خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کی جانب سے مشن پوشن 2.0 کے تحت غذائیت بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 1:59PM by PIB Delhi

ملک میں غذائی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے آنگن واڑی خدمات، پوشن ابھیان اور خواہش مند اضلاع اور شمال مشرقی خطے کی 14 سے 18 سال عمر کی نوعمر لڑکیوں کی اسکیم کو یکجا کر کے مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 (مشن پوشن 2.0) کے تحت شامل کیا گیا ہے۔

یہ ایک مرکزی معاونت یافتہ مشن ہے، جس کے مختلف پروگراموں پر عمل درآمد کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر عائد ہے۔ اس مشن پر ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں عمل کیا جا رہا ہے۔

مالی سال 2025-26 کے لیے مشن پوشن 2.0 کے تحت 21,960 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے 'پوشن ٹریکر' نامی ایک آئی سی ٹی  پر مبنی ڈیجیٹل ایپ بھی متعارف کرائی ہے، جس کے ذریعے آنگن واڑی مراکز آنگن واڑی کارکنان اور مستحقین سے متعلق تمام سرگرمیوں کی مقررہ اشاریوں کی بنیاد پر نگرانی اور جائزہ لیا جاتا ہے۔

پوشن ٹریکر کی ٹیکنالوجی کی مدد سے پانچ سال سے کم عمر بچوں میں قد کی کمی، شدید دبلا پن  اور کم وزن  جیسے مسائل کی بروقت اور متحرک انداز میں نشاندہی کی جا رہی ہے۔

ملک کی مختلف ریاستوں میں غذائیت سے متعلق اشاریوں کی معلومات پوشن ٹریکر کے عوامی ڈیش بورڈ پر دستیاب ہیں۔

سیمپل رجسٹریشن سسٹم – رجسٹرار جنرل آف انڈیا  کی جانب سے جاری کردہ 2021 تا 2023 کی کے مطابق، غذائی قلت کو بچوں کی اموات کی براہِ راست وجہ قرار نہیں دیا گیا ہے، تاہم یہ جسم کی قوتِ مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے، جس کے باعث بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اس سے بچوں میں بیماری اور اموات کے امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

مشن پوشن 2.0 کے تحت خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے ملک میں غذائیت کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

6 ماہ سے 6 سال تک کے بچوں، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور نوعمر لڑکیوں کو قومی غذائی تحفظ قانون 2013 کے شیڈول-II میں مقررہ غذائی معیارات کے مطابق اضافی غذائیت  فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ شدید غذائی قلت  کے شکار بچوں کو ٹیک ہوم راشن کی صورت میں اضافی غذائیت بھی دی جاتی ہے۔

اس مشن کے اہم اقدامات میں کمیونٹی کی شمولیت اور عوامی بیداری بھی شامل ہے۔ بہتر غذائی عادات کو فروغ دینے اور لوگوں کے رویّوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے جن آندولن کے تحت ہر سال پوشن ماہ اور سال میں دو مرتبہ پوشن پکھواڑا منایا جاتا ہے، جن کے ذریعے غذائیت سے متعلق آگاہی مہم چلائی جاتی ہے۔

خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت اور وزارتِ صحت و خاندانی بہبود نے مشترکہ طور پر بچوں میں غذائی قلت کے انتظام و علاج سے متعلق رہنما اصول  جاری کیے ہیں، تاکہ شدید غذائی قلت کی بروقت روک تھام، علاج اور اس سے وابستہ بیماریوں اور اموات میں کمی لائی جا سکے۔

متوازن غذا اور مقامی سطح پر دستیاب غذائیت سے بھرپور اشیائے خوراک کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے آنگن واڑی مراکز میں پوشن واٹیکا (غذائی باغ) قائم کیے گئے ہیں۔

وزارتِ صحت و خاندانی بہبود، قومی صحت مشن  کے تحت تولیدی، زچگی، نوزائیدہ، بچوں، نوعمر افراد کی صحت اور غذائیت حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہے۔ اس جامع حکمتِ عملی میں ملک بھر میں نوعمر لڑکیوں، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف اقدامات شامل ہیں۔

ان اقدامات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

غذائیت اور ماں و بچے کی صحت بہتر بنانے کے لیے دیگر اہم اقدامات

ملک میں غذائی قلت اور خون کی کمی سے نمٹنے کے لیے قومی صحت مشن کے تحت درج ذیل اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں:

  • انیمیا مکت بھارت: اس پروگرام کے ذریعے خون کی کمی (انیمیا) کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے 7×7×7 حکمتِ عملی پر عمل کیا جا رہا ہے، جس کے تحت سات مختلف عمر کے مستحق گروپوں کے لیے سات اہم مداخلتیں مضبوط ادارہ جاتی نظام کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہیں۔
  • نیوٹریشن ری ہیبلیٹیشن سینٹرز ان مراکز میں پانچ سال سے کم عمر ایسے بچوں کو، جو درمیانی یا شدید غذائی قلت کا شکار ہوں اور طبی پیچیدگیوں میں مبتلا ہوں، اسپتال میں داخل کر کے طبی علاج اور غذائی نگہداشت فراہم کی جاتی ہے۔
  • مدرز ابسولیوٹ افیکشن پروگرام: اس پروگرام کا مقصد بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی شرح میں اضافہ کرنا اور دودھ پلانے کی اہمیت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔
  • لیکٹیشن مینجمنٹ سینٹرز: ان مراکز کے ذریعے نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹس) اور خصوصی نوزائیدہ نگہداشت یونٹس میں زیر علاج بیمار، قبل از وقت پیدا ہونے والے اور کم وزن والے بچوں کے لیے محفوظ اور جراثیم سے پاک ڈونر ماں کے دودھ کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

قومی کرم کشی مہم): اس مہم کے تحت بچوں کو البینڈازول گولیاں دی جاتی ہیں، تاکہ مٹی سے منتقل ہونے والے آنتوں کے کیڑوں (کے انفیکشن پر قابو پایا جا سکے۔

گاؤں کی صحت، صفائی اور غذائیت کا دن: اس موقع پر ماؤں اور بچوں کو صحت سے متعلق مختلف خدمات فراہم کی جاتی ہیں، ساتھ ہی حمل، زچگی، بچوں کی دیکھ بھال اور غذائیت کے بارے میں عوام میں بیداری بھی پیدا کی جاتی ہے۔

یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیرمملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔

 

ش ح۔ ش ت۔ ج

uno-504


(रिलीज़ आईडी: 2289092) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Tamil