ۔ ا ک ۔ ع ا )
U.No. 659
(रिलीज़ आईडी: 2289980)
आगंतुक पटल : 12