جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کی قابل تجدید توانائی کی تنصیب شدہ صلاحیت2014 سے تقریباً چار گنا بڑھ کر 288.58 گیگاواٹ تک پہنچ گئی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 21 JUL 2026 5:14PM by PIB Delhi

ملک میں قابلِ تجدید توانائی کی تنصیب شدہ صلاحیت سال 2014 میں 76.38 گیگاواٹ سے بڑھ کر 30 جون 2026 تک 288.58 گیگاواٹ ہوگئی ہے۔ شمسی توانائی، ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کے اعتبار سے تنصیب شدہ صلاحیت کی تفصیل درج ذیل ہے:

ذرائع

نصب شدہ صلاحیت(جی ڈبلیو)

شمسی توانائی

162.15

ہوا کی طاقت

57.44

بائیو پاور

11.75

ہائیڈرو پاور

57.24

کل

288.58

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اب تک 30 جون 2026 تک ملک میں غیر حیاتیاتی ایندھن (نان فوسل فیول) پر مبنی بجلی پیدا کرنے کی مجموعی 297.36 گیگاواٹ صلاحیت نصب کی جا چکی ہے۔ اس میں 288.58 گیگاواٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت اور 8.78 گیگاواٹ جوہری توانائی کی صلاحیت شامل ہے۔

مالی سال 15-2014 سے 26-2025 تک ملک کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تقریباً 45.72 ارب امریکی ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ، مذکورہ مدت کے دوران ملکی مالیاتی اداروں (12 سرکاری شعبے کے بینک، انڈین رینیوایبل انرجی ڈیولپمنٹ ایجنسی (آئی آر ای ڈی اے)، پاور فنانس کارپوریشن (پی ایف سی)، رورل الیکٹریفیکیشن کارپوریشن (آر ای سی)، انڈیا انفراسٹرکچر فنانس کمپنی لمیٹڈ (آئی آئی ایف سی ایل)، نیشنل بینک فار فنانسنگ انفرااسٹرکچر اینڈ ڈیولپمنٹ (این اے بی ایف آئی ڈی) اور اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (ایس آئی ڈی بی آئی) نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کے لیے 12.32 لاکھ کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔

یہ معلومات نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے وزیرِ مملکت جناب شری پد یسو نائک نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

*********

 ش ح۔ک  ح۔ش ت

Urdu No-653


(ریلیز آئی ڈی: 2289909) وزیٹر کاؤنٹر : 28