ریلوے کی وزارت
فضلہ کے انتظام سے متعلق امور کی نگرانی اور مؤثر نظم و نسق کیلئے ریلوے ڈویژنوں، زونل ریلوے اور ریلوے بورڈ میں ماحولیات اور ہاؤس کیپنگ کے علیحدہ محکمے قائم: ریلوے وزیر
طویل فاصلے کی 1,450 جوڑی ٹرینوں میں آغاز سے اختتام تک صفائی اور حفظان صحت کو یقینی بنانے کے لیے آن بورڈ ہاؤس کیپنگ سروس دستیاب
تریسٹھ اسٹیشنوں پر 'کلین ٹرین اسٹیشن اسکیم' نافذ، جس کے تحت 2,800 ٹرینوں کا احاطہ کیا گیا، تاکہ کوچز کی بہتر صفائی، حفظان صحت میں بہتری اور مسافروں کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے
سائنسی انداز میں فضلہ کی پروسیسنگ اور ماحول دوست ویسٹ مینجمنٹ کو فروغ دینے کے لیے انڈین ریلوے نے اسٹیشنوں پر 13 بایو گیس پلانٹس، 171 کمپوسٹنگ پلانٹس اور 8 میٹریل ریکوری فیسلٹیز قائم کی ہیں
प्रविष्टि तिथि:
24 JUL 2026 4:37PM by PIB Delhi
انڈین ریلوے نے ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنوں سے پیدا ہونے والے کچرے کی جمع آوری، پراسیسنگ اور محفوظ تلفی کے لیے ایک جامع نظام اختیار کیا ہے۔ اسٹیشنوں پر کچرے کو ابتدا ہی میں الگ کرنے اور جمع کرنے کے لیے دوہری ڈسٹ بن (ٹوءن ڈسٹبن)نصب کیے گئے ہیں۔ ٹرینوں سے پیدا ہونے والا کچرا مقررہ وقفوں پر نامزد ویسٹ ہینڈلنگ اسٹیشنوں پر جمع کیا جاتا ہے۔ ان اسٹیشنوں نے کچرے کی مناسب تلفی کے لیے شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) اور میونسپل اتھارٹیز کے ساتھ اشتراک کیا ہوا ہے۔
مزید برآں، انڈین ریلوے نے عملی ضروریات کے مطابق مختلف اسٹیشنوں پر بایو گیس پلانٹس، کمپوسٹنگ پلانٹس اور پلاسٹک بوتلیں کچلنے والی مشینیں(پی بی سی ایم) بھی قائم کی ہیں تاکہ کچرے کی سائنسی بنیادوں پر پروسیسنگ کو فروغ دیا جا سکے۔ ان سہولیات کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
|
نمبر
|
پلانٹ کی قسم
|
شروع کیے گئے پلانٹس کی تعداد
|
نصب شدہ صلاحیت
|
|
1
|
بائیو گیس پلانٹ
|
13
|
5,095 کلوگرام فی دن
|
|
2
|
کمپوسٹ پلانٹ
|
171
|
24,817 کلوگرام فی دن
|
|
3
|
مواد کی بازیابی کی سہولت
|
08
|
7,725 کلوگرام فی دن
|
|
4
|
پلاسٹک کی بوتل کرشنگ مشینیں
|
858 مشینیں
|
سال 2026 کے نئے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رولز(ایس ڈبلیو ایم آر)- 2026 کے نفاذ اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق انڈین ریلوے نے اپنے تمام اداروں میں ٹھوس کچرے کے مؤثر انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔ریلوے بورڈ نے ٹھوس کچرے کے انتظام(ایس ڈبلیو ایم) کے لیے ایک معیاری عملی طریق کار (ایس او پی) جاری کیا ہے، جس میں ریلوے اسٹیشنوں، ٹرینوں، ریلوے کالونیوں، اسپتالوں، ورکشاپس، پروڈکشن یونٹس اور ریلوے کے دیگر تمام اداروں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس ایس او پی میں کچرے کی علیحدگی، جمع آوری، نقل و حمل، پروسیسنگ، سائنسی بنیادوں پر تلفی، نگرانی کے نظام اور تمام انتظامی سطحوں پر ذمہ داریوں کی واضح وضاحت کی گئی ہے۔
زونل ریلوے نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رولز- 2026 کے تحت ان اداروں کی نشاندہی کا عمل شروع کر دیا ہے جو زیادہ مقدار میں کچرا پیدا کرنے والے(بی ڈبلیو جی) کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ انڈین ریلوے کے تمام اداروں اور ٹرینوں میں موجودہ کچرے کی مقدار اور نوعیت کا جائزہ لینے کے لیے " موجودہ کچرے کی خصوصیات اور مقدار کا مطالعہ موجودہ حالت میں " بھی شروع کی جا رہی ہے۔
زونل ریلوے نے ویسٹ مینجمنٹ کے لیے جامع منصوبے تیار کرنے، وقتاً فوقتاً آڈٹ کرنے، عمل درآمد کی نگرانی کرنے اور ریلوے بورڈ کو باقاعدگی سے تعمیلی رپورٹس بھیجنے کے لیے خصوصی نوڈل افسران (این او) بھی مقرر کیے ہیں۔ اسی طرح ڈویژنوں کو بھی مؤثر ویسٹ مینجمنٹ کے لیے عملی منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ فضلہ کے انتظام سے متعلق امور کی نگرانی اور ان پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ڈویژنوں، زونل ریلوے اور ریلوے بورڈ کی سطح پر ماحولیات اور ہاؤس کیپنگ مینجمنٹ (این این ایچ ایم) کے علیحدہ محکمے قائم کیے گئے ہیں۔
ٹرینوں میں آغاز سے اختتام تک صفائی اور حفظان صحت کو یقینی بنانے کے لیے آن بورڈ ہاؤس کیپنگ سروس (او بی ایچ ایس)فراہم کی جا رہی ہے، جو اس وقت 1,450 جوڑی طویل فاصلے کی منتخب ٹرینوں میں دستیاب ہے۔
اسی طرح کلین ٹرین اسٹیشن (سی ٹی ایس) اسکیم کے تحت 63 ریلوے اسٹیشنوں پر 2,800 ٹرینوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت صفائی کے آلات سے لیس ایک خصوصی ٹیم ٹرین کے اسٹیشن پر قیام کے دوران کوچز کے بیت الخلاؤں اور واش بیسنز کی صفائی کرتی ہے اور ٹرینوں میں نصب ڈسٹ بنوں سے کچرا بھی جمع کرتی ہے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی، اشونی ویشنو نے آج ایوان بالا-راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
UR- 434
ش ح۔ ظ الف – ر ض
(रिलीज़ आईडी: 2289064)
आगंतुक पटल : 7