کیمیائی صنعتوں اور کھاد کی وزارت: کھاد سے متعلق محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

مغربی ایشیا کی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے درمیان حکومت نے کھاد کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے


متنوع عالمی ذرائع سے حصول، طویل مدتی فراہمی کے انتظامات اور مسلسل نگرانی سے کھاد کی مناسب دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے

اہم صنعتی کیمیکلز کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کا بھی نفاظ

प्रविष्टि तिथि: 24 JUL 2026 4:01PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے مغربی ایشیا میں جغرافیائی سیاسی تنازعے کے باعث پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باوجود ملک کی کھاد کی سپلائی چین کو محفوظ بنانے اور کھادوں کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔ سال26-2025 کے دوران تنازعے نے کھادوں اور اہم خام مال کی عالمی سپلائی چینز کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں مال برداری اور بیمہ کے اخراجات میں اضافہ، ترسیل میں تاخیر اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پیدا ہوا۔ ہندوستان کی امونیا، فاسفورک ایسڈ اور سلفر کی درآمدات خاص طور پر متاثر ہوئیں، جبکہ عالمی لاجسٹک رکاوٹوں کے باعث پوٹاش کی درآمدات کی لاگت میں بھی اضافہ ہوا۔ ان چیلنجز کے باوجود، متنوع ذرائع سے حصول اور حکومت کی بروقت مداخلت کے ذریعے ملک میں کھادوں کی دستیابی بڑی حد تک مناسب رہی۔

حکومت نے عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں سے پیدا ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لیے درآمدی ذرائع کو متنوع بنانے کی مسلسل کوششیں کی ہیں۔ کیے گئے اقدامات میں شامل ہیں:

  • ہندوستانا کھاد کمپنیوں اور بیرونِ ملک سپلائرز کے درمیان طویل مدتی تجارتی انتظامات کو آسان بنانا تاکہ کھاد کی فراہمی کے تحفظ کو مضبوط کیا جا سکے۔
  • بیرون ملک ہندوستانی مشنز کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے مختلف ممالک سے متبادل سپلائی ذرائع کی نشاندہی اور تلاش کرنا، جس سے محدود تعداد میں سپلائرز پر انحصار کم ہو اور کھاد کی سپلائی چین کی مضبوطی میں اضافہ ہو۔
  • کھاد کی صنعت کی جانب سے صنعت کے ارکان کے کنسورشیم کے ذریعے کھادوں اور امونیا اور سلفر جیسے خام مال کی مشترکہ خریداری، جس کا مقصد شفاف قیمتوں کے تعین کو یقینی بنانا، عالمی سپلائرز کے ساتھ بہتر گفت و شنید کی طاقت حاصل کرنا اور خام مال کی بروقت دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔

حکومت ہر فصل کے موسم میں کھادوں کی بروقت اور مناسب دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط نظام نافذ کر رہی ہے۔ ہر موسم کے آغاز سے پہلے محکمہ زراعت و کسان بہبود (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو) ریاستی حکومتوں سے مشاورت کے بعد، ریاست وار اور ماہ وار کھاد کی ضروریات کا جائزہ لیتا ہے۔ ان تخمینوں کی بنیاد پر محکمہ کھاد ماہانہ فراہمی کے منصوبے جاری کرتا ہے، مربوط کھاد انتظامی نظام (آئی ایف ایم ایس)کے ذریعے کھادوں کی نقل و حرکت کی مسلسل نگرانی کرتا ہے اور ریاستی محکمہ زراعت کے حکام کے ساتھ باقاعدگی سے ہفتہ وار ویڈیو کانفرنسز منعقد کرتا ہے تاکہ دستیابی کا جائزہ لیا جا سکے اور جہاں ضرورت ہو وہاں اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔ ریاستوں کے اندر کھادوں کی تقسیم متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔

ان اقدامات کے نتیجے میں مالی سال26-2025 کے دوران اور جاری خریف 2026 کے سیزن میں ملک بھر میں یوریا، ڈی اے پی، ایم او پی اور این پی کے ایس کی مناسب دستیابی برقرار رکھی گئی ہے۔ کھاد کی ضرورت، دستیابی، فروخت اور اختتامی ذخائر سے متعلق تفصیلی معلومات درج ذیل فراہم کی گئی ہیں۔

