عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
حکومت ملازمین کی تنظیموں کے ساتھ باقائدہ مکالمے اور تعمیری مشاورتوں کے ذریعہ رابطہ کرنے کے لیے پابند عہد ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
تقریباً تین دہائیوں سے زیر التوا دیرینہ سروس شکایات کو شفاف اور ملازمین پر مرتکز حکمرانی کے ذریعہ حل کیا گیا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے سروس اصلاحات اور ملازمین کی فلاح و بہبود سے متعلق ڈاک ملازمین کی فیڈریشن کے ساتھ بات چیت کی
ڈاک ملازمین کی فیڈریشن نے طویل عرصے سے زیر التوار سروس کے مسائل کے حل کی ستائش کی
प्रविष्टि तिथि:
25 JUL 2026 3:19PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و تکنالوجی، ارضیاتی علوم، اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ حکومت باقاعدہ گفتگو اور تعمیری مشاورت کے ذریعے ملازمین کی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کے لیے پرعزم ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور ملازمین کی بہبود پر حکومت کی غیر متزلزل توجہ کے نتیجے میں ملازمت سے متعلق کئی ایسی دیرینہ شکایات کا ازالہ ہوا ہے جو تقریباً 25 سے 30 سالوں سے زیر التوا تھیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کا فوری جواب دینے والے طرزِ حکومت، بروقت فیصلہ سازی اور مستقل انتظامی اصلاحات نے شکایات کے ازالے کو عوامی انتظامیہ کے ایک اہم ستون میں تبدیل کر دیا ہے، جس سے اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے طویل عرصے سے زیر التوا مسائل کو منصفانہ، قانون کے مطابق اور مقررہ وقت کے اندر حل کیا جائے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ان خیالات کا اظہار نئی دہلی میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بھارتیہ مزدور سنگھ سے منسلک، 'بھارتیہ پوسٹل ایمپلائز فیڈریشن' (بی پی ای ایف) کے ایک 12 رکنی وفد سے گفتگو کے دوران کیا، جس کی قیادت اس کے جنرل سکریٹری شری اننت کمار پال کر رہے تھے۔ اس وفد میں بہار، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش اور کئی دیگر ریاستوں کے ڈاک ملازمین کے نمائندے شامل تھے، جو فیڈریشن کی آل انڈیا نمائندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
وفد نے ڈاک ملازمین سے متعلق وسیع تر مسائل پر تبادلہ خیال کیا، جن میں ملازمت کے معاملات، ملازمین کی بہبود، تنظیم کی منظوری سے متعلق امور اور زیر التوا انتظامی و قانونی معاملات کے تیز تر حل کی ضرورت شامل تھی۔ وفد نے ان مسائل پر بھی روشنی ڈالی جن کے لیے مختلف محکموں کے درمیان باہمی ہم آہنگی کی ضرورت ہے، اور طے شدہ قانونی و انتظامی دائرہ کار کے اندر ملازمین کے جائز تحفظات کو دور کرنے کے لیے مسلسل تعاون کی درخواست کی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ حکومت باقاعدہ گفتگو اور تعمیری مشاورت کے ذریعے ملازمین کی تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر جائز نمائندگی کا جائزہ قابلیت کی بنیاد پر اور لاگو قوانین و ضوابط کے مطابق لیا جاتا ہے، جبکہ ایسے معاملات جن میں متعدد وزارتیں اور محکمے شامل ہوں، ان میں قانونی طور پر درست، شفاف اور پائیدار نتائج کو یقینی بنانے کے لیے وسیع تر ادارہ جاتی مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے ملازمین کے نمائندوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مستند تجاویز اور فیڈ بیک کا تبادلہ جاری رکھیں۔
وفد کے اراکین نے انتظامی اصلاحات پر حکومت کی مسلسل توجہ کی تعریف کی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ سروس سے متعلق کئی ایسے طویل عرصے سے زیر التوا معاملات اور ملازمین کی شکایات، جو دہائیوں سے حل طلب تھیں، انہیں حالیہ برسوں میں خصوصی توجہ ملی ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ شکایات کے ازالے کے طریقہ کار میں بہتری، شفافیت اور انتظامی ردعمل نے نظام پر ملازمین کے اعتماد کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔
وفد نے انتظامی اصلاحات اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر کے ذریعے شفاف، جوابدہ اور عوامی مرکز (شہریوں پر مرکوز) طرزِ حکومت کو فروغ دینے میں محکمہ عملہ اور تربیت (ڈی او پی ٹی) کے کردار کی بھی تعریف کی۔ نمائندوں نے ملازمین کی تنظیموں کے ساتھ کھلا اور مشاورت پر مبنی رویہ برقرار رکھنے پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ حکومت ملک بھر میں ملازمین کی بہبود، انتظامی کارکردگی اور اچھی حکمرانی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سروس سے متعلق جائز تحفظات کو دور کرنا جاری رکھے گی۔

تصویر: ’’بھارتیہ مزدور سنگھ‘‘ (بی ایم ایس) سے منظور شدہ ’’بھارتیہ ڈاک ملازمین کی فیڈریشن‘‘ کا وفد سنیچر کے روز نئی دہلی میں مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کے دوران



***
ش ح –ا ب ن
U.No:577
(रिलीज़ आईडी: 2289371)
आगंतुक पटल : 10