سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 ہندوستان کی تقسیم تاریخ کی سب سے بڑی غلطی، پاکستان کے قبضے والے جموں و کشمیر کی واپسی ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان واحد زیر التوا مسئلہ ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

وزیر اعظم نریندر مودی نےہندوستان کی دفاعی حکمت عملی کو ردعمل سے فیصلہ کن اور پیشگی کارروائی کی پالیسی میں تبدیل کر دیا، 27 ویں کرگل وجے دیوس کے موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا بیان

کرگل وجے دیوس قوم کے اتحاد اور خودمختاری کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کی یاد دلاتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

امن، ترقی اور مضبوط قومی سلامتی نے جموں و کشمیر کی سمت بدل دی ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

प्रविष्टि तिथि: 26 JUL 2026 5:27PM by PIB Delhi

سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت  جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہندوستان کی تقسیم کو ’’تاریخ کی سب سے بڑی غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اب صرف ایک ہی زیر التوا مسئلہ باقی ہے اور وہ پاکستان کے قبضے والے جموں و کشمیر کی واپسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی آئی ہے اور بیرونی جارحیت کے خلاف ہندوستان کا ردعمل اب دفاعی نہیں بلکہ فیصلہ کن، پیشگی اور مضبوط عزم پر مبنی ہو چکا ہے۔

جناب  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نئی دہلی کے کشمیری ثقافتی مرکز میں جموں و کشمیر پیپلز فورم اور میرپور بلیدان بھون سمیتی کے ذیلی ادارے پی او جے کے یوتھ فورم کے اشتراک سے منعقدہ 27ویں کرگل وجے دیوس تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ محترمہ بانسوری سوراج مہمان خصوصی تھیں، جبکہ کرگل جنگ کے سابق فوجی کرنل کے کے شرما (ایس سی، ایس ایم اینڈ بار) نے تقریب کی صدارت کی۔ پروگرام کا انعقاد جموں و کشمیر پیپلز فورم کے کنوینر مہندر مہتا کی قیادت میں 1999 کی کرگل جنگ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ کرگل وجے دیوس صرف یادگار تقریب نہیں بلکہ قومی عزم کی تجدید کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہندوستانی مسلح افواج کی بے مثال بہادری اور ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرگل جنگ سے حاصل ہونے والے سبق آج بھی اتنے ہی اہم ہیں کیونکہ ملک کو درپیش چیلنج مسلسل بیداری اور قومی اتحاد کا تقاضا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کرگل جنگ کو صرف 1999 کے تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا بلکہ یہ تقسیم ہند سے شروع ہونے والے تاریخی سلسلے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کیا، بے پناہ انسانی المیے کو جنم دیا اور 1947، 1965، 1971 اور کرگل کی جنگوں کے ساتھ ساتھ سرحد پار دہشت گردی اور پراکسی جنگ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کی بے دخلی کو بھی آزاد ہندوستان کے بدترین انسانی سانحات میں شمار کیا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہندوستان نے قومی سلامتی کے حوالے سے اپنی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔ حکومت نے دہشت گردی کو قطعی برداشت نہ کرنے کی پالیسی اختیار کی، سرحدی انتظام وانصرام کو مضبوط بنایا اور ردعمل پر مبنی سلامتی کے نظریے کی جگہ پیشگی اور فیصلہ کن حکمت عملی اپنائی، جس سے ملک کا اعتماد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ امن اور ترقی ایک دوسرے کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی غیر معمولی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وادی کشمیر تک ریلوے رابطہ، دنیا کا بلند ترین ریلوے پل، نئے ایمس ادارے، طویل عرصے سے زیر التوا آبپاشی منصوبے اور تیز رفتار ترقیاتی اقدامات نے عوام کی زندگی بہتر بنائی اور اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ ان کے مطابق پائیدار امن نے ترقی کی راہ ہموار کی ہے اور ترقی خود بھی دیرپا استحکام کا ذریعہ بن گئی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دفاعی سازوسامان کی مقامی سطح پر تیاری میں خود کفالت نے بھی قومی سلامتی کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے دفاعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا، جدید دفاعی صلاحیتیں حاصل کیں اور اب دفاعی سازوسامان برآمد کرنے والے اہم ممالک میں شامل ہو رہا ہے، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک کی تکنیکی ترقی اور تزویراتی اعتماد کا مظہر ہے۔

کنٹرول لائن کے اُس پار کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ترقی کی رفتار پاکستان کے قبضے والے جموں و کشمیر کے عوام کے لیے بھی باعث تحریک بن رہی ہے۔ انہوں نے 1994 کی پارلیمانی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پاکستان کے قبضے والے جموں و کشمیر کی واپسی کے علاوہ کوئی مسئلہ باقی نہیں ہے اور یہ علاقہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔

کرگل جنگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے  جناب ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ان کی بہادری، حب الوطنی اور بے لوث قربانی سے سبق حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ کرگل کا جذبہ آج بھی ہر ہندوستانی کو ایک مضبوط، محفوظ، خود کفیل اور ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے لیے کام کرنے اور ملک کے اتحاد، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے عزم پر قائم رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔

 

 

************

 

 

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  616)


(रिलीज़ आईडी: 2289696) आगंतुक पटल : 11
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Marathi , Gujarati , Tamil