ملک گیر

جاری خریف 2026 کے دوران کھادیں (01.04.2026 سے 19.07.2026 تک)

اعداد و شمار لاکھ میٹرک ٹن (ایل ایم ٹی) میں

نمبر شمار

پیداوار

ضرورت

دستیابی

ڈی بی ٹی سیلز

19.07.2026 تک اختتامی ذخیرہ

1

یوریا

109.40

163.78

94.78

69.01

2

ڈی اے پی

31.57

39.54

22.82

16.72

3

ایم او پی

10.06

13.81

5.20

8.63

4

این پی کے ایس

48.48

84.57

39.36

45.21

مالی سال 2025-26 کے دوران کھادیں

نمبر شمار

پیداوار

ضرورت

دستیابی

ڈی بی ٹی سیلز

 31.03.26تک اختتامی ذخیرہ

1

یوریا

381.45

450.79

396.60

54.22

2

ڈی اے پی

110.42

121.72

100.80

20.93

3

ایم او پی

26.82

30.58

22.56

8.01

4

این پی کے ایس

158.49

198.97

150.37

48.59

1. مناسب دستیابی کا بنیادی اشاریہ: دستیابی > ضرورت

2. مناسب دستیابی کا ثانوی اشاریہ: دستیابی > فروخت

اس کے علاوہ  فاسفیٹک اور پوٹاشی(پی اینڈ کے) کھادوں کے حوالے سے حکومت نے یکم اپریل 2010 سے غذائی اجزا پر مبنی سبسڈی (این بی ایس) اسکیم نافذ کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت پی اینڈ کے)کھادوں کو اوپن جنرل لائسنس(او جی ایل) کے دائرے میں رکھا گیا ہے اور کمپنیاں اپنی کاروباری ضروریات کے مطابق ان کھادوں کو درآمد یا تیار کرنے کے لیے آزاد ہیں، جس سے مناسب فراہمی برقرار رکھنے میں لچک پیدا ہوتی ہے۔

حکومت نے مغربی ایشیا میں جاری تنازعے کے باعث پیدا ہونے والے سپلائی چین کے کچھ خطرات کی نشاندہی کی ہے، خاص طور پر صنعتی کیمیکلز اور ان خام مال کے حوالے سے جو ادویہ سازی کی صنعت میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان میں آئسوپروپل الکحل (آئی پی اے)، امونیا اور میتھانول جیسے اجزا کی عارضی قلت اور قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔ ان خطرات کو کم کرنے اور دواسازی کی پیداوار کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے متعدد ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے تعاون سے پروپائلین کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے اس کی تقسیم میں سہولت فراہم کرنا، آئسوپروپل الکحل(آئی پی اے) اور پروپائلین گلائکول کی دستیابی میں اضافہ کرنا، دواسازی کی صنعتوں کو اضافی امونیا کی فراہمی میں سہولت دینا اور موجودہ تاجروں کے ذریعے بہتر میتھانول سپلائی کو یقینی بنانا اور ملکی مینوفیکچررز کے تعاون سے متبادل سپلائی ذرائع میں اضافہ کرنا شامل ہے۔

حکومت دواسازی، پیٹروکیمیکل، پانی کی صفائی اور مینوفیکچرنگ صنعتوں سمیت اہم شعبوں میں استعمال ہونے والے صنعتی کیمیکلز کی دستیابی اور سپلائی چین کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے پیشِ نظر، مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے 40 ضروری کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز پر عائد کسٹمز ڈیوٹی کو 15 جولائی 2026 تک صفر کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے کیمیکلز اور پیٹروکیمیکلز کے محکمے کے ذریعے لینئر الکائل بینزین (ایل اے بی)، بُٹائل ایکریلیٹ اور مورفولین پر کوالٹی کنٹرول آرڈرز (کیو سی او ایسز)کی معطلی کے اقدامات بھی کیے ہیں تاکہ اہم کیمیکلز کے درآمدی ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے۔

 

یہ معلومات کیمیکلز اور کھادوں کے عزت مآب مرکزی وزیرجناب جگت پرکاش نڈا نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔

 

*****

ش ح۔ م ع ن

U.No. 541


(रिलीज़ आईडी: 2289085) आगंतुक पटल : 9
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Gujarati , Tamil , Telugu